صحيح مسلم
كتاب الجنة وصفة نعيمها وأهلها— جنت اس کی نعمتیں اور اہل جنت
باب فَنَاءِ الدُّنْيَا وَبَيَانِ الْحَشْرِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ: باب: دنیا کے فنا اور حشر کا بیان۔
وحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ حَاتِمِ بْنِ أَبِي صَغِيرَةَ ، حَدَّثَنِي ابْنُ أَبِي مُلَيْكَةَ ، عَنْ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " يُحْشَرُ النَّاسُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ حُفَاةً عُرَاةً غُرْلًا " ، قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، النِّسَاءُ وَالرِّجَالُ جَمِيعًا يَنْظُرُ بَعْضُهُمْ إِلَى بَعْضٍ ، قَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَا عَائِشَةُ : " الْأَمْرُ أَشَدُّ مِنْ أَنْ يَنْظُرَ بَعْضُهُمْ إِلَى بَعْضٍ " ،زہیر بن حرب نے روایت کیا کہ یحییٰ بن سعید نے ہمیں حاتم بن ابی صغیرہ سے حدیث بیان کی، انہوں نے ابن ابی ملیکہ سے، انہوں نے قاسم بن محمد سے، انہوں نے عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی، انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: «يحشر الناس يوم القيامة حفاة عراة غرلا» ”لوگ قیامت کے دن ننگے پاؤں، ننگے بدن، بے ختنہ اٹھائے جائیں گے۔“ میں نے کہا: یا رسول اللہ! عورتیں اور مرد سب ایک ساتھ ہوں گے، ایک دوسرے کو دیکھیں گے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”اے عائشہ! معاملہ اس سے کہیں زیادہ سخت ہوگا کہ کوئی ایک دوسرے کو دیکھے۔“ اور ابو بکر بن ابی شیبہ اور ابن نمیر نے کہا: ہمیں ابو خالد احمر نے حاتم بن ابی صغیرہ سے اسی سند کے ساتھ حدیث بیان کی اور انہوں نے اپنی روایت میں «غرلا» کا ذکر نہیں کیا۔
وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَابْنُ نُمَيْرٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ الْأَحْمَرُ ، عَنْ حَاتِمِ بْنِ أَبِي صَغِيرَةَ بِهَذَا الْإِسْنَادِ ، وَلَمْ يَذْكُرْ فِي حَدِيثِهِ غُرْلًا .امام صاحب یہی حدیث دو اور اساتذہ سے بیان کرتے ہیں، لیکن اس میں غیر مختون ہونے کا ذکر نہیں ہے۔
تشریح، فوائد و مسائل
(1)
حفاة، حاف کی جمع ہے، ننگے پیر۔
(2)
عراة: عارکی جمع ہے، برہنہ بدن، بے لباس، (3)
غرل: اغرل کی جمع ہے، غیر مختون۔
فوائد ومسائل: اس حدیث سے ثابت ہوتا ہے، لوگوں کا حشر، اس انداز سے ہو گا، جس انداز سےو ہ دنیا میں آئے تھے، اعمال کے سوا، ان کے پاس دنیا کی کوئی چیز نہیں ہوگی، جیسا کہ قرآن مجید میں ہے، ''جس طرح ہم نے تمہاری تخلیق کی ابتدا کی تھی، اس طرح اس کا اعادہ کریں گے، انبیا، آیت نمبر (104)
اور حالات کی دہشت اور خطر ناکی کی بنا پر کوئی کسی کی طرف دیکھے گا نہیں، اس کے بعد لباس پہنایا جائے گا۔
إلا ماشاءاللہ۔
قیامت کے دن لوگ بالکل ننگے میدان محشر میں آئیں گے جیسا کہ درج ذیل آیت سے معلوم ہوتا ہے: ’’اور تم ہمارے پاس اکیلے ہی آؤ گے جیسا کہ ہم نے تمہیں پہلی بار پیدا کیا تھا۔
‘‘ (الأنعام: 94/6)
ایک روایت میں ہے: ’’قیامت کی ہولناکیوں کے پیش نظر مرد، عورتوں کی طرف اور عورتیں مردوں کی طرف نہیں دیکھیں گے کیونکہ وہاں ہر ایک کو اپنی ہی پڑی ہو گی۔
‘‘ (المستدرك للحاکم: 609/4)
ایک دوسری روایت میں ہے کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ حدیث بیان کی تو حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے عرض کی: اللہ کے رسول! مستور اور پوشیدہ رکھے جانے والے اعضاء کا کیا ہو گا؟ آپ نے فرمایا: ’’سورۂ عبس کی درج ذیل آیت پڑھو: ’’اس دن ہر ایک کی ایسی حالت ہو گی جو اسے دوسروں سے بے پروا بنا دے گی۔
‘‘ (سنن النسائي، الجنائز، حدیث: 2085)
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” لوگ قیامت کے دن ننگے پاؤں، ننگے بدن (اور) غیر مختون اٹھائے جائیں گے “، تو اس پر عائشہ رضی اللہ عنہا نے پوچھا: لوگوں کی شرمگاہوں کا کیا حال ہو گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” اس دن ہر ایک کی ایسی حالت ہو گی جو اسے (ان چیزوں سے) بے نیاز کر دے گی۔“ [سنن نسائي/كتاب الجنائز/حدیث: 2085]
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں نے پوچھا: اللہ کے رسول! لوگ قیامت کے دن کیسے اٹھائے جائیں گے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” ننگے پاؤں، ننگے بدن “، میں نے کہا: عورتیں بھی اسی طرح؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” عورتیں بھی “، میں نے کہا: اللہ کے رسول! پھر شرم نہیں آئے گی؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” عائشہ! معاملہ اتنا سخت ہو گا کہ (کوئی) ایک دوسرے کی طرف نہ دیکھے گا “ ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الزهد/حدیث: 4276]
فوائد و مسائل:
(1)
لوگ جب قبروں سے نکلیں گے اس وقت ننگے پاؤں اور بے لباس ہوں گے بعد میں انھیں اپنے اپنے درجے کے مطابق لباس مل جائے گا۔
(2)
قیامت کے معاملات بہت سخت ہیں۔
بعض مراحل ایسے ہیں جن میں کسی کو کسی کا ہوش نہ ہوگا۔
البتہ بعض مراحل میں ایک دوسرے سے بات چیت ہوگی۔