صحيح مسلم
كتاب الجنة وصفة نعيمها وأهلها— جنت اس کی نعمتیں اور اہل جنت
باب النَّارُ يَدْخُلُهَا الْجَبَّارُونَ وَالْجَنَّةُ يَدْخُلُهَا الضُّعَفَاءُ: باب: اس بات کے بیان میں کہ دوزخ میں ظالم و متکبر داخل ہوں گے اور جنت میں کمزور و مسکین داخل ہوں گے۔
حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، وَالْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْحُلْوَانِيُّ ، وعبد بن حميد ، قَالَ عَبد بن حميد : أَخْبَرَنِي ، وقَالَ الْآخَرَانِ : حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ وَهُوَ ابْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنْ صَالِحٍ ، حَدَّثَنَا نَافِعٌ ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ ، قَالَ : إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " يُدْخِلُ اللَّهُ أَهْلَ الْجَنَّةِ الْجَنَّةَ ، وَيُدْخِلُ أَهْلَ النَّارِ النَّارَ ، ثُمَّ يَقُومُ مُؤَذِّنٌ بَيْنَهُمْ ، فَيَقُولُ يَا أَهْلَ الْجَنَّةِ : لَا مَوْتَ ، وَيَا أَهْلَ النَّارِ : لَا مَوْتَ كُلٌّ خَالِدٌ فِيمَا هُوَ فِيهِ " .نافع نے ہمیں حدیث بیان کی کہ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ اہل جنت کو جنت میں داخل کرے گا اور اہل جہنم کو جہنم میں داخل کرے گا۔ پھر ان کے درمیان ایک اعلان کرنے والا کھڑا ہو کر اعلان کرے گا: اے اہل جنت! اب موت نہیں ہے، اور اے اہل دوزخ! اب موت نہیں ہے ہر شخص جہاں ہے وہیں ہمیشہ رہنے والا ہے“۔
حَدَّثَنِي هَارُونُ بْنُ سَعِيدٍ الْأَيْلِيُّ ، وَحَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَا : حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، حَدَّثَنِي عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ زَيْدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ ، أَنَّ أَبَاهُ حَدَّثَهُ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " إِذَا صَارَ أَهْلُ الْجَنَّةِ إِلَى الْجَنَّةِ ، وَصَارَ أَهْلُ النَّارِ إِلَى النَّارِ أُتِيَ بِالْمَوْتِ ، حَتَّى يُجْعَلَ بَيْنَ الْجَنَّةِ وَالنَّارِ ، ثُمَّ يُذْبَحُ ، ثُمَّ يُنَادِي مُنَادٍ يَا أَهْلَ الْجَنَّةِ : لَا مَوْتَ ، وَيَا أَهْلَ النَّارِ : لَا مَوْتَ ، فَيَزْدَادُ أَهْلُ الْجَنَّةِ فَرَحًا إِلَى فَرَحِهِمْ ، وَيَزْدَادُ أَهْلُ النَّارِ حُزْنًا إِلَى حُزْنِهِمْ " .حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:"جب جنتی،جنت میں چلے جائیں گے اور دوزخی،دوزخ میں پہنچ جائیں گے، موت کو لایا جائے گاحتی کہ اسے جنت اور دوزخ کے درمیان رکھ کر ذبح کر دیا جائے گا،پھر اعلان کرنے والا،پکارے گا۔ اے اہل جنت!اب موت نہیں آئے گی اور اے دوزخیو!اب موت نہیں ہے، چنانچہ اہل جنت کی مسرت میں مسرت کا اضافہ ہو گا اور اہل دوزخ کے غم و حزن میں،غم و حزن کا اضافہ ہو گا۔"
تشریح، فوائد و مسائل
اس لیے اس کا ذبح کیا جانا عقل کے خلاف قطعی نہیں ہے۔
(1)
حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ایک حدیث میں ہے: ’’موت کو سیاہ اور سفید رنگ کے مینڈھے کی شکل میں لایا جائے گا اور اہل جنت اور اہل جہنم سے شناخت کرانے کے بعد اسے ذبح کیا جائے گا۔
‘‘ (صحیح البخاري، التفسیر، حدیث: 4730)
ایک روایت میں ہے: ’’جنت اور دوزخ کے درمیان دیوار پر اسے ذبح کیا جائے گا۔
‘‘ (جامع الترمذي، صفة الجنة، حدیث: 2557)
سفید سے اہل جنت کی خوبصورتی اور سیاہ سے اہل جہنم کی بدصورتی کی طرف اشارہ مقصود ہے۔
(فتح الباري: 511/11) (2)
کچھ لوگوں نے اعتراض کیا ہے کہ موت تو ایک عرض ہے جس کا اپنا ذاتی کوئی وجود نہیں تو اسے ذبح کرنے کے کیا معنی؟ لیکن یہ اعتراض برائے اعتراض ہے، اس کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں کیونکہ قادر مطلق اسے مینڈھے کا وجود دے گا پھر اسے ذبح کیا جائے گا۔
اس طور پر اس کا ذبح کیا جانا عقل کے خلاف نہیں کہ حدیث پر خلاف عقل ہونے کا دھبا لگایا جائے۔
(3)
اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ موت کو ذبح کرنے کے بعد کسی وقت بھی جہنم کو ختم نہیں کیا جائے گا بلکہ وہ ہمیشہ رہے گی۔
واللہ أعلم