حدیث نمبر: 2901
حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، وَاللَّفْظُ لِزُهَيْرٍ ، وَابْنُ أَبِي عُمَرَ الْمَكِّيُّ ، قَالَ إِسْحَاقُ : أَخْبَرَنَا ، وقَالَ الْآخَرَانِ : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ فُرَاتٍ الْقَزَّازِ ، عَنْ أَبِي الطُّفَيْلِ ، عَنْ حُذَيْفَةَ بْنِ أَسِيدٍ الْغِفَارِيِّ ، قَالَ : اطَّلَعَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَيْنَا وَنَحْنُ نَتَذَاكَرُ ، فَقَالَ : " مَا تَذَاكَرُونَ ؟ " ، قَالُوا : نَذْكُرُ السَّاعَةَ ، قَالَ : " إِنَّهَا لَنْ تَقُومَ حَتَّى تَرَوْنَ قَبْلَهَا عَشْرَ آيَاتٍ ، فَذَكَرَ الدُّخَانَ ، وَالدَّجَّالَ ، وَالدَّابَّةَ ، وَطُلُوعَ الشَّمْسِ مِنْ مَغْرِبِهَا ، وَنُزُولَ عِيسَى ابْنِ مَرْيَمَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَيَأَجُوجَ وَمَأْجُوجَ ، وَثَلَاثَةَ خُسُوفٍ خَسْفٌ بِالْمَشْرِقِ ، وَخَسْفٌ بِالْمَغْرِبِ ، وَخَسْفٌ بِجَزِيرَةِ الْعَرَبِ ، وَآخِرُ ذَلِكَ نَارٌ تَخْرُجُ مِنْ الْيَمَنِ تَطْرُدُ النَّاسَ إِلَى مَحْشَرِهِمْ " .

سفیان بن عینیہ نے فرات قزاز سے، انہوں نے ابوطفیل رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے حضرت حذیفہ بن اسید غفاری رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس آئے اور ہم باتیں کر رہے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم کیا باتیں کر رہے ہو؟ ہم نے کہا کہ قیامت کا ذکر کرتے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ قیامت قائم نہ ہو گی جب تک کہ دس نشانیاں اس سے پہلے نہیں دیکھ لو گے۔ پھر ذکر کیا دھوئیں کا، دجال کا، زمین کے جانور کا، سورج کے مغرب سے نکلنے کا، عیسیٰ علیہ السلام کے اترنے کا، یاجوج ماجوج کے نکلنے کا، تین جگہ خسف کا یعنی زمین کا دھنسنا، ایک مشرق میں، دوسرے مغرب میں، تیسرے جزیرہ عرب میں۔ اور ان سب نشانیوں کے بعد ایک آگ پیدا ہو گی، جو یمن سے نکلے گی اور لوگوں کو ہانکتی ہوئی ان کے (میدان) محشر کی طرف لے جائے گی۔

حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ الْعَنْبَرِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ فُرَاتٍ الْقَزَّازِ ، عَنْ أَبِي الطُّفَيْلِ ، عَنْ أَبِي سَرِيحَةَ حُذَيْفَةَ بْنِ أَسِيدٍ ، قَالَ : كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي غُرْفَةٍ ، وَنَحْنُ أَسْفَلَ مِنْهُ ، فَاطَّلَعَ إِلَيْنَا ، فَقَالَ : " مَا تَذْكُرُونَ ؟ " ، قُلْنَا : السَّاعَةَ ، قَالَ : " إِنَّ السَّاعَةَ لَا تَكُونُ حَتَّى تَكُونَ عَشْرُ آيَاتٍ خَسْفٌ بِالْمَشْرِقِ ، وَخَسْفٌ بِالْمَغْرِبِ ، وَخَسْفٌ فِي جَزِيرَةِ الْعَرَبِ ، وَالدُّخَانُ ، وَالدَّجَّالُ ، وَدَابَّةُ الْأَرْضِ ، وَيَأْجُوجُ وَمَأْجُوجُ ، وَطُلُوعُ الشَّمْسِ مِنْ مَغْرِبِهَا ، وَنَارٌ تَخْرُجُ مِنْ قُعْرَةِ عَدَنٍ تَرْحَلُ النَّاسَ " ، قَالَ شُعْبَةُ : وَحَدَّثَنِي عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ رُفَيْعٍ ، عَنْ أَبِي الطُّفَيْلِ ، عَنْ أَبِي سَرِيحَةَ ، مِثْلَ ذَلِكَ لَا يَذْكُرُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وقَالَ أَحَدُهُمَا فِي الْعَاشِرَةِ نُزُولُ عِيسَى ابْنِ مَرْيَمَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وقَالَ الْآخَرُ : وَرِيحٌ تُلْقِي النَّاسَ فِي الْبَحْرِ ،

عبیداللہ بن معاذ عنبری نے ہمیں حدیث بیان کی، کہا: ہمیں میرے والد نے حدیث بیان کی، کہا: ہمیں شعبہ نے فرات قزاز سے حدیث بیان کی، انہوں نے ابوطفیل سے، انہوں نے حضرت ابوسریحہ حذیفہ بن اسید رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بالا خانے میں تھے اور ہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے نیچے کی طرف بیٹھے ہوئے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہماری طرف جھانک کر دیکھا اور فرمایا: ”تم کس بات کا ذکر کر رہے ہو؟“ ہم نے عرض کی: قیامت کا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تک دس نشانیاں ظاہر نہیں ہوں گی، قیامت نہیں آئے گی: مشرق میں زمین کا دھنسنا، مغرب میں زمین کا دھنسنا اور جزیرہ عرب میں زمین کا دھنسنا، دھواں، دجال، زمین کا چوپایہ، یاجوج ماجوج، مغرب سے سورج کا طلوع ہونا اور ایک آگ جو عدن کے آخری کنارے سے نکلے گی اور لوگوں کو ہانکے گی۔“ شعبہ نے کہا: عبدالعزیز بن رفیع نے مجھے بھی ابوطفیل سے اور انہوں نے ابوسریحہ رضی اللہ عنہ سے اسی کے مانند روایت کی، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ذکر نہیں کیا (موقوف حدیث بیان کی) اور (مجھے حدیث سنانے والے فرات اور عبدالعزیز) دونوں میں سے ایک نے دسویں (نشانی) کے بارے میں کہا: عیسیٰ بن مریم علیہ السلام کا نزول اور دوسرے نے کہا: ایک ہوا (آندھی) ہو گی جو لوگوں کو سمندر میں پھینکے گی۔

وحَدَّثَنَاه مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ يَعْنِي ابْنَ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ فُرَاتٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا الطُّفَيْلِ يُحَدِّثُ ، عَنْ أَبِي سَرِيحَةَ ، قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي غُرْفَةٍ ، وَنَحْنُ تَحْتَهَا نَتَحَدَّثُ ، وَسَاقَ الْحَدِيثَ بِمِثْلِهِ ، قَالَ شُعْبَةُ : وَأَحْسِبُهُ ، قَالَ : تَنْزِلُ مَعَهُمْ إِذَا نَزَلُوا ، وَتَقِيلُ مَعَهُمْ حَيْثُ ، قَالُوا : قَالَ شُعْبَةُ : وَحَدَّثَنِي رَجُلٌ هَذَا الْحَدِيثَ ، عَنْ أَبِي الطُّفَيْلِ ، عَنْ أَبِي سَرِيحَةَ ، وَلَمْ يَرْفَعْهُ ، قَالَ أَحَدُ هَذَيْنِ الرَّجُلَيْنِ : نُزُولُ عِيسَى ابْنِ مَرْيَمَ ، وقَالَ الْآخَرُ : رِيحٌ تُلْقِيهِمْ فِي الْبَحْرِ ،

محمد بن جعفر نے کہا: ہمیں شعبہ نے فرات سے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا: میں نے ابوطفیل رضی اللہ عنہ کو حضرت ابوسریحہ رضی اللہ عنہ سے حدیث بیان کرتے ہوئے سنا: انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بالا خانے میں تھے اور ہم اس کے نیچے باتیں کر رہے تھے، اور (آگے) اسی کے مانند حدیث بیان کی۔ شعبہ نے کہا: اور میرا خیال ہے (کہ فرات نے) کہا: وہ جب قیام کے لیے رکیں گے تو وہ (آگ) بھی ان کے ساتھ رک جائے گی اور جب وہ دوپہر کو آرام کریں گے تو وہ بھی ان کے ساتھ سکون پذیر ہو جائے گی۔ شعبہ نے کہا: مجھے کسی شخص نے ابوطفیل رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے حضرت ابوسریحہ رضی اللہ عنہ سے یہی حدیث بیان کی اور اسے مرفوع بیان نہیں کیا۔ کہا: ان دونوں (کسی شخص اور فرات قزاز) میں سے ایک نے کہا: ”عیسیٰ بن مریم علیہ السلام کا نزول“ اور دوسرے نے کہا: ”ہوا جو انھیں سمندر میں لا ڈالے گی۔“

وحَدَّثَنَاه مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا أَبُو النُّعْمَانِ الْحَكَمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْعِجْلِيُّ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ فُرَاتٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا الطُّفَيْلِ يُحَدِّثُ ، عَنْ أَبِي سَرِيحَةَ ، قَالَ : كُنَّا نَتَحَدَّثُ فَأَشْرَفَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِنَحْوِ حَدِيثِ مُعَاذٍ وَابْنِ جَعْفَرٍ ، وقَالَ ابْنُ الْمُثَنَّى : حَدَّثَنَا أَبُو النُّعْمَانِ الْحَكَمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ رُفَيْعٍ ، عَنْ أَبِي الطُّفَيْلِ ، عَنْ أَبِي سَرِيحَةَ بِنَحْوِهِ ، قَالَ : وَالْعَاشِرَةُ نُزُولُ عِيسَى ابْنِ مَرْيَمَ ، قَالَ شُعْبَةُ : وَلَمْ يَرْفَعْهُ عَبْدُ الْعَزِيزِ .

یہی روایت امام صاحب ایک اور استاد کی سند سے ابو سریحہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے بیان کرتے ہیں کہ ہم باہمی گفتگو کر رہے تھے، چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم پر جھانکااور مذکورہ حدیث بیان کی۔شعبہ عبدالعزیز بن رفیع کے واسطہ سے اوپر والی حدیث کے ہم معنی روایت کرتے ہیں۔ لیکن یہ مرفوع نہیں ہےاور دسویں نشانی عیسیٰ ابن مریم کا نزول ہے۔

حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب الفتن وأشراط الساعة / حدیث: 2901
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
تخریج حدیث «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : صحيح مسلم: 2902 | سنن ترمذي: 2183 | سنن ابي داود: 4311 | سنن ابن ماجه: 4041 | سنن ابن ماجه: 4055 | مسند الحميدي: 849

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ مولانا عبد العزیز علوی
حضرت حذیفہ بن اسید غفاری رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس پہنچے جبکہ ہم باہمی مذاکرہ (گفتگو)کر رہے تھے چنانچہ آپ نے فرمایا:"کیا گفتگو کر رہے ہو؟ انھوں نے کہا، ہم قیامت کا تذکرہ کر رہے تھے، چنانچہ آپ نے فرمایا:"قیامت اس وقت تک ہر گز قائم نہیں ہوگی حتی کہ تم اس سے پہلے دس نشانیاں دیکھ لو۔"سو آپ نے بتایا دھواں، دجال، جانور،سورج کا مغرب سے طلوع ہونا عیسیٰ ابن مریم ؑ کا نزول یا جوج ماجوج تین خسف یعنی زمین میں دھنسنا ایک خسف مشرق... (مکمل حدیث اس نمبر پر دیکھیں) [صحيح مسلم، حديث نمبر:7285]
حدیث حاشیہ: مفردات الحدیث:
(1)
الدخان، وہ دھواں جس سے مومنوں کو زکام ہوگا اور کافروں کے لیے تباہی کا باعث ہوگا، (2)
دابة: وہ جانور جو زمین سے نکل کر لوگوں سے ہم کلام ہوگا۔
قرآن مجید میں(اخرجنا لهم دابة من الارض تكلمهم) (النمل آیت 28)
ہم ان کے لیے زمین سے ایک جانور نکالیں گے جوان سے گفتگو کرے گا۔
فوائد ومسائل: اس حدیث میں نشانیوں کا ذکر وقوعی ترتیب کے مطابق نہیں ہے، اس لیے نزول عیسیٰ اور یاجوج ماجوج سے پہلے مغرب سے طلوع شمس کا ذکر ہے، حالانکہ یہ طلوع وقوع قیامت کی علامت ہے۔
درج بالا اقتباس تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 2901 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: صحيح مسلم / حدیث: 2902 کی شرح از مولانا عبد العزیز علوی ✍️
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:"اس وقت تک قیامت قائم نہیں ہوگی جب تک سر زمین حجاز سے ایسی آگ نہ نکلے،جس سے بصریٰ کے اونٹوں کی گردنیں چمک اٹھیں گی۔" [صحيح مسلم، حديث نمبر:7289]
حدیث حاشیہ: فوائد ومسائل: بصریٰ شام کا ایک معروف شہر ہے، تین جمادی الاخریٰ(654)
بروز منگل صبح کی نماز کے بعد مدینہ منورہ سے بہت بڑی آگ ظاہر ہوئی تھی، جس کی روشنی سے بصری کے اونٹوں کے گرد نیں روشن ہوگئی تھیں، (تفصیل کے لیے دیکھئے البدایہ والنہایہ ج(13)
ص 187۔
دیکھئے تکملہ ج 2 ص 310 تا 312 منتہ المنھم 4 ص 356)
درج بالا اقتباس تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 2902 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابن ماجه / حدیث: 4055 کی شرح از مولانا عطا اللہ ساجد ✍️
´قیامت کی نشانیوں کا بیان۔`
حذیفہ بن اسید ابو سریحہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے (ایک دن) اپنے کمرے سے جھانکا، اور ہم آپس میں قیامت کا ذکر کر رہے تھے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قیامت اس وقت تک قائم نہ ہو گی جب تک دس نشانیاں ظاہر نہ ہوں: سورج کا پچھم سے نکلنا، دجال، دھواں، دابۃ الارض (چوپایا)، یاجوج ماجوج، عیسیٰ بن مریم علیہ السلام کا نزول، تین بار زمین کا «خسف» (دھنسنا): ایک مشرق میں، ایک مغرب میں اور ایک جزیرۃ العرب میں، ایک آگ عدن کے، ایک گاؤں «أبین» کے کنویں سے ظاہر ہو گی جو لوگوں کو محشر کی جانب ہانک کر لے جائے گی، جہاں یہ۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن ابن ماجه/كتاب الفتن/حدیث: 4055]
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
دابة الارض کی احادیث باب: 31میں، مغرب سے سورج طلوع ہونے کی احادیث، باب: 32 میں، دجال کے ظہور، حضرت عیسی علیہ السلام کے نزول اور یاجوج ماجوج کے بارے میں احادیث، باب: 33 میں آرہی ہیں۔

(2)
سورج کا مغرب سے طلوع ہونا اس بات کی علامت ہے کہ دنیا کا نظام ختم ہورہا ہے۔
اب قیامت کے مراحل شروع ہیں جن کا تعلق عالم آخرت سے ہے، اس لیے اس وقت کی توبہ قبول نہیں ہوگی، جیسے موت کے وقت فرشتے نظر آجانے سے توبہ قبول نہیں ہوتی۔

(3)
دجال کا فتنہ بہت عظیم فتنہ ہے۔
وہ یہود کا لیڈر ہوگا اور مسلمانوں کی گمراہی کا باعث ہوگا۔

(4)
یہودیوں نے سچے مسیح (عیسیٰ ابن مریم علیہ السلام)
کا انکار کیا کیونکہ انھوں نے دنیا میں یہود کے غلبے کا وعدہ نہیں فرمایا۔
دجال کے ایام میں یہود کو وقتی طور پر ترقی اور غلبہ حاصل ہوگا۔

(5)
بعض مسلمان کہلانے والے فرقے بھی امام غائب کے ظہور کے منتظر ہیں۔
ممکن ہے دجال کے شعبدے دیکھ کر وہ بھی اسے اپنا امام تسلیم کرلیں۔
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 4055 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابن ماجه / حدیث: 4041 کی شرح از مولانا عطا اللہ ساجد ✍️
´قیامت کی نشانیوں کا بیان۔`
حذیفہ بن اسید رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہماری طرف اپنے کمرے سے جھانکا، ہم لوگ آپس میں قیامت کا ذکر کر رہے تھے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تک دس نشانیاں ظاہر نہ ہو جائیں گی قیامت قائم نہ ہو گی، جن میں سے دجال، دھواں اور سورج کا پچھم سے نکلنا بھی ہے ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الفتن/حدیث: 4041]
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
یہ حدیث باب 28 میں تفصیل سے آئے گی۔ دیکھیے حدیث: 4055
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 4041 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: مسند الحميدي / حدیث: 849 کی شرح از محمد ابراہیم بن بشیر ✍️
849- سیدنا ابوسریحہ غفاری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ایک مرتبہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے بالا خانے سے ہماری طرف جھانک کر دیکھا کر ہم اس وقت قیامت کا تذکرہ کر رہے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: تم لوگ کس بات کا ذکر کر رہے ہو؟ ہم نے عرض کی: قیامت کا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قیامت اس وقت تک نہیں آئے گی جب تک دس علامات ظاہر نہیں ہوں گی۔ دجال، دھواں، دابتہ الارض، سورج کا مغرب سے نکلنا، سیدنا عیسیٰ بن مریم علیہ السلام کا نزول، یا جوج ماجوج (کاخروج) اور تین قسم کے دھنسنے ہوں گے۔ ایک دھنسنا مغرب میں ہوگا اور ایک دھنسنا جزیرہ عرب میں ہوگا۔ ان سب کے۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [مسند الحمیدی/حدیث نمبر:849]
فائدہ:
علامات قیامت کا فی زیادہ ہیں اس حدیث میں بڑی بڑی علامات کا ذکر ہے۔ ہمارا ایمان ہے کہ یہ علامات برحق ہیں۔ ان علامات پر بہت سی کتب لکھی گئی۔ ہیں ایک کتاب یہ ہے جب دنیا ریزہ ریزہ ہو جائے گی۔ ہر ہر نشانی کی تفصیل اس کتاب میں دیکھی جاسکتی ہے۔
درج بالا اقتباس مسند الحمیدی شرح از محمد ابراهيم بن بشير، حدیث/صفحہ نمبر: 848 سے ماخوذ ہے۔