صحيح مسلم
كتاب الجنة وصفة نعيمها وأهلها— جنت اس کی نعمتیں اور اہل جنت
باب النَّارُ يَدْخُلُهَا الْجَبَّارُونَ وَالْجَنَّةُ يَدْخُلُهَا الضُّعَفَاءُ: باب: اس بات کے بیان میں کہ دوزخ میں ظالم و متکبر داخل ہوں گے اور جنت میں کمزور و مسکین داخل ہوں گے۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَأَبُو كُرَيْبٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ زَمْعَةَ ، قَالَ : خَطَبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَذَكَرَ النَّاقَةَ وَذَكَرَ الَّذِي عَقَرَهَا ، فَقَالَ : " إِذْ انْبَعَثَ أَشْقَاهَا انْبَعَثَ بِهَا رَجُلٌ عَزِيزٌ عَارِمٌ مَنِيعٌ فِي رَهْطِهِ مِثْلُ أَبِي زَمْعَةَ " ، ثُمَّ ذَكَرَ النِّسَاءَ فَوَعَظَ فِيهِنَّ ، ثُمَّ قَالَ : " إِلَامَ يَجْلِدُ أَحَدُكُمُ امْرَأَتَهُ " . فِي رِوَايَةِ أَبِي بَكْرٍ جَلْدَ الْأَمَةِ ، وَفِي رِوَايَةِ أَبِي كُرَيْبٍ جَلْدَ الْعَبْدِ ، وَلَعَلَّهُ يُضَاجِعُهَا مِنْ آخِرِ يَوْمِهِ ثُمَّ وَعَظَهُمْ فِي ضَحِكِهِمْ مِنَ الضَّرْطَةِ ، فَقَالَ : " إِلَامَ يَضْحَكُ أَحَدُكُمْ مِمَّا يَفْعَلُ " .حضرت عبداللہ بن زمعہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں،رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خطاب فرمایا اور اس میں (حضرت صالح کی) اونٹنی کا ذکر کیا اور اس کی کونچیں کاٹنے والے کا تذکرہ کیا، چنانچہ فرمایا:"جب قوم کا سب سے بڑا بد بخت اٹھا، یعنی اس کے لیے وہ شخص اٹھا جو غالب سر کش و مفسد اور اپنے خاندان کی پناہ و حفاظت رکھنے والا اٹھا جیسے ابو زمعہ ہے۔" پھر آپ نے عورتوں کا ذکر کیا اور ان کو نصیحت فرمائی، پھر فرمایا:"تم میں سے کوئی شخص اپنی بیوی کو کیوں مارتا ہے۔"ابو بکر کی روایت میں ہے۔"لونڈی کی مار۔"اور ابو کریب کی روایت میں ہے،"غلام کو مارنے کی طرح،شاید اس دن کے آخر میں، وہ اسے تعلقات قائم کرنے کی ضرورت محسوس کرے۔"پھر انہیں آواز سے ہوا خارج کرنے پر ہنسنے کے سلسلہ میں نصیحت فرمائی،سوفرمایا:"تم میں سے کوئی شخص،اپنے فعل پر کیوں ہنستا ہے۔
تشریح، فوائد و مسائل
(1)
عزيز، طاقت ور، سب پر غالب، معزز۔
(2)
عارم: بدخلق، شریر، مفسدہ پرداز، (3)
منيع: مضبوط، قوی جس پر کوئی قابونہ پاسکے، یہ آدمی قدار بن سالف نامی تھا۔
اس روایت کو اسحاق بن راہویہ نے اپنی سند میں وصل کیا ہے۔
سورۃ والشمس مکہ میں اتری حدیث میں ہے آپ عشاء کی نماز میں یہ سورت اوراسی کے برابر کی سورت پڑھتے۔
(و القمرِ إِذَا تَلاھَا)
اور چاند جب کہ اس کے پیچھے آئے یعنی سورج چھپ جائے اور چاند چمکنے لگے پھر دن کی قسم کھائی جب کہ وہ منور ہو جائے۔
امام جریر فرماتے ہیں کہ ان سب میں ضمیر ھا کا مرجع شمس ہے کیونکہ ا س کا ذکر چل رہا ہے۔
ابن ابی حاتم کی ایک روایت میں ہے کہ جب رات آتی ہے تواللہ پاک فرماتا ہے میرے بندوں کو میری ایک بہت بڑی خلق نے چھپا لیا پس مخلوق رات سے ہیبت کرتی ہے، اس کے پیدا کرنے والے سے اور زیادہ ہیبت چاہئے پھر آسمان کی قسم کھاتا ہے۔
یہاں جو ما ہے یہ مصدریہ بھی ہوسکتا ہے، یعنی آسمان اور اس کی بناوٹ کی قسم اور ما بمعنی من کے بھی ہوسکتا ہے تو مطلب یہ ہوگا کہ آسمان کی قسم اور اس کے بنانے والے کی قسم۔
مترجم مرحوم مولانا وحید الزماں نے یہی ترجمہ اختیار فرمایا ہے۔
(وحیدی)
اس حدیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عورتوں کو بےجا پیٹنے سے منع فرمایا ہے نیز پاد کی آواز کی طرف توجہ نہ دینے کی ترغیب دی ہے۔
دور جاہلیت میں لوگ پاد کی آواز سن کر ہنسا کرتے تھے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے منع فرمایا کہ جب ایسی چیز واقع ہو تو اس کی طرف توجہ ہی نہ دی جائے۔
حضرت لوط علیہ السلام کی قوم میں یہ حرکت عام تھی کہ وہ اپنی مجالس میں جان بوجھ کر پاد مارتے پھر اس پر ہنسا کرتے تھے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے منع فرمایا ہے۔
واللہ اعلم۔
قرآن کریم نے اس اونٹنی کے قتل کا واقعہ ان الفاظ میں بیان کیا ہے۔
﴿كَذَّبَتْ ثَمُودُ بِطَغْوَاهَا (11)
إِذِ انبَعَثَ أَشْقَاهَا (12)
فَقَالَ لَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ نَاقَةَ اللَّهِ وَسُقْيَاهَا (13)
فَكَذَّبُوهُ فَعَقَرُوهَا فَدَمْدَمَ عَلَيْهِمْ رَبُّهُم بِذَنبِهِمْ فَسَوَّاهَا﴾ ’’(قوم)
ثمود نے اپنی سر کشی کی وجہ سے جھٹلادیا۔
جب اس قوم کا سب سے بڑا بد بخت اٹھ کھڑا ہوا تو ان سے اللہ کے رسول (صالح)
نے کہا اللہ کی اونٹنی اور اس کے پینے کی باری کا خیال رکھو۔
انھوں نے اس (رسول)
کو جھٹلایا اور اونٹنی کو مار ڈالاتو ان کے رب نے ان کے گناہ کی وجہ سے انھیں پیس کر ہلاک کردیا پھر اس (بستی)
کو برابر یعنی ملیامیٹ کردیا۔
‘‘ (الشمس11-
13)
روایات میں اس کا نام قدار بن سالف بتایا گیا ہے جو بڑا شریر اور مضبوط جسم والا تھا۔
رسول اللہ ﷺ نے عزت و قوت میں اسے ابو زمعہ جیسا قراردیا ہے جس کا نام اسود بن مطلب تھا جو اپنی قوم میں رسہ گیر تھا اور رسول اللہ ﷺ کا مذاق اڑانے والے ان لوگوں میں سےتھا جن کے متعلق ارشاد باری تعالیٰ ہے: ﴿إِنَّا كَفَيْنَاكَ الْمُسْتَهْزِئِينَ﴾ ’’قیناًآپ کی طرف سے ہم مذاق کرنے والوں کو کافی ہیں۔
‘‘ (الحجر: 95/15)
حضرت جبرئیل ؑ نے اپنا پر مار کر اسے اندھا کردیا تھا۔
(عمدة القاري: 11/97۔
98)
عبداللہ بن زمعہ کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک دن اس اونٹنی کا (مراد صالح علیہ السلام کی اونٹنی) اور جس شخص نے اس اونٹنی کی کوچیں کاٹی تھیں کا ذکر کرتے ہوئے سنا، آپ نے یہ آیت «إذ انبعث أشقاها» تلاوت کی، اس کام کے لیے ایک «شرِّ» سخت دل طاقتور، قبیلے کا قوی و مضبوط شخص اٹھا، مضبوط و قوی ایسا جیسے زمعہ کے باپ ہیں، پھر میں نے آپ کو عورتوں کا ذکر کرتے ہوئے سنا، آپ نے فرمایا: " آخر کیوں کوئی اپنی بیوی کو غلام کو کوڑے مارنے کی طرح کوڑے مارتا ہے اور جب کہ اسے توقع ہوتی ہے کہ وہ اس دن کے آخری حصہ میں (یعنی رات میں) اس۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن ترمذي/كتاب تفسير القرآن/حدیث: 3343]
وضاحت:
1؎:
اس حدیث میں صالح علیہ السلام کی اونٹنی کی کوچیں کاٹنے والے بدبخت کے ذکر کے ساتھ اسلام کی دو اہم ترین اخلاقی تعلیمات کا ذکر ہے۔ 1۔
اپنی شریک زندگی کے ساتھ حسن سلوک کرنے اور 2۔
مجلس میں کسی کی ریاح زورسے خارج ہو جانے پر نہ ہنسنے کا مشورہ، کس حکیمانہ پیرائے میں آپﷺ نے دونوں باتوں کی تلقین کی ہے! قابلِ غور ہے، فداہ أبي وأمي۔