حدیث نمبر: 2892
وحَدَّثَنِي يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ ، وَحَجَّاجُ بْنُ الشَّاعِرِ جَمِيعًا ، عَنْ أَبِي عَاصِمٍ ، قَالَ حَجَّاجٌ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ ، أَخْبَرَنَا عَزْرَةُ بْنُ ثَابِتٍ ، أَخْبَرَنَا عِلْبَاءُ بْنُ أَحْمَرَ ، حَدَّثَنِي أَبُو زَيْدٍ يَعْنِي عَمْرَو بْنَ أَخْطَبَ ، قَالَ : " صَلَّى بِنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْفَجْرَ وَصَعِدَ الْمِنْبَرَ ، فَخَطَبَنَا حَتَّى حَضَرَتِ الظُّهْرُ ، فَنَزَلَ فَصَلَّى ثُمَّ صَعِدَ الْمِنْبَرَ ، فَخَطَبَنَا حَتَّى حَضَرَتِ الْعَصْرُ ثُمَّ نَزَلَ ، فَصَلَّى ثُمَّ صَعِدَ الْمِنْبَرَ ، فَخَطَبَنَا حَتَّى غَرَبَتِ الشَّمْسُ ، فَأَخْبَرَنَا بِمَا كَانَ وَبِمَا هُوَ كَائِنٌ فَأَعْلَمُنَا أَحْفَظُنَا " .

علباء بن احمر نے کہا: حضرت ابوزید عمرو بن اخطب رضی اللہ عنہ نے مجھے بیان کیا، کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں فجر کی نماز پڑھائی اور منبر پر رونق افروز ہوئے تو ہمیں خطبہ دیا یہاں تک کہ ظہر کی نماز کا وقت ہو گیا، آپ (منبر سے) اترے، ہمیں نماز پڑھائی، پھر دوبارہ منبر پر رونق افروز ہوئے اور (آگے) خطبہ ارشاد فرمایا: یہاں تک کہ عصر کی نماز کا وقت ہو گیا، پھر آپ اترے، نماز پڑھائی اور پھر منبر پر تشریف لے گئے اور خطبہ دیا یہاں تک کہ سورج غروب ہو گیا۔ آپ نے جو کچھ ہوا اور جو ہونے والا تھا (سب) ہمیں بتا دیا، ہم میں سے زیادہ جاننے والا وہی ہے جو یاداشت میں دوسروں سے بڑھ کر ہے۔

حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب الفتن وأشراط الساعة / حدیث: 2892
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
تخریج حدیث «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ مولانا عبد العزیز علوی
حضرت ابو زید یعنی عمرو بن خطب رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں فجر کی نماز پڑھائی اور منبرچڑھ کر ہمیں خطاب فرمایا، حتی کہ ظہر کی نماز کا وقت ہو گیا تو آپ نے اتر کر نماز پڑھائی پھر منبر پر چڑھ کر ہمیں خطاب فرمایا، حتی کہ عصر کا وقت ہو گیا پھر آپ نے اتر کر نماز پڑھائی،پھر آپ منبر پر تشریف فر ہوئے اور ہمیں خطاب فرمایا حتی، کہ سورج غروب ہو گیا چنانچہ آپ نے ہمیں ان باتوں سے آگاہ فرمایا، جو ہو چکی تھیں... (مکمل حدیث اس نمبر پر دیکھیں) [صحيح مسلم، حديث نمبر:7267]
حدیث حاشیہ: فوائد ومسائل: اس حدیث سے ثابت ہوتا ہے، کبھی کبھار طویل خطاب بھی کیا جاسکتا ہے، کیونکہ آپ نے دن بھر میں صرف نمازوں کے لیے وقفہ فرمایا اور دنیا میں پیش آنے والے تمام اہم واقعات سے (جوہو چکے تھے اور جو ہونے تھے)
آگاہ فرمایا، جو زیادہ عالم تھے، انہوں نے ان کو زیادہ یاد رکھا۔
درج بالا اقتباس تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 7267 سے ماخوذ ہے۔