حدیث نمبر: 2846
حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنْ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " احْتَجَّتِ النَّارُ وَالْجَنَّةُ ، فَقَالَتْ : هَذِهِ يَدْخُلُنِي الْجَبَّارُونَ وَالْمُتَكَبِّرُونَ ، وَقَالَتْ : هَذِهِ يَدْخُلُنِي الضُّعَفَاءُ وَالْمَسَاكِينُ ، فَقَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ : لِهَذِهِ أَنْتِ عَذَابِي أُعَذِّبُ بِكِ مَنْ أَشَاءُ ، وَرُبَّمَا قَالَ : أُصِيبُ بِكِ مَنْ أَشَاءُ ، وَقَالَ لِهَذِهِ : أَنْتِ رَحْمَتِي أَرْحَمُ بِكِ مَنْ أَشَاءُ ، وَلِكُلِّ وَاحِدَةٍ مِنْكُمَا مِلْؤُهَا " .

سفیان نے ابوزناد سے، انہوں نے اعرج سے اور انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”دوزخ اور جنت میں مباحثہ ہوا تو اس (دوزخ) نے کہا: میرے اندر جبار اور متکبر داخل ہوں گے۔ اور اس (جنت) نے کہا: میرے اندر (اسباب دنیا کے اعتبار سے) ضعیف اور مسکین لوگ داخل ہوں گے۔ اللہ عزوجل نے اس (دوزخ) سے کہا: تم میرا عذاب ہو، تمھارے ذریعے سے میں جنھیں چاہوں گا عذاب دوں گا، یا شاید فرمایا: جنھیں چاہوں گا مبتلا کروں گا۔ اور اس (جنت) سے کہا: تو میری رحمت ہے اور تمھارے ذریعے سے جس پر چاہوں گا رحم کروں گا اور تم دونوں کے لیے وہ مقدار ہو گی جو اس کو بھر دے گی“۔

وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، حَدَّثَنَا شَبَابَةُ ، حَدَّثَنِي وَرْقَاءُ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنْ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " تَحَاجَّتِ النَّارُ وَالْجَنَّةُ ، فَقَالَتِ النَّارُ : أُوثِرْتُ بِالْمُتَكَبِّرِينَ وَالْمُتَجَبِّرِينَ ، وَقَالَتِ الْجَنَّةُ : فَمَا لِي لَا يَدْخُلُنِي إِلَّا ضُعَفَاءُ النَّاسِ وَسَقَطُهُمْ وَعَجَزُهُمْ ، فَقَالَ اللَّهُ لِلْجَنَّةِ : أَنْتِ رَحْمَتِي أَرْحَمُ بِكِ مَنْ أَشَاءُ مِنْ عِبَادِي ، وَقَالَ لِلنَّارِ : أَنْتِ عَذَابِي أُعَذِّبُ بِكِ مَنْ أَشَاءُ مِنْ عِبَادِي ، وَلِكُلِّ وَاحِدَةٍ مِنْكُمْ مِلْؤُهَا ، فَأَمَّا النَّارُ فَلَا تَمْتَلِئُ فَيَضَعُ قَدَمَهُ عَلَيْهَا ، فَتَقُولُ : قَطْ قَطْ فَهُنَالِكَ تَمْتَلِئُ وَيُزْوَى بَعْضُهَا إِلَى بَعْضٍ " ،

ورقاء نے مجھے ابوزناد سے، انہوں نے اعرج سے، انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”دوزخ اور جنت نے باہم (اپنی اپنی برتری کے) دلائل دیے، دوزخ نے کہا: مجھے جبر و تکبر کرنے والوں (کا ٹھکانہ ہونے) کی بناء پر ترجیح حاصل ہے۔ جنت نے کہا: مجھے کیا ہوا ہے کہ میرے اندر کمزور، خاک نشین، اور عاجز و لاچار لوگ ہی داخل ہوں گے؟ اللہ عزوجل نے جنت سے فرمایا: تو میری رحمت ہے، میں اپنے بندوں میں سے جن پر چاہوں گا تیرے ذریعے سے رحمت کروں گا اور دوزخ سے کہا: تو میرا عذاب ہے، میں اپنے بندوں میں سے جس کو چاہوں گا تمھارے ذریعے سے عذاب دوں گا اور تم دونوں کے لیے اتنی (مخلوق) ہے جس سے تم بھر جاؤ۔ رہی دوزخ تو وہ پوری طرح سے نہیں بھرے گی، چنانچہ وہ (اللہ) اس کے اوپر اپنا قدم رکھے گا تو وہ کہے گی: بس بس! اس وقت وہ بھر جائے گی اور باہم سمٹ جائے گی“۔

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَوْنٍ الْهِلَالِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبُو سُفْيَانَ يَعْنِي مُحَمَّدَ بْنَ حُمَيْدٍ ، عَنْ مَعْمَرٍ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ ابْنِ سِيرِينَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : احْتَجَّتِ الْجَنَّةُ وَالنَّارُ ، وَاقْتَصَّ الْحَدِيثَ بِمَعْنَى حَدِيثِ أَبِي الزِّنَادِ .

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:"دوزخ اور جنت میں جھگڑا ہوا آگے مذکورہ بالاروایت بیان کی۔

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ ، قَالَ : هَذَا مَا حَدَّثَنَا أَبُو هُرَيْرَةَ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرَ أَحَادِيثَ مِنْهَا ، وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " تَحَاجَّتِ الْجَنَّةُ وَالنَّارُ ، فَقَالَتِ النَّارُ : أُوثِرْتُ بِالْمُتَكَبِّرِينَ وَالْمُتَجَبِّرِينَ ، وَقَالَتِ الْجَنَّةُ : فَمَا لِي لَا يَدْخُلُنِي إِلَّا ضُعَفَاءُ النَّاسِ وَسَقَطُهُمْ وَغِرَّتُهُمْ ، قَالَ اللَّهُ لِلْجَنَّةِ : إِنَّمَا أَنْتِ رَحْمَتِي أَرْحَمُ بِكِ مَنْ أَشَاءُ مِنْ عِبَادِي ، وَقَالَ لِلنَّارِ : إِنَّمَا أَنْتِ عَذَابِي أُعَذِّبُ بِكِ مَنْ أَشَاءُ مِنْ عِبَادِي ، وَلِكُلِّ وَاحِدَةٍ مِنْكُمَا مِلْؤُهَا ، فَأَمَّا النَّارُ فَلَا تَمْتَلِئُ حَتَّى يَضَعَ اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى رِجْلَهُ ، تَقُولُ : قَطْ قَطْ قَطْ فَهُنَالِكَ تَمْتَلِئُ وَيُزْوَى بَعْضُهَا إِلَى بَعْضٍ ، وَلَا يَظْلِمُ اللَّهُ مِنْ خَلْقِهِ أَحَدًا ، وَأَمَّا الْجَنَّةُ فَإِنَّ اللَّهَ يُنْشِئُ لَهَا خَلْقًا " ،

معمر نے ہمیں ہمام بن منبہ سے حدیث بیان کی، کہا: یہ احادیث ہیں جو حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کیں، انہوں نے بہت سی احادیث بیان کیں، ان میں سے (ایک) یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جنت اور دوزخ نے (اپنے اپنے بارے میں) ایک دوسرے کو دلائل دیے۔ دوزخ نے کہا: مجھے تکبر اور جبر کرنے والوں (کا ٹھکانہ ہونے) کی بناء پر ترجیح حاصل ہے۔ جنت نے کہا: میرا کیا حال ہے کہ میرے اندر لوگوں میں سے کمزور خاک نشین اور سیدھے سادے لوگ داخل ہوں گے؟ تو اللہ عزوجل نے جنت سے فرمایا: تو سراسر میری رحمت ہے، تیرے ذریعے سے میں اپنے بندوں میں سے جس کو چاہوں گا رحمت سے نوازوں گا اور دوزخ سے کہا: تو صرف اور صرف میرا عذاب ہے، تیرے ذریعے سے میں اپنے بندوں میں سے جس کو چاہوں گا عذاب میں ڈالوں گا اور تم دونوں میں سے ہر ایک کے لیے اتنے بندے ہیں جن سے وہ بھر جائے، جہاں تک دوزخ کا تعلق ہے تو وہ نہیں بھرے گی یہاں تک کہ اللہ تبارک و تعالیٰ اپنا قدم (اس پر) رکھ دے گا تو وہ کہے گی: بس بس بس، اس وقت وہ بھر جائے گی، اس کے بعض حصے بعض کے ساتھ سمٹ جائیں گے۔ اللہ تعالیٰ اپنی مخلوق میں سے کسی پر ظلم نہیں کرے گا اور جہاں تک جنت کا تعلق ہے تو اللہ (اس کے لیے) ایک مخلوق تیار کر دے گا“۔

حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب الجنة وصفة نعيمها وأهلها / حدیث: 2846
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
تخریج حدیث «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : صحيح البخاري: 4850 | صحيح البخاري: 7449 | صحيح مسلم: 2846 | سنن ترمذي: 2561 | صحيفه همام بن منبه: 52 | مسند الحميدي: 1171

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ مولانا عبد العزیز علوی
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں:"رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:"دوزخ اور جنت میں جھگڑا ہوا چنانچہ آگ نے کہا، مجھ میں سرکش اور متکبر لوگ داخل ہوں گے۔(تاکہ میں انہیں سبق سکھاؤں)اور جنت نے کہا، مجھ میں کمزور اور مسکین لوگ داخل ہوں گے (تاکہ میں ان کی شان و مقام بلند کروں) چنانچہ اللہ عزوجل جہنم کو فرمائے گا تو میرا عذاب ہے، تیرے ذریعہ میں جسے چاہوں گا،دکھ دوں گا، یا مصیبت پہنچاؤں گا اور جنت سے فرمائےگا تو میری رحمت ہے، تیرے ذریعہ میں جس پر چاہوں گا،... (مکمل حدیث اس نمبر پر دیکھیں) [صحيح مسلم، حديث نمبر:7172]
حدیث حاشیہ: فوائد ومسائل: جنت اور دوزخ کا یہ مکالمہ یا مباحثہ حقیقی معنوں میں ہوگا، اللہ تعالیٰ ہر چیز کی زبان کو سمجھتا ہے، گویا زبان قال سے مباحثہ ہوگا، زبان حال سے نہیں اور جنت میں اکثریت ان لوگوں کی ہوگی، جو اہل دنیا کی نظر میں کم مرتبہ لوگ تھے، اگرچہ اللہ کے ہاں ان کا مقام ومرتبہ بہت بلند تھا۔
درج بالا اقتباس تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 7172 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: صحيح البخاري / حدیث: 4850 کی شرح از الشیخ عبدالستار الحماد ✍️
4850. حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ نبی ﷺ نے فرمایا: ’’جنت اور دوزخ نے باہمی تکرار کی۔ دوزخ نے کہا: میں تو متکبروں اور ظالموں کے لیے خاص کی گئی ہوں۔ جنت نے کہا: میرے اندر تو صرف کمزور اور ناتواں اور کم مرتبے والے لوگ داخل ہوں گے؟ اللہ تعالٰی نے جنت سے فرمایا: تو میری رحمت ہے۔ میں تیرے ذریعے سے اپنے بندوں میں سے جس پر چاہوں گا رحم کروں گا۔ اور دوزخ سے کہا کہ تو میرا عذاب ہے، میں تیرے ذریعے سے اپنے بندوں میں سے جس کو چاہوں گا سزا دوں گا۔ بہرحال ان دونوں کو بھرنا ضرور ہے۔ دوزخ تو اس وقت تک نہیں بھرے گی جب تک اللہ رب العزت اپنا قدم اس پر نہیں رکھے گا۔ جب وہ قدم رکھے گا تو اس وقت دوزخ بولے گی کہ بس، بس اور بس۔ پھر اس وقت یہ بھر جائے گی اور اس کا ایک حصہ دوسرے حصے سے لپٹ جائے گا۔ اللہ تعالٰی اپنی مخلوق میں سے کسی پر ظلم نہیں کرے گا۔ لیکن جنت! تو بلاشبہ۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔)[صحيح بخاري، حديث نمبر:4850]
حدیث حاشیہ:

اس سوال وجواب میں دوزخ نے متکبرین کا انداز اختیار کیا جبکہ جنت عاجزی اور انکسار کا اظہار کرے گی۔
اللہ تعالیٰ کے فیصلے کے مطابق ان دونوں کو بھرنا ضرورہے۔
اہل جنت جب جنت میں پہنچ جائیں گے تو جنت میں ابھی بہت سی جگہ خالی ہوگی، اسے بھرنے کے لیے اللہ تعالیٰ موقع پر کوئی مخلوق پیدا کرے گا اور اسے وہاں بسا دے گا لیکن دوزخ کا بھرنے کے لیے اپنا قدم اس پر رکھ دے گا جس کی وجہ سے وہ بس، بس کہنے لگے گی۔

اللہ تعالیٰ کسی پر ظلم نہیں کرتا کہ جہنم کو بھرنے کے لیے وہاں کسی مخلوق کو پیدا کرکے اس میں جھونک دے لیکن بعض روایات میں ہے کہ اللہ تعالیٰ جہنم کو بھرنے کے لیے موقع پر کوئی مخلوق پیدا کرے گا۔
(صحیح البخاري، التوحید، حدیث: 7449)
اس مقام پر علامہ ابن تیمیہ رحمۃ اللہ علیہ نے بہت خوبصورت بات کہی ہے فرماتے ہیں: جنت میں فالتو جگہ بھرنے کے لیے تواللہ تعالیٰ موقع پر کوئی مخلوق پیدا کرکے وہاں انھیں بسا دے گا، لیکن جہنم میں بھی فالتو جگہ ہوگی۔
صحیح بخاری میں ایک جگہ پر ہے کہ اسے بھرنے کے لیے بھی اللہ تعالیٰ موقع پر کوئی مخلوق پیدا کرے گا جبکہ صحیح بخاری کی دیگر روایات میں ہے کہ اللہ تعالیٰ اس پر اپنا قدم رکھ دے گا۔
امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ نے راوی کی غلطی کو واضح کرنے کے لیے جان بوجھ کر یہ انداز اختیار کیا ہے کہ ایک مقام پر اس کی غلطی کی نشاندہی کی ہے جبکہ دوسرے مقامات پر صحیح بات ذکر کی ہے۔
(منھاج السنة: 25/3)

ہمارے رجحان کے مطابق جہنم کو بھرنے کے لیے کسی مخلوق کو پیدا نہیں کرے گا، بلکہ اپنا قدم رکھ دے گا پھر وہ جہنم بس، بس کہہ اٹھے گی۔
واللہ اعلم۔
درج بالا اقتباس هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 4850 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: صحيح البخاري / حدیث: 7449 کی شرح از مولانا داود راز ✍️
7449. سیدنا ابو ہریرہ ؓ سے روایت ہے وہ نبی ﷺ سے بیان کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا: جنت اور دوزخ نے اپنے رب کے پاس جھگڑا کیا۔ جنت نے کہا: اے میرے رب! اس کا کیا حال ہے کہ اس میں صرف کمزور لوگ اور گرے پڑے فقیر ہی داخل ہوں گے؟ دوذخ نے کہا:اے میرے رب! میں تو متکبرین کے لیے خاص کی گئی ہوں۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے جنت سے فرمایا: تو میری رحمت ہے۔ دوذخ سے فرمایا: تو میرا عذاب ہے۔ تیرے ذریعے سے میں جسے چاہوں گا عذاب دوں گا۔ تم دونوں میں سے ہر ایک کو بھرنا ہے۔ جہاں تک جنت کا تعلق ہے تو اللہ تعالیٰ اپنی مخلوق میں سے کسی پر ظلم نہیں کرے گا اور دوذخ کے لیے جو چاہے گا (موقع پر) پیدا کر دے گا پھر انہیں دوذخ میں ڈالا جائے گا۔ اس کے بعد بھی دوزخ کہے گی: ابھی اور بھی گنجائش ہے۔ تین بار ایسا ہوگا۔ آخر کار اللہ تعالیٰ اپنا پاؤں اس میں رکھ دے گا تووہ بھر جائے گی۔ اس کے کچھ حصے۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔)[صحيح بخاري، حديث نمبر:7449]
حدیث حاشیہ: یہ اللہ کے قدم رکھنا برحق ہے جس کی تفصیل اللہ ہی کو معلوم ہے اس میں کرید کرنا بدعت ہے اورتسلیم کرنا طریقہ سلف ہے۔
درج بالا اقتباس صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 7449 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: صحيح البخاري / حدیث: 7449 کی شرح از الشیخ عبدالستار الحماد ✍️
7449. سیدنا ابو ہریرہ ؓ سے روایت ہے وہ نبی ﷺ سے بیان کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا: جنت اور دوزخ نے اپنے رب کے پاس جھگڑا کیا۔ جنت نے کہا: اے میرے رب! اس کا کیا حال ہے کہ اس میں صرف کمزور لوگ اور گرے پڑے فقیر ہی داخل ہوں گے؟ دوذخ نے کہا:اے میرے رب! میں تو متکبرین کے لیے خاص کی گئی ہوں۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے جنت سے فرمایا: تو میری رحمت ہے۔ دوذخ سے فرمایا: تو میرا عذاب ہے۔ تیرے ذریعے سے میں جسے چاہوں گا عذاب دوں گا۔ تم دونوں میں سے ہر ایک کو بھرنا ہے۔ جہاں تک جنت کا تعلق ہے تو اللہ تعالیٰ اپنی مخلوق میں سے کسی پر ظلم نہیں کرے گا اور دوذخ کے لیے جو چاہے گا (موقع پر) پیدا کر دے گا پھر انہیں دوذخ میں ڈالا جائے گا۔ اس کے بعد بھی دوزخ کہے گی: ابھی اور بھی گنجائش ہے۔ تین بار ایسا ہوگا۔ آخر کار اللہ تعالیٰ اپنا پاؤں اس میں رکھ دے گا تووہ بھر جائے گی۔ اس کے کچھ حصے۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔)[صحيح بخاري، حديث نمبر:7449]
حدیث حاشیہ:

اللہ تعالیٰ کے حضور جنت اور دوزخ کا جھگڑنا حقیقت پر مبنی ہے۔
اللہ تعالیٰ ان میں شعور تمیز اور قوت گویائی پیدا فرمائے گا۔
ایسا کرنا صرف جنت یا دوزخ کے ساتھ خاص نہیں بلکہ پہاڑبھی حضرت داؤد علیہ السلام کے ساتھ تسبیح کرتے تھے جیسا کہ قرآن مجید میں اس کی صراحت ہے بلکہ کائنات کی ہر چیز اللہ تعالیٰ کی تسبیح کرتی ہے لیکن ہم اس تسبیح کو سمجھنے سے قاصر ہیں ارشاد باری تعالیٰ ہے۔
’’ساتوں آسمان زمین اور جو (مخلوق)
بھی ان میں ہے سب اس کی تسبیح کرتے ہیں بلکہ کوئی بھی چیز ایسی نہیں جو اس کی حمد کے ساتھ اس کی تسبیح نہ کر رہی ہو لیکن تم ان کی تسبیح کو سمجھتے نہیں ہو۔
‘‘ (بنی اسرائیل17۔
44)

امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ نے اس حدیث سے ثابت کیا ہے کہ بعض اوقات رحمت کا اطلاق مخلوق پر بھی ہوتا ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے جنت سے فرمایا: ’’تو میری رحمت ہے‘‘ اور جنت اللہ تعالیٰ کی پیدا کی ہوئی ہے اور یہ اس رحمت کا نتیجہ ہے جو اللہ تعالیٰ کی صفت ہے اور جنت اللہ تعالیٰ کے مخلص اور نیکو کار بندوں کے بہت قریب ہے۔
ایک روایت میں ہے جنت میں بے شمار مخلوق کو داخل کرنے کے بعد بھی اس کی بہت سی جگہ بچ رہے گی تو اسے بھرنے کے لیے اللہ تعالیٰ اس وقت کوئی مخلوق پیدا فرمائے گا۔
اور اسے جنت کے باقی ماند ہ حصے میں ٹھہرائے گا۔
(صحیح البخاري، التوحید، حدیث: 7384)
نیز صحیح مسلم میں ہے۔
’’اللہ تعالیٰ جنت کو بھرنے کے لیے وہاں کوئی مخلوق پیدا کرے گا۔
‘‘ (صحیح مسلم، الجنة ونعیمها، حدیث: 7175 (2846)
امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ نے کتاب التفسیر میں بھی انھی الفاظ سے اس حدیث کو بیان کیا ہے کہ اللہ تعالیٰ جنت کو بھرنے کے لیے وہاں کوئی مخلوق پیدا کرےگا۔
(صحیح البخاري، التفسیر، حدیث: 4850)
لیکن پیش کردہ روایت میں ہے کہ اللہ تعالیٰ جہنم کو بھرنے کے لیے کسی مخلوق کو پیدا کرے گا جبکہ اللہ تعالیٰ نے جہنم بھرنے کا قاعدہ ان الفاظ میں بیان کیا ہے۔
’’حق بات یہ ہے اور میں حق ہی کہا کرتا ہوں کہ میں جہنم کو تجھ سے اور ان سب لوگوں سے بھروں گا۔
جو تیری پیروی کریں گے۔
‘‘ (ص: 38۔
84۔
85)

اس آیت کریمہ کے پیش نظر علمائے امت نے مذکورہ حدیث صحیح بخاری کے متعلق دو مختلف موقف اختیار کیے ہیں۔
علامہ کرمانی رحمۃ اللہ علیہ صحیح بخاری کی اس حدیث کا دفاع کرتے ہوئے فرماتے ہیں۔
جو شخص گناہ گار نہ ہو اسے عذاب دینے میں کچھ حرج نہیں کیونکہ اللہ تعالیٰ اگر اسے عذاب دے تو عدل کے منافی نہیں وہ جو چاہے کر سکتا ہے لیکن ہمیں اس موقف سے اختلاف ہے کیونکہ ایسا کرنا اس کی شان کریمی کے خلاف ہے اس نے خود پر رحمت کو لازم کر لیا ہے۔
(الأنعام: 54)
اور دوسرے مقام پر فرمایا: ’’اور تیرا رب (کسی پر ذرہ بھربھی)
ظلم نہیں کرے گا۔
‘‘ (الکهف: 1849)
البتہ انعام کی کچھ اور بات ہے وہ نافرمان پر کیا جا سکتا ہے لیکن بے گناہ کو عذاب دینا کرم الٰہی کے لائق نہیں۔
دوسرا موقف ہے کہ حدیث کے راویوں سے خطا ہوئی ہے۔
انھوں نے معاملہ الٹ کر کے بیان کیا ہے اصل واقعہ یہ ہے کہ جنت کو بھرنے کے لیے موقع پر اللہ تعالیٰ کسی مخلوق کو پیدا کرے گا۔
لیکن راویوں نے سہواً جنت کے بجائے جہنم کا ذکر کر دیا ہے۔
حافظ ابن قیم رحمۃ اللہ علیہ نے اسی موقف کو اختیار کیا ہے۔
(حاوي الأرواح: 295)
امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ کا دفاع کرتے ہوئے امام ابن تیمیہ رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں کہ امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ نے اپنی صحیح میں متعدد مقامات پر یہ حدیث بیان کی ہے کہ جنت کے لیے اپنی مخلوق پیدا کرے گا جبکہ مذکورہ روایت اس کے برعکس ہے کہ جہنم کے لیے موقع پر کوئی مخلوق پیدا کرے گا۔
امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ کا مقصد راویوں کے وہم کی نشاندہی کرنا ہے جیسا کہ ان کی عادت ہے کہ جب کسی راوی سے غلط بیانی ہو جائے تو صحیح روایات کو بیان کر کے اس کی غلطی کو واضح کرتے ہیں اس مقام پر بھی ایسا ہوا ہے۔
(منهاج السنة: 25/3)

ہمارا رجحان بھی یہی ہے کہ مذکورہ روایت میں قلب واقع ہوا ہے کیونکہ قرآن کریم سے ثابت ہے کہ اللہ تعالیٰ لوگوں کی طرف رسول بھیج کر اتمام حجت کرتا ہے پھر اصرار و انکار پر قیامت کے دن انھیں عذاب دے گا۔
جیسا کہ ارشاد باری تعالیٰ ہے۔
’’اور ہم اس وقت تک عذاب نہیں دیا کرتے جب تک اپنا رسول نہ بھیج لیں۔
‘‘ (بني إسرائیل: 17۔
15)
نیز فرمایا: ’’جب جہنم میں کوئی گروہ پھینکا جائے تو دوزخ کے محافظ ان سے پوچھیں گے: کیا تمھارے پاس کوئی ڈرانے والا نہیں آیا تھا؟ وہ کہیں گے: کیوں نہیں! یقیناً ڈرانے والا تو ہمارے پاس آیا تھا مگر ہم نے اسے جھٹلادیا اور کہا کہ اللہ نے کچھ نہیں اتارا تم ہی بڑی گمراہی میں پڑے ہوئے ہو۔
‘‘ (الملك: 67۔

9)
بہر حال راویوں کی طرف وہم کی نسبت کرنا اس موقف سے کہیں آسان ہے کہ اسے اختیار کرنے سے اللہ تعالیٰ کی شان کریمی پر حرف آئے۔
واللہ أعلم۔
درج بالا اقتباس هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 7449 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: مسند الحميدي / حدیث: 1171 کی شرح از محمد ابراہیم بن بشیر ✍️
1171- سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: "جنت اور جہنم کے درمیان بحث ہوگئی تو اس نے کہا: مجھ سرکش اور متکبر لوگ داخل ہوں گے، تو دوسری نے (یعنی جنت نے) کہا: مجھ میں کمزور اور غریب لوگ داخل ہوں گے۔ تو اللہ تعالیٰ نے اس سے فرمایا: "تم میرا عذاب ہو تمہارے ذریعے میں جسے چاہوں گا عذاب دوں گا، اور اس سے فرمایا: تم میری رحمت ہو تمہارے ذریعے میں جس پر چاہوں گا رحمت کروں گا۔‏‏‏‏" سفیان کہتے ہیں: میرے خیال میں روایت میں یہ الفاظ بھی ہیں "تم میں سے ہر ایک بھر جائے گی۔" [مسند الحمیدی/حدیث نمبر:1171]
فائدہ:
اس حدیث سے ثابت ہوا کہ جنت و جہنم کا وجود ہے، اس حدیث میں منکر ین آخرت کی تردید ہے، اس حدیث سے یہ بھی ثابت ہوا کہ اگر کسی نے جنت میں جانا ہے تو اللہ کی رحمت کے ساتھ جانا ہے، جہنم میں جانا ہے تو اللہ کے غضب کے ساتھ جانا ہے۔ اللہ ہمیں جہنم سے بچا کر جنت کا وارث بنائے، آمین۔
درج بالا اقتباس مسند الحمیدی شرح از محمد ابراهيم بن بشير، حدیث/صفحہ نمبر: 1169 سے ماخوذ ہے۔