حدیث نمبر: 2880
حَدَّثَنَا عَمْرٌو النَّاقِدُ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ زَيْنَبَ بِنْتِ أُمِّ سَلَمَةَ ، عَنْ أُمِّ حَبِيبَةَ ، عَنْ زَيْنَبَ بِنْتِ جَحْشٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اسْتَيْقَظَ مِنْ نَوْمِهِ ، وَهُوَ يَقُولُ : " لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ ، وَيْلٌ لِلْعَرَبِ مِنْ شَرٍّ قَدِ اقْتَرَبَ فُتِحَ الْيَوْمَ مِنْ رَدْمِ يَأْجُوجَ وَمَأْجُوجَ مِثْلُ هَذِهِ " ، وَعَقَدَ سُفْيَانُ بِيَدِهِ عَشَرَةً ، قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَنَهْلِكُ وَفِينَا الصَّالِحُونَ ، قَالَ : نَعَمْ إِذَا كَثُرَ الْخَبَثُ " ،

عمرو ناقد نے ہمیں حدیث بیان کی، کہا: ہمیں سفیان بن عینیہ نے زہری سے حدیث بیان کی، انہوں نے عروہ سے، انہوں نے زینب بنت ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے، انہوں نے حضرت ام حبیبہ رضی اللہ عنہا سے اور انہوں نے حضرت زینب بنت جحش رضی اللہ عنہا سے روایت کی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی نیند سے بیدار ہوئے جبکہ آپ فرما رہے تھے: ﴿لَا إِلَٰهَ إِلَّا اللَّهُ﴾ ”اللہ کے سوا کوئی سچا معبود نہیں، عرب اس شر کی وجہ سے ہلاک ہو گئے جو قریب آ پہنچا ہے۔ آج یاجوج ماجوج کی دیوار میں سے اس قدر جگہ کھل گئی ہے۔“ اور سفیان نے اپنے ہاتھ سے دس کا اشارہ بنایا۔ (حضرت زینب رضی اللہ عنہا نے) کہا: میں نے عرض کی: ہم میں نیک لوگ موجود ہوں گے، پھر بھی ہم ہلاک ہو جائیں گے؟ فرمایا: ”ہاں جب شر اور گندگی زیادہ ہو جائے گی۔“

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَسَعِيدُ بْنُ عَمْرٍو الْأَشْعَثِيُّ ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، وَابْنُ أَبِي عُمَرَ ، قَالُوا : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ بِهَذَا الْإِسْنَادِ ، وَزَادُوا فِي الْإِسْنَادِ ، عَنْ سُفْيَانَ ، فَقَالُوا عَنْ زَيْنَبَ بِنْتِ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ حَبِيبَةَ ، عَنْ أُمِّ حَبِيبَةَ ، عَنْ زَيْنَبَ بِنْتِ جَحْشٍ .

امام مسلم نے مذکورہ بالا روایت بہت سے اساتذہ کی ایک ہی سند سے بیان کی ہے فرق یہ ہے کہ اوپر کی سند میں تین صحابیات تھیں اور یہاں چار صحابیات ہیں، جو ایک دوسروں سے بیان کرتی ہیں یعنی زینب بنت اُم سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا، حبیبہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا (یہ دونوں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ربیبہ) ہیں) اُ م حبیبہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا، زینب بنت حجش رضی اللہ تعالیٰ عنہا (یہ دونوں زوجہ ہیں۔

حَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ ، أَنَّ زَيْنَبَ بِنْتَ أَبِي سَلَمَةَ أَخْبَرَتْهُ ، أَنَّ أُمَّ حَبِيبَةَ بِنْتَ أَبِي سُفْيَانَ ، أَخْبَرَتْهَا أَنَّ زَيْنَبَ بِنْتَ جَحْشٍ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَتْ : خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمًا فَزِعًا مُحْمَرًّا وَجْهُهُ ، يَقُولُ : " لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ ، وَيْلٌ لِلْعَرَبِ مِنْ شَرٍّ ، قَدِ اقْتَرَبَ فُتِحَ الْيَوْمَ مِنْ رَدْمِ يَأْجُوجَ وَمَأْجُوجَ مِثْلُ هَذِهِ ، وَحَلَّقَ بِإِصْبَعِهِ الْإِبْهَامِ وَالَّتِي تَلِيهَا " ، قَالَتْ : فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَنَهْلِكُ وَفِينَا الصَّالِحُونَ ، قَالَ : " نَعَمْ إِذَا كَثُرَ الْخَبَثُ " ،

یونس نے ابن شہاب سے روایت کی، کہا: مجھے عروہ بن زبیر نے بتایا کہ انھیں زینب بنت ابوسلمہ رضی اللہ عنہا نے خبر دی کہ حضرت ام حبیبہ رضی اللہ عنہا بنت ابی سفیان رضی اللہ عنہ نے ان سے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اہلیہ حضرت زینب بنت جحش رضی اللہ عنہا نے کہا: ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم گھبراہٹ کے عالم میں سرخ چہرے کے ساتھ (خواب گاہ سے) نکلے۔ آپ فرما رہے تھے: ﴿لَا إِلَٰهَ إِلَّا اللَّهُ﴾ ”اللہ کے سوا کوئی سچا معبود نہیں، عرب اس شر کی وجہ سے ہلاک ہو گئے جو اب قریب آ پہنچا ہے۔ آج یاجوج ماجوج کی دیوار اس قدر کھل گئی ہے۔“ اور آپ نے شہادت کی انگلی اور انگوٹھے کو ملا کر حلقہ بنایا۔ (حضرت زینب رضی اللہ عنہا نے) کہا: تو میں نے عرض کی: ہم میں نیک لوگ موجود ہوں، یا پھر بھی ہم ہلاک ہو جائیں گے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں، جب شر اور گندگی زیادہ ہو جائے گی۔“

وحَدَّثَنِي عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ شُعَيْبِ بْنِ اللَّيْثِ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ جَدِّي ، حَدَّثَنِي عُقَيْلُ بْنُ خَالِدٍ . ح وحَدَّثَنَا عَمْرٌو النَّاقِدُ ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنْ صَالِحٍ كِلَاهُمَا ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ بِمِثْلِ حَدِيثِ يُونُسَ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ بِإِسْنَادِهِ .

عقیل بن خالد اور صالح دونوں نے ابن شہاب (زہری) سے یونس کی زہری سے حدیث کے مطابق اور اسی کی سند سے بیان کیا۔

حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب الفتن وأشراط الساعة / حدیث: 2880
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
تخریج حدیث «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ مولانا عبد العزیز علوی
حضرت زینب بنت حجش رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی نیند سے یہ فرماتے ہوئے بیدار ہوئے۔"اللہ کے سوا کوئی بندگی کے لائق نہیں ہے، عربوں کے لیے اس شر سے تباہی ہے، جو قریب آچکا ہے، اس وقت یاجوج ماجوج کے بند میں اتنا سوراخ ہو چکا ہے۔"سفیان نے اس کی وضاحت کے لیے دس کے عدد کی گرہ لگائی، یعنی انگوٹھا اور شہادت کی انگلی سے حلقہ بنایا، میں نے پوچھا اے اللہ کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! کیا ہم نیک بندوں کے موجود ہونے کے... (مکمل حدیث اس نمبر پر دیکھیں) [صحيح مسلم، حديث نمبر:7235]
حدیث حاشیہ: فوائد ومسائل: یاجوج ماجوج کون ہیں اور بند جوان کو روکے ہوئے ہے، وہ کہاں ہے، اس میں بہت اختلاف ہے، یہ حاشیہ اتنی تفصیل کا متحمل نہیں ہے، تفصیل کے طالب، مولاناآزاد کی تفسیر، سورہ کہف اور مولانا حفظ الرحمٰن کی کتاب، قصص القرآن کا مطالعہ کریں، یا حافظ عبدالسلام بھٹوی حفظہ اللہ کی تفسیر دیکھیں حدیث کا مقصود یہ ہے کہ فتنوں کے ظہور کا آغاز قریب آچکا ہے، کیونکہ بند میں معمولی سا سوراخ ہوچکا ہے، جس سے وہ لوگ باہر نہیں نکل سکتے، لیکن یہ اس بات کی علامت ہے کہ فتنوں کا ظہور ہوا چاہتا ہے، فتنوں کا آغاز حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی شہادت سے ہوا اور اس میں وسعت حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی شہادت سے ہوئی اور عام تباہی وہلاکت اس وقت ہوگی جب فسق و فجور کا دور دورہ ہوگا، چند اچھے لوگ اس کے خلاف کچھ نہیں کرسکیں گے، اس لیے وہ بھی ساتھ ہی ہلاک ہوجائیں گے، بعد میں ہر ایک کو جزاو سزا اپنے عملوں کے مطابق ملے گی، بند میں سوراخ معمولی ہوا ہے جس کو بعض نے دس کے عدد کے حلقہ سے تعبیر کیا ہے، جو بڑا ہوتا ہے اور بعض نے نوے یا سو کے عدد کے حلقہ سے جو انتہائی تنگ ہوتا ہے، درمیان میں خلا نہیں ہوتا ہے، مقصود اس کی حقارت وقلت کو بیان کرنا ہے۔
درج بالا اقتباس تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 2880 سے ماخوذ ہے۔