حدیث نمبر: 2898
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ شُعَيْبِ بْنِ اللَّيْثِ ، حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ ، حَدَّثَنِي مُوسَى بْنُ عُلَيٍّ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : قَالَ الْمُسْتَوْرِدُ الْقُرَشِيُّ عِنْدَ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ ، سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " تَقُومُ السَّاعَةُ وَالرُّومُ أَكْثَرُ النَّاسِ " ، فَقَالَ لَهُ عَمْرٌو : أَبْصِرْ مَا تَقُولُ ، قَالَ : أَقُولُ : مَا سَمِعْتُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : لَئِنْ ، قُلْتَ : " ذَلِكَ إِنَّ فِيهِمْ لَخِصَالًا أَرْبَعًا إِنَّهُمْ لَأَحْلَمُ النَّاسِ عِنْدَ فِتْنَةٍ ، وَأَسْرَعُهُمْ إِفَاقَةً بَعْدَ مُصِيبَةٍ ، وَأَوْشَكُهُمْ كَرَّةً بَعْدَ فَرَّةٍ وَخَيْرُهُمْ لِمِسْكِينٍ وَيَتِيمٍ وَضَعِيفٍ ، وَخَامِسَةٌ حَسَنَةٌ جَمِيلَةٌ ، وَأَمْنَعُهُمْ مِنْ ظُلْمِ الْمُلُوكِ " .

موسیٰ بن علی نے اپنے والد سے روایت کی، انہوں نے کہا: حضرت مستورد قرشی رضی اللہ عنہ نے حضرت عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ کے سامنے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ”قیامت آئے گی تو رومی (عیسائی) لوگوں میں سب سے زیادہ ہوں گے۔“ حضرت عمرو رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا: دیکھ لو تم کیا کہہ رہے ہو۔ انہوں نے کہا: میں وہی کہہ رہا ہوں جو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے۔ (حضرت عمرو رضی اللہ عنہ نے) کہا: اگر تم نے یہ کہا ہے، تو ان میں چار خصلتیں ہیں، وہ آزمائش کے وقت سب لوگوں سے زیادہ بردبار ہیں، اور مصیبت کے بعد سب لوگوں کی نسبت جلد اس سے سنبھلتے ہیں، اور پیچھے ہٹنے کے بعد سب لوگوں کی نسبت جلد دوبارہ حملہ کرتے ہیں، اور مسکینوں، یتیموں اور کمزوروں کے لیے سب لوگوں کی نسبت بہتر ہیں، اور پانچویں خصلت بہت اچھی اور خوبصورت ہے، وہ سب لوگوں سے بڑھ کر بادشاہوں کے ظلم کو روکنے والے ہیں۔

حَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى التُّجِيبِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ ، حَدَّثَنِي أَبُو شُرَيْحٍ ، أَنَّ عَبْدَ الْكَرِيمِ بْنَ الْحَارِثِ حَدَّثَهُ ، أَنَّ الْمُسْتَوْرِدَ الْقُرَشِيَّ ، قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " تَقُومُ السَّاعَةُ وَالرُّومُ أَكْثَرُ النَّاسِ " ، قَالَ : فَبَلَغَ ذَلِكَ عَمْرَو بْنَ الْعَاصِ ، فَقَالَ : مَا هَذِهِ الْأَحَادِيثُ الَّتِي تُذْكَرُ عَنْكَ أَنَّكَ تَقُولُهَا عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ ، فَقَالَ لَهُ الْمُسْتَوْرِدُ : قُلْتُ الَّذِي سَمِعْتُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ ، فَقَالَ عَمْرٌو : لَئِنْ ، قُلْتَ : " ذَلِكَ إِنَّهُمْ لَأَحْلَمُ النَّاسِ عِنْدَ فِتْنَةٍ ، وَأَجْبَرُ النَّاسِ عِنْدَ مُصِيبَةٍ ، وَخَيْرُ النَّاسِ لِمَسَاكِينِهِمْ وَضُعَفَائِهِمْ " .

عبدالکریم بن حارث نے ابوشریح کو حدیث بیان کی کہ حضرت مستورد قرشی رضی اللہ عنہ نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: ”قیامت آئے گی تو رومی (عیسائی) لوگوں میں سب سے زیادہ ہوں گے۔“ کہا: حضرت عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ کو یہ خبر پہنچی تو انہوں نے ان سے کہا: یہ کیسی احادیث ہیں جو تمھاری طرف سے جا رہی ہیں، کہ تم ان کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کرتے ہو؟ حضرت مستورد قرشی رضی اللہ عنہ نے کہا: میں نے وہی کچھ کہا جو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا: (مستورد رضی اللہ عنہ نے) کہا کہ حضرت عمرو رضی اللہ عنہ نے کہا: اگر تم یہ کہہ رہے ہو (تو سنو!) یقیناً وہ آزمائش کے وقت سب لوگوں سے بڑھ کر بردبار ہیں، مصیبت پیش آنے پر سب لوگوں سے زیادہ سخت جان ہیں، اور اپنے مسکینوں اور کمزوروں کے حق میں سب لوگوں کی نسبت بہتر ہیں۔

حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب الفتن وأشراط الساعة / حدیث: 2898
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
تخریج حدیث «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ مولانا عبد العزیز علوی
حضرت مستورد قرشی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے حضرت عمرو بن عاص رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے سامنے بیان کیا، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا:"قیامت قائم ہوگی جبکہ رومی (عیسائی) سب لوگوں سے زیادہ ہوں گے۔" تو حضرت عمرو رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ان سے کہا، سوچ لو کیا کہہ رہے ہو، انھوں نے کہا، وہی کہتا ہوں، جو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے، حضرت عمرو رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا، اگر تم یہ کہتے ہو تو اس (کثرت) کا سبب یہ ہے... (مکمل حدیث اس نمبر پر دیکھیں) [صحيح مسلم، حديث نمبر:7279]
حدیث حاشیہ: فوائد ومسائل: اس حدیث میں حضرت عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ نے ان خصائل اور خوبیوں کو بیان کیا، جن کی بنا پر کوئی قوم ترقی اور عروج حاصل کرتی ہے، اور ان کو اکثریت حاصل ہوجاتی ہے اور یہ وہ خوبیوں ہیں جو مسلمانوں میں ہونی چاہیے، لیکن بدقسمتی سے مسلمان ان سے محروم ہورہے ہیں، اس لیے انحطاط وزوال کا شکار ہیں اور عیسائی بڑھ رہے ہیں۔
درج بالا اقتباس تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 2898 سے ماخوذ ہے۔