حدیث نمبر: 2884
وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا الْقَاسِمُ بْنُ الْفَضْلِ الْحُدَّانِيُّ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ ، أَنَّ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : عَبَثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي مَنَامِهِ ، فَقُلْنَا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، صَنَعْتَ شَيْئًا فِي مَنَامِكَ لَمْ تَكُنْ تَفْعَلُهُ ؟ ، فَقَالَ : " الْعَجَبُ إِنَّ نَاسًا مِنْ أُمَّتِي يَؤُمُّونَ بِالْبَيْتِ بِرَجُلٍ مِنْ قُرَيْشٍ ، قَدْ لَجَأَ بِالْبَيْتِ حَتَّى إِذَا كَانُوا بِالْبَيْدَاءِ خُسِفَ بِهِمْ " ، فَقُلْنَا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّ الطَّرِيقَ قَدْ يَجْمَعُ النَّاسَ ، قَالَ : " نَعَمْ ، فِيهِمُ الْمُسْتَبْصِرُ وَالْمَجْبُورُ ، وَابْنُ السَّبِيلِ يَهْلِكُونَ مَهْلَكًا وَاحِدًا ، وَيَصْدُرُونَ مَصَادِرَ شَتَّى يَبْعَثُهُمُ اللَّهُ عَلَى نِيَّاتِهِمْ " .

عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نیند کے دوران (اضطراب کے عالم) میں اپنے ہاتھ کو حرکت دی، تو ہم نے عرض کی: اللہ کے رسول! آپ نے نیند میں کچھ ایسا کیا جو پہلے آپ نہیں کیا کرتے تھے؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ عجیب بات ہے کہ (آخری زمانے میں) میری امت میں سے کچھ لوگ بیت اللہ کی پناہ لینے والے قریش کے ایک آدمی کے خلاف (کارروائی کرنے کے لیے) بیت اللہ کا رخ کریں گے یہاں تک کہ جب وہ چٹیل میدان حصے میں ہوں گے تو انھیں (زمین میں) دھنسا دیا جائے گا۔“ ہم نے عرض کی: اللہ کے رسول! راستہ تو ہر طرح کے لوگوں کے لیے ہوتا ہے۔ آپ نے فرمایا: ”ہاں، ان میں سے کوئی اپنی مہم سے آگاہ ہوگا، کوئی مجبور اور کوئی مسافر ہوگا۔ وہ سب اکھٹے ہلاک ہوں گے اور (قیامت کے روز) واپسی کے مختلف راستوں پر نکلیں گے، اللہ انھیں ان کی نیتوں کے مطابق اٹھائے گا۔“

حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب الفتن وأشراط الساعة / حدیث: 2884
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
تخریج حدیث «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : صحيح البخاري: 2118

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ مولانا عبد العزیز علوی
حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نیند میں اپنے جسم کو حرکت دی یا ہاتھ پیر ہلائے، چنانچہ ہم نے پوچھا، اے اللہ کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! آپ نے اپنی نیند میں ایسا کام کیا، جو آپ پہلے نہیں کرتے تھے۔سو آپ نے فرمایا:"حیرت انگیز بات ہے، میری امت کے کچھ لوگ، ایک قریشی آدمی کی خاطر جو بیت اللہ کی پناہ لے چکا ہو گا، بیت اللہ کا رخ کریں گے، حتی کہ جب وہ زمین کے ایک چٹیل میدان میں... (مکمل حدیث اس نمبر پر دیکھیں) [صحيح مسلم، حديث نمبر:7244]
حدیث حاشیہ: مفردات الحدیث:
(1)
عبث: جسم کو جنبش دی، ہاتھ پیر ہلائے المستبصر، معاملہ کی بصیرت رکھنے والا۔
(2)
يصدرون مصادرشتي: الگ الگ اور متفرق طور پر واپسی ہوگی، ہر ایک سے اس کی نیت وعمل کے مطابق سلوک ہوگا۔
درج بالا اقتباس تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 2884 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: صحيح البخاري / حدیث: 2118 کی شرح از مولانا داود راز ✍️
2118. حضرت عائشہ ؓ سے روایت ہے، انھوں نے کہا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’ایک لشکر خانہ کعبہ پر چڑھائی کرے گا۔ جب وہ مقام بیداء پر پہنچے گا تو اول سے آخر تک تمام لشکر کو زمین میں دھنسا دیا جائے گا۔‘‘ حضرت عائشہ ؓ فرماتی ہیں۔ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول اللہ ﷺ! تمام کوکیسے زمین میں دھنسا دیا جائےگا؟ جبکہ ان میں دوکانداربھی ہوں گے اور وہ لوگ بھی جن کا لشکر سے کوئی تعلق نہیں ہوگا۔ آپ نے فرمایا: ’’اول سے آخر تک سب کو زمین میں دھنسا دیا جائے گا، پھر انھیں اپنی اپنی نیتوں کے مطابق (قبروں سے) اٹھایا جائے گا۔‘‘[صحيح بخاري، حديث نمبر:2118]
حدیث حاشیہ: سو اس سے کعبہ میں بازاروں کا وجود ثابت ہوا۔
یہی مقصد باب ہے۔
درج بالا اقتباس صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 2118 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: صحيح البخاري / حدیث: 2118 کی شرح از الشیخ عبدالستار الحماد ✍️
2118. حضرت عائشہ ؓ سے روایت ہے، انھوں نے کہا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’ایک لشکر خانہ کعبہ پر چڑھائی کرے گا۔ جب وہ مقام بیداء پر پہنچے گا تو اول سے آخر تک تمام لشکر کو زمین میں دھنسا دیا جائے گا۔‘‘ حضرت عائشہ ؓ فرماتی ہیں۔ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول اللہ ﷺ! تمام کوکیسے زمین میں دھنسا دیا جائےگا؟ جبکہ ان میں دوکانداربھی ہوں گے اور وہ لوگ بھی جن کا لشکر سے کوئی تعلق نہیں ہوگا۔ آپ نے فرمایا: ’’اول سے آخر تک سب کو زمین میں دھنسا دیا جائے گا، پھر انھیں اپنی اپنی نیتوں کے مطابق (قبروں سے) اٹھایا جائے گا۔‘‘[صحيح بخاري، حديث نمبر:2118]
حدیث حاشیہ:
(1)
اس حدیث کے مطابق مقام بیداء میں بازاروں یا بازار میں کام کرنے والے دکانداروں کا ثبوت ملتا ہے۔
امام بخاری ؒ نے صرف اسی کو ثابت کرنے کے لیے حدیث کی ذکر کی ہے۔
(2)
بازار میں اگرچہ شوروشغب ہوتا ہے لیکن اگر شرفاء اپنی ضروریات پوری کرنے کےلیے وہاں جائیں تو کوئی حرج نہیں۔
(3)
اس حدیث سے یہ بھی معلوم ہوا کہ اہل شر اور فتنہ پرور لوگوں کے ساتھ میل ملاپ رکھنا خود اپنی تباہی کا پیش خیمہ ہے۔
(4)
بعض روایات میں"أشرافهم"کے الفاظ ہیں اس بنا پر بخاری کے لیے بیان کردہ الفاظ أسوافهم پر تصحیف کا اعتراض کیا گیا ہے جو مبنی بر حقیقت نہیں۔
(فتح الباري: 430/4)
درج بالا اقتباس هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 2118 سے ماخوذ ہے۔