حدیث نمبر: 2874
حَدَّثَنَا هَدَّابُ بْنُ خَالِدٍ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَرَكَ قَتْلَى بَدْرٍ ثَلَاثًا ثُمَّ أَتَاهُمْ ، فَقَامَ عَلَيْهِمْ فَنَادَاهُمْ ، فَقَالَ : يَا أَبَا جَهْلِ بْنَ هِشَامٍ ، يَا أُمَيَّةَ بْنَ خَلَفٍ ، يَا عُتْبَةَ بْنَ رَبِيعَةَ ، يَا شَيْبَةَ بْنَ رَبِيعَةَ أَلَيْسَ قَدْ وَجَدْتُمْ مَا وَعَدَ رَبُّكُمْ حَقًّا ؟ فَإِنِّي قَدْ وَجَدْتُ مَا وَعَدَنِي رَبِّي حَقًّا " ، فَسَمِعَ عُمَرُ قَوْلَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، كَيْفَ يَسْمَعُوا وَأَنَّى يُجِيبُوا وَقَدْ جَيَّفُوا ؟ ، قَالَ : " وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ مَا أَنْتُمْ بِأَسْمَعَ لِمَا أَقُولُ مِنْهُمْ ، وَلَكِنَّهُمْ لَا يَقْدِرُونَ أَنْ يُجِيبُوا " ، ثُمَّ أَمَرَ بِهِمْ فَسُحِبُوا فَأُلْقُوا فِي قَلِيبِ بَدْرٍ " ،

حماد بن سلمہ نے ثابت بنانی سے اور انہوں نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تین دن تک بدر کے مقتولین کو پڑا رہنے دیا۔ پھر آپ گئے اور ان کے پاس کھڑے ہو کر ان کو پکار کر فرمایا: ”اے ابوجہل بن ہشام! اے امیہ بن خلف! اے عتبہ بن ربیعہ! اے شیبہ بن ربیعہ! کیا تم نے وہ وعدہ سچا نہیں پایا جو تمھارے رب نے تم سے کیا تھا؟ میں نے تو اپنے رب کے وعدے کو سچا پایا ہے جو اس نے میرے ساتھ کیا تھا!“ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ ارشاد سنا تو عرض کی: اللہ کے رسول اللہ! یہ لوگ کیسے سنیں گے اور کہاں سے جواب دیں گے جبکہ وہ تو لاشیں بن چکے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! تم اس بات کو جو میں ان سے کہہ رہا ہوں ان کی نسبت زیادہ سننے والے نہیں ہو۔ لیکن وہ جواب دینے کی طاقت نہیں رکھتے۔“ پھر آپ نے ان کے بارے میں حکم دیا تو انھیں گھسیٹا گیا اور بدر کے کنویں میں ڈال دیا گیا۔

حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب الجنة وصفة نعيمها وأهلها / حدیث: 2874
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
تخریج حدیث «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ مولانا عبد العزیز علوی
حضرت انس بن املک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تین دن تک مقتولین بدرکو رہنے دیا۔ پھر ان کے پاس آئے اور ان پر کھڑے ہو کر ان کوآواز دی۔"اے ابو جہل بن ہشام،اے امیہ بن خلف، اے عتبہ بن ربیعہ، اے شیبہ بن ربیعہ،کیا اللہ نے تم سے جو وعدہ کیا تھا اس کو وقوع پذیر ہوتے پا لیا۔"کیونکہ میں نے تو میرے رب نے جو وعدہ کیا تھا اس کو شدنی (واقع ہوتے) پالیا۔"سو حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے نبی اکرم صلی... (مکمل حدیث اس نمبر پر دیکھیں) [صحيح مسلم، حديث نمبر:7223]
حدیث حاشیہ: فوائد ومسائل: ثم اَمَرَ بهم کا یہ مقصد نہیں ہے کہ انہیں آپ کے ان کو مخاطب کرنے کے بعدکھڈ یا کچے کنویں میں ڈالا گیا، بلکہ یہ معنی ہے کہ خطاب کے علاوہ، ان سے یہ سلوک بھی کیا گیا، جیسا کہ سورہ بلد میں اعمال کے تذکرہ کے بعد فرمایا ثُمَّ كَانَ مِنَ الَّذِينَ آمَنُوا کہ یہ بات بھی ہے کہ وہ مومن ہو، ''اور امیہ بن خلف اگرچہ کھڈ میں نہیں ڈالا گیا تھا، کیونکہ بھاری بھرکم ہونے کی وجہ سے وہ پھول کر پھٹ گیا تھا، لیکن اس کو ان لاشوں کے قریب ہی رکھ کر مٹی اور پتھروں سے چھپا دیا گیا تھا، اس لیے آپ نے اس کو بھی مخاطب فرمایا، نیز اس حدیث سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ صحابہ کرام یہی سمجھتے تھے کہ مردے سنتے نہیں ہیں، اس لیے انہوں نے حیرت زدہ ہو کر آپ سے سوال کیا کہ آپ ان لاشوں سے کیوں کر مخاطب ہیں۔
درج بالا اقتباس تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 2874 سے ماخوذ ہے۔