صحيح مسلم
كتاب الجنة وصفة نعيمها وأهلها— جنت اس کی نعمتیں اور اہل جنت
باب الأَمْرِ بِحُسْنِ الظَّنِّ بِاللَّهِ تَعَالَى عِنْدَ الْمَوْتِ: باب: موت کے وقت اللہ جل جلالہ کے ساتھ نیک گمان رکھنا۔
حدیث نمبر: 2878
وحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، وَعُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، قَالَا : حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ الْأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " يُبْعَثُ كُلُّ عَبْدٍ عَلَى مَا مَاتَ عَلَيْهِ " ،حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا:"ہر بندہ اس حالت پر اٹھایا جائے گا، جس پر وہ فوت ہوا تھا۔"
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ نَافِعٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ الْأَعْمَشِ بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ ، وَقَالَ : عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَلَمْ يَقُلْ سَمِعْتُ .سفیان نے اعمش سے اسی سند کے ساتھ، اسی کے مانند روایت کی اور کہا: ”نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت ہے“ اور یہ نہیں کہا: میں نے (آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے) سنا۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ مولانا عبد العزیز علوی
حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا:"ہر بندہ اس حالت پر اٹھایا جائے گا، جس پر وہ فوت ہوا تھا۔" [صحيح مسلم، حديث نمبر:7232]
حدیث حاشیہ: فوائد ومسائل: انسان جس عقیدہ اور عمل پر فوت ہوتا ہے، اس عقیدہ اور عمل پر اس کو اٹھایا جائے گا، اور انسان اسی عقیدہ اور عمل پر فوت ہوتا ہے جس پر زندگی بھر قائم رہتا ہے اس لیے انسان کو عقیدہ اور عمل کی درستگی اور صحت کی فکر کرنی چاہیے، کیونکہ معلوم نہیں، زندگی کا چراغ کب گل ہو جائے اور اگر موت کا پہلے احساس ہوجائے تو پھر اللہ سے عفودرگزر کی امید رکھے۔
درج بالا اقتباس تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 2878 سے ماخوذ ہے۔