صحيح مسلم
كتاب الجنة وصفة نعيمها وأهلها— جنت اس کی نعمتیں اور اہل جنت
باب فِي صِفَةِ يَوْمِ الْقِيَامَةِ أَعَانَنَا اللَّهُ عَلَى أَهْوَالِهَا: باب: قیامت کے دن کا بیان اور اللہ تعالیٰ قیامت کے دن کی سختیوں سے ہماری مدد فرمائے (آمین)۔
حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَعُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ ، قَالُوا : حَدَّثَنَا يَحْيَى يَعْنُونَ ابْنَ سَعِيدٍ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ، أَخْبَرَنِي نَافِعٌ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : يَوْمَ يَقُومُ النَّاسُ لِرَبِّ الْعَالَمِينَ سورة المطففين آية 6 ، قَالَ : " يَقُومُ أَحَدُهُمْ فِي رَشْحِهِ إِلَى أَنْصَافِ أُذُنَيْهِ " ، وَفِي رِوَايَةِ ابْنِ الْمُثَنَّى ، قَالَ : يَقُومُ النَّاسُ لَمْ يَذْكُرْ يَوْمَ " ،زہیر بن حرب، محمد بن مثنیٰ اور عبید اللہ بن سعید نے ہمیں حدیث بیان کی، انہوں نے کہا: ہمیں یحییٰ بن سعید نے عبید اللہ سے حدیث بیان کی، کہا: مجھے نافع نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے خبر دی، انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے (اس آیت کی تفسیر) روایت کی: ﴿يَوْمَ يَقُومُ النَّاسُ لِرَبِّ الْعَالَمِينَ﴾ (المطففين: 6) ”اس دن لوگ رب العالمین کے سامنے کھڑے ہوں گے“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہاں تک کہ ان میں سے کوئی اس طرح کھڑا ہو گا کہ اس کا پسینہ اس کے کانوں کے درمیان تک ہو گا۔“ اور ابن مثنیٰ کی روایت میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے (”ان میں سے کوئی“ کے بجائے) فرمایا: ”لوگ کھڑے ہوں گے۔“ انہوں نے (ابن مثنیٰ) نے (آیت میں) یوم (اس دن) کا ذکر نہیں کیا۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الْمُسَيَّبِيُّ ، حَدَّثَنَا أَنَسٌ يَعْنِي ابْنَ عِيَاضٍ . ح وحَدَّثَنِي سُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ مَيْسَرَةَ كِلَاهُمَا ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ . ح وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ الْأَحْمَرُ ، وَعِيسَى بْنُ يُونُسَ عَنْ ابْنِ عَوْنٍ . ح وحَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ يَحْيَى ، حَدَّثَنَا مَعْنٌ ، حَدَّثَنَا مَالِكٌ . ح وحَدَّثَنِي أَبُو نَصْرٍ التَّمَّارُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ أَيُّوبَ . ح وحَدَّثَنَا الْحُلْوَانِيُّ , وَعَبْدُ بْنُ حميد ، عَنْ يَعْقُوبَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنْ صَالِحٍ كُلُّ هَؤُلَاءِ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَعْنَى حَدِيثِ عُبَيْدِ اللَّهِ ، عَنْ نَافِعٍ غَيْرَ أَنَّ فِي حَدِيثِ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ وَصَالِحٍ ، حَتَّى يَغِيبَ أَحَدُهُمْ فِي رَشْحِهِ إِلَى أَنْصَافِ أُذُنَيْهِ .موسیٰ بن عقبہ، ابن عون، امام مالک، ایوب اور صالح سب نے نافع سے، انہوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی حدیث کے ہم معنی روایت بیان کی، جو عبید اللہ نے نافع سے بیان کی ہے، البتہ موسیٰ بن عقبہ اور صالح کی روایت ہے: ”یہاں تک کہ ان میں سے کوئی شخص آدھے کانوں تک اپنے پسینے میں ڈوبا ہو گا۔“
تشریح، فوائد و مسائل
ایک روایت میں ہے: ’’قیامت کے دن سورج ایک میل کی مقدار لوگوں کے قریب آجائے گا پس لوگ اپنے اپنے اعمال کے مطابق پسینے میں ہوں گے۔
یہ پسینہ کسی کے ٹخنوں تک کسی کے گھٹنوں تک کسی کی کمر تک اور کسی کے لیے یہ لگام بنا ہوا ہو گا۔
یعنی اس کے منہ تک پسینہ ہو گا۔
‘‘ (صحیح مسلم، الجنة و صفة نعیمھا و أھلھا، حدیث: 7296۔
(2862)
(1)
یہ پسینہ انسان کا ذاتی ہو گا جو نصف کانوں تک پہنچے گا۔
قیامت کے دن مسلسل خوف و ہراس، سورج کی نزدیکی اور لوگوں کے ہجوم کے سبب یہ پسینہ آئے گا۔
(2)
لوگوں کے اعمال کے پیش نظر یہ پسینہ کم و بیش ہو گا جیسا کہ درج ذیل حدیث سے پتا چلتا ہے، قیامت کے دن سورج لوگوں کے بالکل قریب آ جائے گا حتی کہ لوگ پسینے سے شرابور ہوں گے۔
کچھ لوگوں کو پسینہ ایڑیوں تک، کچھ کو نصف پنڈلی تک کسی کی گھٹنوں تک، کسی کے رانوں تک، کسی کی کمر تک، کسی کے کندھوں تک اور کچھ لوگوں کے منہ تک، بعض کے منہ کو لگام دیے ہو گا۔
آپ نے اپنے ہاتھ سے منہ کی طرف اشارہ کیا۔
اور کچھ لوگ پسینے میں غرق ہوں گے، آپ نے اپنے سر پر ہاتھ مار کر اس بات کی وضاحت فرمائی۔
(المستدرك للحاکم: 615/4)
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس آیت کریمہ کی تلاوت فرمائی: «يوم يقوم الناس لرب العالمين» ” جس دن لوگ رب العالمین کے سامنے کھڑے ہوں گے “ (المطففین: ۶)، اور کہا: ” اس دن لوگ اللہ کے سامنے اس حال میں کھڑے ہوں گے کہ پسینہ ان کے آدھے کانوں تک ہو گا۔“ [سنن ترمذي/كتاب صفة القيامة والرقائق والورع/حدیث: 2422]
وضاحت:
1؎:
جس دن لوگ رب العالمین کے سامنے کھڑے ہوں گے۔
(المطففین: 6)
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے: «يوم يقوم الناس لرب العالمين» ” جس دن لوگ رب العالمین کے سامنے کھڑے ہوں گے “ (سورۃ المطففین: ۶) کی تفسیر کرتے ہوئے فرمایا: ” لوگ اس طرح کھڑے ہوں گے کہ نصف کان تک اپنے پسینے میں غرق ہوں گے۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الزهد/حدیث: 4278]
فوائد و مسائل:
(1)
قیامت کے دن سورج بہت قریب ہوگا۔
جس کی وجہ سے بہت پسینہ آئے گا۔
لیکن یہ پسینہ اپنے اپنے گناہوں کے مطابق کم زیادہ ہوگا۔
(2)
بعض نیک لوگ عرش کے سائے تلے ہوں گے۔
اس وقت عرش کےسائے کے سوا کوئی سایہ نہیں ہوگا۔
(3)
عرش کے سائے کا شرف حاصل کرنے والے افراد کی تفصیل ایک حدیث میں اس طرح بیان کی گئی ہے: انصاف کرنے والا حکمران، اللہ کی عبادت میں مشغول رہنے والا جوان، مسجدوں سے محبت رکھنے والا (نمازی)
، محض اللہ کی رضا کےلئے کسی مومن سے محبت رکھنے والا، بدکاری کی دعوت رد کرکے اپنی پاک دامنی کی حفاظت کرنے والا، چھپا کر صدقہ کرنے والا، تنہائی میں اللہ کو یاد کر کے (اللہ کے سامنے عجزو انکسار کااظہار کرتے ہوئے)
اشک بار ہوجانے والا، دیکھئے: (صحیح البخاري، الذکاۃ، باب الصدقة بالیمین، حدیث 1423)