حدیث نمبر: 2886
حَدَّثَنِي عَمْرٌو النَّاقِدُ ، وَالْحَسَنُ الْحُلْوَانِيُّ ، وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ ، قَالَ َعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ : أَخْبَرَنِي ، وقَالَ الْآخَرَانِ : حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ وَهُوَ ابْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنْ صَالِحٍ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، حَدَّثَنِي ابْنُ الْمُسَيَّبِ ، وَأَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أن أبا هريرة ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " سَتَكُونُ فِتَنٌ الْقَاعِدُ فِيهَا خَيْرٌ مِنَ الْقَائِمِ ، وَالْقَائِمُ فِيهَا خَيْرٌ مِنَ الْمَاشِي ، وَالْمَاشِي فِيهَا خَيْرٌ مِنَ السَّاعِي ، مَنْ تَشَرَّفَ لَهَا تَسْتَشْرِفُهُ ، وَمَنْ وَجَدَ فِيهَا مَلْجَأً فَلْيَعُذْ بِهِ " ،

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں،رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:"جلد ہی فتنوں کا آغاز ہوگا۔"بیٹھنے والا ان میں کھڑے ہونے والے سے بہتر ہوگا اور ان میں کھڑا ہونے والا چلنے والے سے بہتر ہوگا اور ان میں چلنے والا دوڑنے والے سے بہتر ہو گا جو بھی ان کو دیکھنے کی کوشش کرے گا۔وہ اس کو اپنی طرف کھیچ لیں گے جس شخص کو ان سے پناہ مل سکے وہ اس پناہ کو حاصل کر لے۔"

حَدَّثَنَا عَمْرٌو النَّاقِدُ ، وَالْحَسَنُ الْحُلْوَانِيُّ ، وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ ، قَالَ عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ : أَخْبَرَنِي ، وقَالَ الْآخَرَانِ : حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنْ صَالِحٍ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، حَدَّثَنِي أَبُو بَكْرِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مُطِيعِ بْنِ الْأَسْوَدِ ، عَنْ نَوْفَلِ بْنِ مُعَاوِيَةَ ، مِثْلَ حَدِيثِ أَبِي هُرَيْرَةَ هَذَا ، إِلَّا أَنَّ أَبَا بَكْرٍ يَزِيدُ مِنَ الصَّلَاةِ صَلَاةٌ مَنْ ، فَاتَتْهُ فَكَأَنَّمَا وُتِرَ أَهْلَهُ وَمَالَهُ .

امام صاحب اپنے تین اساتذہ کی ایک ہی سند سے مذکورہ بالا روایت بیان کرتے ہیں، مگر اس میں یہ اضافہ ہے،"نمازوں میں ایک نماز ایسی ہے، جس کی وہ رہ جائے،گویا اس کا اہل اور مال دونوں لٹ گئے۔"

حَدَّثَنِي إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ ، أَخْبَرَنَا أَبُو دَاوُدَ الطَّيَالِسِيُّ ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " تَكُونُ فِتْنَةٌ النَّائِمُ فِيهَا خَيْرٌ مِنَ الْيَقْظَانِ ، وَالْيَقْظَانُ فِيهَا خَيْرٌ مِنَ الْقَائِمِ ، وَالْقَائِمُ فِيهَا خَيْرٌ مِنَ السَّاعِي ، فَمَنْ وَجَدَ مَلْجَأً أَوْ مَعَاذًا فَلْيَسْتَعِذْ " .

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:" فتنہ ہو گا سونے والا اس میں بیدار سے بہتر ہو گا اور بیدار کھڑے ہونے والے سے بہتر ہو گا اور اس میں کھڑا ہونے والا (اس کی طرف)دوڑنے والے سے بہتر ہو گا، چنانچہ جو شخص ٹھکانا یا پناہ گا پائے وہ اپنا حاصل کر لے۔"

حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب الفتن وأشراط الساعة / حدیث: 2886
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
تخریج حدیث «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ مولانا عبد العزیز علوی
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں،رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:"جلد ہی فتنوں کا آغاز ہوگا۔"بیٹھنے والا ان میں کھڑے ہونے والے سے بہتر ہوگا اور ان میں کھڑا ہونے والا چلنے والے سے بہتر ہوگا اور ان میں چلنے والا دوڑنے والے سے بہتر ہو گا جو بھی ان کو دیکھنے کی کوشش کرے گا۔وہ اس کو اپنی طرف کھیچ لیں گے جس شخص کو ان سے پناہ مل سکے وہ اس پناہ کو حاصل کر لے۔" [صحيح مسلم، حديث نمبر:7247]
حدیث حاشیہ: فوائد ومسائل: حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا مقصد یہ ہے کہ انسان کو فتنوں سے دور رہنا چاہیے، ان کو دیکھنا یا ان کا جائزہ لینا بھی تباہی و ہلاکت میں گرفتار ہونے کا باعث بن سکتا ہے، انسان ان سے جس قدر زیادہ دور رہے گا اور ان سے بچنے کی کوشش کرے گا، اتنا ہی اس کے حق میں بہتر ہوگا اور جتنا ان کے قریب ہوتا جائے گا، اتنا ہی زیادہ نقصان اٹھائے گا۔
درج بالا اقتباس تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 2886 سے ماخوذ ہے۔