حدیث نمبر: 2852
حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ ، وَأَحْمَدُ بْنُ عُمَرَ الْوَكِيعِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ فُضَيْلٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ يَرْفَعُهُ ، قَالَ : " مَا بَيْنَ مَنْكِبَيِ الْكَافِرِ فِي النَّارِ ، مَسِيرَةُ ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ لِلرَّاكِبِ الْمُسْرِعِ " ، وَلَمْ يَذْكُرِ الْوَكِيعِيُّ فِي النَّارِ .

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ مرفوع حدیث بیان کرتے ہیں آپ نے فرمایا: "آگ میں کافر کے دو کندھوں کا درمیانی فاصلہ،تین دن کی مسافت کے بقدر ہو گا،جبکہ اس کو تیز رفتار سوار طے کرے۔"وکیع نے فی النار،آگ میں بیان نہیں کیا۔

حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب الجنة وصفة نعيمها وأهلها / حدیث: 2852
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
تخریج حدیث «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : صحيح البخاري: 6551

تشریح، فوائد و مسائل

موضوع سے متعلق حدیث: صحيح البخاري / حدیث: 6551 کی شرح از الشیخ عبدالستار الحماد ✍️
6551. حضرت ابو ہریرہ ؓ سے روایت ہے وہ نبی ﷺ سے بیان کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا: کافر کے دونوں کندھوں کے درمیان تیز چلنے والے سوار کے لیے تین دن کی مسافت کا فاصلہ ہوگا۔[صحيح بخاري، حديث نمبر:6551]
حدیث حاشیہ:
(1)
ایک دوسری حدیث میں ہے کہ کافر کا جسم، جہنم میں اتنا بڑا کر دیا جائے گا کہ اس کے کانوں سے کندھوں کا فاصلہ ستر سال کی مسافت جتنا ہو گا۔
(مسند أحمد: 117/6) (2)
کفار کی اذیت و تکلیف میں اضافے کے لیے ان کے جسم بڑھا دیے جائیں گے لیکن جب انہیں اللہ تعالیٰ کی عدالت میں پیش کیا جائے گا تو چیونٹیوں کی طرح ذلیل و خوار ہوں گے جیسا کہ ایک روایت میں ہے: ’’قیامت کے دن متکبرین کو چیونٹیوں کی طرح مردوں کی صورت میں اٹھایا جائے گا، پھر انہیں دوزخ میں ایک جیل میں بھیجا جائے گا جس کا نام بولس ہے۔
‘‘ (جامع الترمذي، صفة القیامة، حدیث: 2492)
جب دوزخ میں پہنچ جائیں گے تو ان کے جسم حسب عذاب بڑھا دیے جائیں گے تاکہ انہیں عذاب کی شدت بھرپور طریقے سے محسوس ہو۔
(3)
حافظ ابن حجر رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ دوزخ میں کفار کے عذاب میں کمی بیشی ہو گی، عام کفار کے مقابلے میں معاندین اور ضدی کافروں کو سخت عذاب دیا جائے گا۔
(فتح الباري: 516/11)
درج بالا اقتباس هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 6551 سے ماخوذ ہے۔