صحيح مسلم
كتاب الجنة وصفة نعيمها وأهلها— جنت اس کی نعمتیں اور اہل جنت
باب النَّارُ يَدْخُلُهَا الْجَبَّارُونَ وَالْجَنَّةُ يَدْخُلُهَا الضُّعَفَاءُ: باب: اس بات کے بیان میں کہ دوزخ میں ظالم و متکبر داخل ہوں گے اور جنت میں کمزور و مسکین داخل ہوں گے۔
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ الْعَنْبَرِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، حَدَّثَنِي مَعْبَدُ بْنُ خَالِدٍ ، أَنَّهُ سَمِعَ حَارِثَةَ بْنَ وَهْبٍ ، أَنَّهُ سَمِعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " أَلَا أُخْبِرُكُمْ بِأَهْلِ الْجَنَّةِ ؟ " ، قَالُوا : بَلَى ، قَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " كُلُّ ضَعِيفٍ مُتَضَعِّفٍ لَوْ أَقْسَمَ عَلَى اللَّهِ لَأَبَرَّهُ " ، ثُمَّ قَالَ : " أَلَا أُخْبِرُكُمْ بِأَهْلِ النَّارِ ؟ " ، قَالُوا : بَلَى ، قَالَ : " كُلُّ عُتُلٍّ جَوَّاظٍ مُسْتَكْبِرٍ " ،معاذ عنبری نے کہا: ہمیں شعبہ نے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا: مجھے معبدبن خالد نے حدیث بیان کی، انہوں نے حضرت حارثہ بن وہب رضی اللہ عنہ سے سنا کہ انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا میں تمھیں اہل جنت کے بارے میں خبر نہ دوں؟“ انہوں (صحابہ رضوان اللہ عنھم اجمعین) نے عرض کیا: کیوں نہیں! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہر کمزور جسے کمزور سمجھا جاتا ہے، (مگر ایسا کہ) اگر (کسی معاملے میں) اللہ پر قسم کھا لے تو وہ اس کی قسم پوری کر دے“۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا میں تمھیں اہل جہنم کے بارے میں خبر نہ دوں؟“ لوگوں نے کہا: کیوں نہیں! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہر اجذ، مال اکھٹا کرنے والا اسے خرچ نہ کرنے والا اور تکبر اختیار کرنے والا“۔
وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ بِمِثْلِهِ ، غَيْر أَنَّهُ قَالَ : أَلَا أَدُلُّكُمْ .محمد بن جعفر نے کہا: ہمیں شعبہ نے اسی سند کے ساتھ اسی کے مانند حدیث بیان کی مگر اس میں کہا: ”کیا میں تمھاری رہنمائی نہ کروں؟“۔
وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ مَعْبَدِ بْنِ خَالِدٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ حَارِثَةَ بْنَ وَهْبٍ الْخُزَاعِيَّ ، يَقُولُ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَلَا أُخْبِرُكُمْ بِأَهْلِ الْجَنَّةِ ؟ كُلُّ ضَعِيفٍ مُتَضَعِّفٍ لَوْ أَقْسَمَ عَلَى اللَّهِ لَأَبَرَّهُ ، أَلَا أُخْبِرُكُمْ بِأَهْلِ النَّارِ ؟ كُلُّ جَوَّاظٍ زَنِيمٍ مُتَكَبِّرٍ " .سفیان نے ہمیں معبدبن خالد سے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا: میں نے حضرت حارثہ بن وہب خزاعی رضی اللہ عنہ سے سنا، وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا میں تمھیں اہل جنت کی خبر نہ دوں؟ ہر کمزور جسے کمزور اور لاچار سمجھا جاتا ہے، (لیکن ایسا کہ) اگر اللہ پر (اعتماد کرتے ہوئے) قسم کھا لے تو وہ اسے پوری کر دے۔ کیا میں تمھیں اہل جہنم کے بارے میں خبر نہ دوں؟ ہر مال اکھٹا کرنے والا اور اسے خرچ نہ کرنے والا، بد اصل، متکبر“۔
تشریح، فوائد و مسائل
(1)
عتل: بہت کھانے والا، سخت مزاج، بدخو، سرکش، بدگو گناہ گار، جھگڑالو۔
(2)
جواظ: تکبر سے چلنے والا، مغرور، اجڈ، اکھڑ، بسیارخور، بھاری بھرکم۔
فوائد ومسائل: جنت میں اکثریت ان لوگوں کی ہو گی، جوضعیف، کم دست، متواضع اور گم نام ہوں گے، لوگ ان کو کم تر اور حقیر خیال کریں گے، لیکن اللہ کے ہاں ان کا مقام و مرتبہ بہت بلند ہوگا، اس وجہ سے اگر وہ اللہ کے کرم پر اعتماد کرتے ہوئے، کسی چیز پر قسم کھالے تو اللہ اس کی قسم کو پورا کردے گا، یا کسی چیز کا سوال کر کے کہہ دے، اللہ کی قسم، ایسے ہی ہوگا تو اللہ اس کی دعا قبول فرمالے گا۔