مرکزی مواد پر جائیں
19 شعبان، 1447 ہجری
حدیث نمبر: 2891
حَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى التُّجِيبِيُّ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، أَنَّ أَبَا إِدْرِيسَ الْخَوْلَانِيَّ كَانَ ، يَقُولُ : قَالَ حُذَيْفَةُ بْنُ الْيَمَانِ وَاللَّهِ إِنِّي لَأَعْلَمُ النَّاسِ بِكُلِّ فِتْنَةٍ هِيَ كَائِنَةٌ فِيمَا بَيْنِي وَبَيْنَ السَّاعَةِ ، وَمَا بِي إِلَّا أَنْ يَكُونَ ، رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَسَرَّ إِلَيَّ فِي ذَلِكَ شَيْئًا لَمْ يُحَدِّثْهُ غَيْرِي ، وَلَكِنْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ وَهُوَ يُحَدِّثُ مَجْلِسًا أَنَا فِيهِ عَنِ الْفِتَنِ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَعُدُّ الْفِتَنَ : " مِنْهُنَّ ثَلَاثٌ لَا يَكَدْنَ يَذَرْنَ شَيْئًا ، وَمِنْهُنَّ فِتَنٌ كَرِيَاحِ الصَّيْفِ مِنْهَا صِغَارٌ ، وَمِنْهَا كِبَارٌ " ، قَالَ حُذَيْفَةُ : فَذَهَبَ أُولَئِكَ الرَّهْطُ كُلُّهُمْ غَيْرِي .

یونس نے مجھے ابن شہاب سے خبر دی کہ ابوادریس خولانی کہا کرتے تھے کہ حضرت حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ نے بیان کیا: اللہ کی قسم! میں اب سے لے کر قیامت تک وقوع پذیر ہونے والے تمام فتنوں کے بارے میں باقی سب لوگوں کی نسبت زیادہ جانتا ہوں۔ اور (انھیں بیان کرنے میں) میرے لیے اس کے سوا اور کوئی (مانع) نہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان میں سے کوئی چیز راز کے طور پر مجھے بتائی تھی جو آپ نے میرے علاوہ کسی اور کو نہیں بتائی تھی۔ (ایسی باتیں میں کبھی بیان نہیں کروں گا) البتہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مجلس میں جہاں میں موجود تھا فتنوں کو شمار کر رہے تھے: ”ان میں سے تین (فتنے) ایسے ہیں جو تقریباً کسی چیز کو باقی نہیں چھوڑیں گے اور ان میں سے کچھ فتنے ایسے ہیں جو موسم گرما کی آندھیوں کی طرح ہیں ان میں کچھ چھوٹے ہیں اور کچھ بڑے ہیں۔“ حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ نے کہا: میرے سوا وہ سب لوگ (جو اس مجلس میں موجود تھے) رخصت ہو گئے۔

وحَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ عُثْمَانُ : حَدَّثَنَا ، وقَالَ إِسْحَاقُ : أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ الْأَعْمَشِ ، عَنْ شَقِيقٍ ، عَنْ حُذَيْفَةَ ، قَالَ " قَامَ فِينَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَقَامًا مَا تَرَكَ شَيْئًا يَكُونُ فِي مَقَامِهِ ذَلِكَ إِلَى قِيَامِ السَّاعَةِ ، إِلَّا حَدَّثَ بِهِ حَفِظَهُ مَنْ حَفِظَهُ ، وَنَسِيَهُ مَنْ نَسِيَهُ ، قَدْ عَلِمَهُ أَصْحَابِي هَؤُلَاءِ ، وَإِنَّهُ لَيَكُونُ مِنْهُ الشَّيْءُ قَدْ نَسِيتُهُ ، فَأَرَاهُ فَأَذْكُرُهُ كَمَا يَذْكُرُ الرَّجُلُ وَجْهَ الرَّجُلِ إِذَا غَابَ عَنْهُ ، ثُمَّ إِذَا رَآهُ عَرَفَهُ " ،

حضرت حذیفہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک دفعہ ہمارے سامنے کھڑے ہوئے اور قیامت قائم ہونے کے تمام اہم واقعات اس میں بیان کر دئیے جس نے انہیں یاد رکھا اس نے یاد رکھا اور جس نے انہیں بھلا دیا۔اس نے بھلا دیا، میرے ان ساتھیوں کو بھی اس واقعہ کا علم ہے اور صورت حال یہ ہے، ان میں سے بعض چیزیں میں بھول چکا ہوں اور جب وہ واقع ہوتی ہیں تو وہ مجھے یاد آجاتی ہیں۔جس طرح انسان کو ایک غیر حاضر ہو جانے والے آدمی کا چہرہ یاد ہوتا ہے، پھر وہ جب سامنے آتا ہے تو وہ اسے پہچان لیتا ہے۔

وحَدَّثَنَاه أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ الْأَعْمَشِ بِهَذَا الْإِسْنَادِ إِلَى قَوْلِهِ : وَنَسِيَهُ مَنْ نَسِيَهُ ، وَلَمْ يَذْكُرْ مَا بَعْدَهُ .

یہی روایت امام صاحب ایک اور استاد سے،"نَسِيه مَن نَسِيه" جو اس واقعہ کو بھول گیا۔ وہ بھول گیا۔تک بیان کرتے ہیں اس کے بعد والا حصہ بیان نہیں کرتے۔

وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ . ح وحَدَّثَنِي أَبُو بَكْرِ بْنُ نَافِعٍ ، حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ ثَابِتٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ ، عَنْ حُذَيْفَةَ أَنَّهُ ، قَالَ : " أَخْبَرَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَا هُوَ كَائِنٌ إِلَى أَنْ تَقُومَ السَّاعَةُ ، فَمَا مِنْهُ شَيْءٌ إِلَّا قَدْ سَأَلْتُهُ ، إِلَّا أَنِّي لَمْ أَسْأَلْهُ مَا يُخْرِجُ أَهْلَ الْمَدِينَةِ مِنْ الْمَدِينَةِ " ،

محمد بن جعفر غندر نے کہا: ہمیں شعبہ نے عدی بن ثابت سے حدیث بیان کی، انہوں نے عبداللہ بن یزید سے اور انہوں نے حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قیامت قائم ہونے تک جو کچھ ہونے والا ہے اس کی مجھے خبر دی، اور ان میں سے کوئی چیز نہیں مگر میں نے آپ سے اس کے بارے میں سوال کیا البتہ میں نے آپ سے یہ سوال نہیں کیا کہ اہل مدینہ کو مدینہ سے کون سی چیز باہر نکالے گی۔

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنِي وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ ، أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ بِهَذَا الْإِسْنَادِ نَحْوَهُ .

وہب بن جریر نے کہا: ہمیں شعبہ نے اسی سند کے ساتھ اسی کے مانند روایت کی۔

حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب الفتن وأشراط الساعة / حدیث: 2891
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ مولانا عبد العزیز علوی
حضرت حذیفہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں اللہ کی قسم میں سب لوگوں سے زیادہ ہر اس فتنہ سے آگاہ ہوں، جو میرے اور قیامت کے درمیان واقع ہونے والا ہے اور یہ حالت صرف اس بنا پر ہے میری رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سلسلہ میں کچھ راز کی باتیں صرف مجھے بتائیں میرے سوا کسی اور کو وہ باتیں نہیں بتائیں لیکن کچھ باتیں ایسی ہیں کہ اپ نے ایک مجلس میں فتنوں کے بارے میں فرمائیں اور میں بھی اس مجلس میں موجود تھا چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فتنوں... (مکمل حدیث اس نمبر پر دیکھیں) [صحيح مسلم، حديث نمبر:7262]
حدیث حاشیہ: فوائد ومسائل: حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ کے فتنوں سے زیادہ آگاہ ہونے کے دو جہیں ہیں، (1)
کچھ راز کی کی باتیں تو ایسی تھیں کے آپ نے ان سے صرف حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ کو آگاہ فرمایا تھا۔
(2)
کچھ فتنوں سے آپ نے دوسرں کو بھی آگاہ فرمایا تھا، لیکن کچھ لوگوں نے یاد رکھا اور کچھ نے بھلا دیا، پھر آہستہ آہستہ وہ سب فوت ہوگئے اور حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ ہی باقی رہ گئے۔
درج بالا اقتباس تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 2891 سے ماخوذ ہے۔

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔