صحيح مسلم
كتاب الجنة وصفة نعيمها وأهلها— جنت اس کی نعمتیں اور اہل جنت
باب النَّارُ يَدْخُلُهَا الْجَبَّارُونَ وَالْجَنَّةُ يَدْخُلُهَا الضُّعَفَاءُ: باب: اس بات کے بیان میں کہ دوزخ میں ظالم و متکبر داخل ہوں گے اور جنت میں کمزور و مسکین داخل ہوں گے۔
حدیث نمبر: 2856
حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ سُهَيْلٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " رَأَيْتُ عَمْرَو بْنَ لُحَيِّ بْنِ قَمْعَةَ بْنِ خِنْدِفَ أَبَا بَنِي كَعْبٍ هَؤُلَاءِ يَجُرُّ قُصْبَهُ فِي النَّارِ " .سہیل کے والد (ابوصالح) نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں نے عروہ بن لحی بن قمعہ بن خندف، ان بنو کعب والوں کے جذع اعلیٰ کو دیکھا، وہ جہنم میں اپنی انتڑیاں گھسیٹ رہا تھا“۔
حَدَّثَنِي عَمْرٌو النَّاقِدُ ، وَحَسَنٌ الْحُلْوَانِيُّ ، وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ ، قَالَ عَبد بن حميد : أَخْبَرَنِي ، وقَالَ الْآخَرَانِ : حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ وَهُوَ ابْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنْ صَالِحٍ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيِّبِ ، يَقُولُ : إِنَّ الْبَحِيرَةَ الَّتِي يُمْنَعُ دَرُّهَا لِلطَّوَاغِيتِ ، فَلَا يَحْلُبُهَا أَحَدٌ مِنَ النَّاسِ ، وَأَمَّا السَّائِبَةُ الَّتِي كَانُوا يُسَيِّبُونَهَا لِآلِهَتِهِمْ ، فَلَا يُحْمَلُ عَلَيْهَا شَيْءٌ ، وَقَالَ ابْنُ الْمُسَيَّبِ ، قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " رَأَيْتُ عَمْرَو بْنَ عَامِرٍ الْخُزَاعِيَّ يَجُرُّ قُصْبَهُ فِي النَّارِ ، وَكَانَ أَوَّلَ مَنْ سَيَّبَ السُّيُوبَ " .حضرت سعیدبن المسیب رحمۃ اللہ علیہ بیان کرتے ہیں بجیرہ وہ جانور ہے۔جس کا دودھ بتوں کے لیے روک لیا جا تا ہے چنانچہ ان کوکوئی شخص اپنے لیے نہیں دوہتا تھا اور سائبہ وہ جانور ہے، جسے لوگ اپنے معبودان باطلہ کے لیے چھوڑ دیتے تھے اور ان پر کوئی چیز نہیں لا دی جاتی تھی ابن المسیب رحمۃ اللہ علیہ بیان کرتے ہیں حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے بتایا،رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:"میں نے عمرو بن عامر خزاعی کو آگ میں اپنی انتڑیاں گھسیٹتے دیکھا اور وہ پہلا شخص ہے، جس نے حیوانوں کو بتوں کے لیے چھوڑا تھا۔"
حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب الجنة وصفة نعيمها وأهلها / حدیث: 2856
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ مولانا عبد العزیز علوی
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ روایت کرتے ہیں،رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:"میں نے ان بنو کعب کے باپ عمرو بن لحی بن قمعہ بن خندف کو آگ میں اپنی انتڑیاں گھسیٹتے ہوئے دیکھا " [صحيح مسلم، حديث نمبر:7192]
حدیث حاشیہ: فوائد ومسائل: عمرو بن لحلی، پہلا شخص ہے جس نے دین ابراہیمی میں تبدیلی کی اور بتوں کی پوجا پاٹ شروع اور شام کے بنو عمالقہ سے، ہبل نامی بت لا کر مکہ مکرمہ میں کعبہ کے قریب گاڑ دیا۔
درج بالا اقتباس تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 2856 سے ماخوذ ہے۔