حدیث نمبر: 2893
وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَمُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ مُعَاذٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ عَوْنٍ ، عَنْ مُحَمَّدٍ ، قَالَ : قَالَ جُنْدُبٌ : جِئْتُ يَوْمَ الْجَرَعَةِ ، فَإِذَا رَجُلٌ جَالِسٌ ، فَقُلْتُ : لَيُهْرَاقَنَّ الْيَوْمَ هَاهُنَا دِمَاءٌ ؟ ، فَقَالَ ذَاكَ الرَّجُلُ : كَلَّا وَاللَّهِ ، قُلْتُ : بَلَى وَاللَّهِ ، قَالَ : كَلَّا وَاللَّهِ ، قُلْتُ : بَلَى وَاللَّهِ ، قَالَ : كَلَّا وَاللَّهِ ، إنه لحديث رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَدَّثَنِيهِ ، قُلْتُ : " بِئْسَ الْجَلِيسُ لِي أَنْتَ مُنْذُ الْيَوْمِ تَسْمَعُنِي أُخَالِفُكَ وَقَدْ سَمِعْتَهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَا تَنْهَانِي ، ثُمَّ قُلْتُ : مَا هَذَا الْغَضَبُ ؟ ، فَأَقْبَلْتُ عَلَيْهِ وَأَسْأَلُهُ ، فَإِذَا الرَّجُلُ حُذَيْفَةُ .

محمد (بن سیرین) سے روایت ہے، انہوں نے کہا: حضرت جندب رضی اللہ عنہ نے کہا: میں جرعہ کے دن وہاں آیا تو (وہاں) ایک شخص بیٹھا ہوا تھا۔ میں نے کہا: آج یہاں بہت خونریزی ہو گی۔ اس شخص نے کہا: اللہ کی قسم! ہر گز نہیں ہو گی۔ میں نے کہا: اللہ کی قسم! ضرور ہو گی۔ اس نے کہا: واللہ! ہر گز نہیں ہو گی۔ میں نے کہا: واللہ! ضرور ہو گی۔ اس نے کہا: واللہ! ہر گز نہیں ہو گی، یہ اللہ کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث ہے جو آپ نے مجھے ارشاد فرمائی تھی۔ میں نے جواب میں کہا: آج تم میرے لیے آج کے بدترین ساتھی (ثابت ہوئے) ہو۔ تم مجھ سے سن رہے ہو کہ میں تمھاری مخالفت کر رہا ہوں اور تم نے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے اس کی بنا پر مجھے روکتے نہیں؟ پھر میں نے کہا: یہ غصہ کیسا؟ چنانچہ میں (ٹھیک طرح سے) ان کی طرف متوجہ ہوا اور ان کے بارے میں پوچھا تو وہ آدمی حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ تھے۔

حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب الفتن وأشراط الساعة / حدیث: 2893
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
تخریج حدیث «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ مولانا عبد العزیز علوی
حضرت جندب رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں، میں واقعہ جرعہ کے دن آیا تو وہاں ایک آدمی بیٹھا ہوا تھا چنانچہ میں نے کہا، آج یہاں خون ریزی ہو گی تو اس آدمی نے کہا، ہر گز نہیں اللہ کی قسم! میں نے کہا، کیوں نہیں اللہ کی قسم!اس نے کہا، ہرگز نہیں، اللہ کی قسم! میں نے کہا، ضرور ہو گی اللہ کی قسم!اس نے کہا، ہر گز نہیں اللہ کی قسم! کیونکہ آپ کی حدیث ہے جو آپ نے مجھے سنائی ہے، میں نے کہا، آپ آج کے میرے برے ہم نشین ہیں، آپ... (مکمل حدیث اس نمبر پر دیکھیں) [صحيح مسلم، حديث نمبر:7271]
حدیث حاشیہ: فوائد ومسائل: يوم الجرعة سے مراد وہ دن ہے، جب حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے کوفہ پر ایک آدمی کو گورنر مقرر کر کے بھیجا تو لوگ، کوفہ کے قریب جگہ، جرعہ تک پہنچ گئے کہ یہ گورنر ہمیں قبول نہیں ہے، حضرت عثمان رضی اللہ عنہ سے ہماری درخواست یہ ہے کہ وہ ہم پر حضرت ابو موسیٰ اشعری کو والی مقرر کریں، اس بنا پر، حضرت جندب رضی اللہ عنہ کو خطرہ محسوس ہوا کہ یہاں باہمی جنگ و جدل ہوگا، جس سے خون ریزی ہوگی، کیونکہ اہل کوفہ بہت ضدی لوگ تھے، اپنی بات پر اڑ جاتے تھے اور حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ جانتے تھے کہ حضرت عثمان حلیم اور بردبار ہیں، اس لیے خون ریزی نہیں ہوگی، کیونکہ حضرت حذیفہ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث سے یہ سمجھتے تھے کہ خون ریزی کا دروازہ حضرت عثمان کی شہادت سے کھلے گا اور حضرت جندب رضی اللہ عنہ نے غیر شعوری اور لاعلمی کی صورت میں بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث کی مخالفت کو پسند نہیں کیا، اس لیے حضرت حذیفہ کو نہ پہچانتے ہوئے، ان پر ناراضی کا اظہار کیا۔
درج بالا اقتباس تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 2893 سے ماخوذ ہے۔