صحيح مسلم
كتاب الجنة وصفة نعيمها وأهلها— جنت اس کی نعمتیں اور اہل جنت
باب فَنَاءِ الدُّنْيَا وَبَيَانِ الْحَشْرِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ: باب: دنیا کے فنا اور حشر کا بیان۔
حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ إِسْحَاقَ . ح وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ ، حَدَّثَنَا بَهْزٌ ، قَالَا جَمِيعًا حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ طَاوُسٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " يُحْشَرُ النَّاسُ عَلَى ثَلَاثِ طَرَائِقَ ، رَاغِبِينَ رَاهِبِينً وَاثْنَانِ عَلَى بَعِيرٍ ، وَثَلَاثَةٌ عَلَى بَعِيرٍ ، وَأَرْبَعَةٌ عَلَى بَعِيرٍ ، وَعَشَرَةٌ عَلَى بَعِيرٍ ، وَتَحْشُرُ بَقِيَّتَهُمُ النَّارُ تَبِيتُ مَعَهُمْ حَيْثُ بَاتُوا ، وَتَقِيلُ مَعَهُمْ حَيْثُ ، قَالُوا : وَتُصْبِحُ مَعَهُمْ حَيْثُ أَصْبَحُوا وَتُمْسِي مَعَهُمْ حَيْثُ أَمْسَوْا " .حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ آپ نے فرمایا: ”(قیامت کے دن) لوگوں کو تین طریقوں سے (اللہ کے سامنے) اکٹھا کیا جائے گا۔ (کچھ لوگ) خوف و رجا کے عالم میں ہوں گے اور (وہ لوگ جنھیں حاضری کے وقت بھی عزت نصیب ہو گی۔ حسب مراتب) وہ (افراد) ایک اونٹ پر (سوار) ہوں گے اور تین ایک اونٹ پر اور چار ایک اونٹ پر اور دس ایک اونٹ پر (سوار ہو کر میدان حشر میں آئیں گے) اور باقی سب لوگوں کو آگ (اپنے گھیرے میں) اکٹھا کر کے لائے گی۔ جہاں ان پر رات آئے گی، وہ (آگ) رات کو بھی ان کے ساتھ ہو گی، جہاں انھیں دوپہر ہو گی وہ دوپہر کو بھی ان کے ساتھ رہے گی، وہ جہاں صبح کریں گے وہ صبح کے وقت بھی ان کے ساتھ ہو گی، اور جہاں وہ لوگ شام کریں گے وہ شام کو بھی ان کے ساتھ ہو گی۔“
تشریح، فوائد و مسائل
باقی اصل حقیقت اللہ کو ہی معلوم ہے۔
ہمارا ایمان ہے کہ صدق رسول اللہ صلی اللہ علیه وسلم۔
میدان محشر میں جمع کیے جانے والے لوگ تین قسموں پر مشتمل ہوں گے جیسا کہ حدیث میں اس کی تفصیل بیان ہوئی ہے اور یہ حشر قیامت سے پہلے دنیا کے آخر میں ہو گا کیونکہ آئندہ حدیث میں وضاحت ہے کہ تم لوگ ننگے پاؤں، ننگے جسم، پیدل چلتے ہوئے اور بے ساختہ اللہ تعالیٰ سے ملاقات کرو گے، نیز یہ بھی وضاحت ہے کہ کافر اس دن منہ کے بل چلیں گے۔
اس وضاحت سے معلوم ہوتا ہے کہ حدیث میں مذکورہ حشر قیامت سے تھوڑا سا پہلے ہو گا۔
واللہ أعلم
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” لوگ قیامت کے دن تین گروہ میں جمع کیے جائیں گے، کچھ جنت کی رغبت رکھنے والے اور جہنم سے ڈرنے والے ہوں گے ۱؎، اور کچھ لوگ ایک اونٹ پر دو سوار ہوں گے، ایک اونٹ پر تین سوار ہوں گے، ایک اونٹ پر چار سوار ہوں گے، ایک اونٹ پر دس سوار ہوں گے، اور بقیہ لوگوں کو آگ ۱؎ اکٹھا کرے گی، ان کے ساتھ وہ بھی قیلولہ کرے گی جہاں وہ قیلولہ کریں گے، رات گزارے گی جہاں وہ رات گزاریں گے، صبح کرے [سنن نسائي/كتاب الجنائز/حدیث: 2087]
(2) ”تین حالتوں میں“ یعنی کچھ خالص نیک، کچھ ملے جلے کاموں والے، کچھ خالص کافر۔ یا حشر کی تین حالتیں مراد ہیں: کچھ لوگ تو وقت ہی پر رغبت اور رہبت کے زیر اثر اپنے آپ محشر میں پہنچ جائیں گے۔ کچھ لوگ تنگ وقت میں بھاگیں گے جب سواریوں کی کمی ہوگی، پھر دو دو، تین تین، چار چار بلکہ اس سے بھی زیادہ ایک اونٹ پر سوار ہوکر بڑی تنگی کے ساتھ پہنچیں گے۔ کچھ لوگ آگ کے ساتھ زبردستی اکٹھے کیے جائیں گے۔
(3) یہ آگ قیامت سے قبل عدن کے ساحل سے نکلے گی۔ (صحیح مسلم، باب في الآیات التي تكون قبل الساعة، حدیث: 2901) بعض لوگوں نے اس آگ سے حقیقی آگ کے بجائے فتنہ مراد لیا ہے اور مجازاً فتنے کو بھی آگ کہہ لیا جاتا ہے لیکن پہلی بات ہی درست ہے۔ واللہ أعلم۔