صحيح مسلم
كتاب الجنة وصفة نعيمها وأهلها— جنت اس کی نعمتیں اور اہل جنت
باب فِي صِفَةِ خِيَامِ الْجَنَّةِ وَمَا لِلْمُؤْمِنِينَ فِيهَا مِنَ الأَهْلِينَ: باب: جنتیوں کی بیویوں اور ان کے خیموں کی شان کا بیان۔
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ ، عَنْ أَبِي قُدَامَةَ وَهُوَ الْحَارِثُ بْنُ عُبَيْدٍ عَنْ أَبِي عِمْرَانَ الْجَوْنِيِّ ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ قَيْسٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " إِنَّ لِلْمُؤْمِنِ فِي الْجَنَّةِ لَخَيْمَةً مِنْ لُؤْلُؤَةٍ ، وَاحِدَةٍ مُجَوَّفَةٍ طُولُهَا سِتُّونَ مِيلًا لِلْمُؤْمِنِ فِيهَا أَهْلُونَ يَطُوفُ عَلَيْهِمُ الْمُؤْمِنُ ، فَلَا يَرَى بَعْضُهُمْ بَعْضًا " .حضرت عبداللہ بن قیس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:"مؤمن کے لیےجنت میں ایک خیمہ ہو گا جو ایک خولدار موتی کا ہوگا جس کا طول ساٹھ میل ہو گا، اس میں ان کے اہل ہوں گےمومن ان کے پاس چکر لگائیں گے اور وہ ایک دوسرے کو دیکھ نہیں سکیں گے۔"
وحَدَّثَنِي أَبُو غَسَّانَ الْمِسْمَعِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ الصَّمَدِ ، حَدَّثَنَا أَبُو عِمْرَانَ الْجَوْنِيُّ ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ قَيْسٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " فِي الْجَنَّةِ خَيْمَةٌ مِنْ لُؤْلُؤَةٍ ، مُجَوَّفَةٍ عَرْضُهَا سِتُّونَ مِيلًا فِي كُلِّ زَاوِيَةٍ مِنْهَا أَهْلٌ مَا يَرَوْنَ الْآخَرِينَ يَطُوفُ عَلَيْهِمُ الْمُؤْمِنُ " .حضرت عبداللہ بن قیس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:"جنت میں مومن کا خولدار موتی کا ایک خیمہ ہو گا جس کا عرض ساٹھ میل ہو گا ہر کونے میں اس کے اہل ہوں گے، جو دوسروں کو دیکھ نہیں سکیں گے، مومن ان کا چکر لگائے گا۔"
وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، أَخْبَرَنَا هَمَّامٌ ، عَنْ أَبِي عِمْرَانَ الْجَوْنِيِّ ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ أَبِي مُوسَى بْنِ قَيْسٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " الْخَيْمَةُ دُرَّةٌ طُولُهَا فِي السَّمَاءِ سِتُّونَ مِيلًا ، فِي كُلِّ زَاوِيَةٍ مِنْهَا أَهْلٌ لِلْمُؤْمِنِ لَا يَرَاهُمُ الْآخَرُونَ " .ہمام نے ابوعمران جونی سے خبر دی، انہوں نے ابوبکر بن ابوموسیٰ سے، انہوں نے اپنے والد (ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ) سے اور انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”خیمہ ایک موتی (کا) ہو گا، اوپر کی طرف اس کی لمبائی (بلندی) ساٹھ میل ہو گی۔ اس کے ہر کونے میں مومن کے گھر والے ہوں گے، وہ دوسروں کو نہیں دیکھیں گے“۔
تشریح، فوائد و مسائل
1۔
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ جنت میں عورتیں جو حوروں اور دنیاوی بیویوں پر مشتمل ہوں گی وہ مردوں سے زیادہ ہیں۔
ابو الدرداء ؓسے مروی ہے کہ جنت کا خیمہ جو ایک خولد ار موتی سے ہو گا اس کے ستر دروازے ہوں گی۔
(الزھد لابن المبارك، ص: 487، طبع دارالکتب العلمیة)
خیمے کے لفظ سے اس آیت کریمہ کی طرف اشارہ ہے۔
(حُورٌ مَقْصُورَاتٌ فِي الْخِيَامِ)
’’وہاں خیموں میں ٹھہرائی ہوئی حوریں ہوں گی۔
‘‘ (الرحمٰن: 55۔
72)
چنانچہ امام بخاری ؒنے اس آیت کریمہ کی تفسیر میں اس حدیث کو ذکر کیا ہے ہے اس میں صراحت ہے کہ وہ خولدار موتی کا خیمہ ساٹھ میل بلند ہو گا۔
(صحیح البخاري، التفسیر: حدیث4879)
2۔
امام بخاری ؒ نے جنت کی صفات ذکر کی ہیں کہ وہاں خیمے اس قسم کے ہوں گے جو ایک ہی موتی سے تیار شدہ ہیں۔
بہر حال اہل جنت کو جنت میں محلات ملیں گے۔
غالباً یہ خیمے دوران سفر میں استعمال کے لیے ہوں گے۔
واللہ أعلم۔
کیونکہ بقول حافظ ابن قیم، حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کی اس روایت کے سوا، دو سے زائد بیویوں کی کوئی روایت بھی صحیح نہیں ہے۔
علی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” جنت میں ایسے کمرے ہیں جن کا بیرونی حصہ اندر سے اور اندرونی حصہ باہر سے نظر آئے گا۔“ ایک دیہاتی نے کھڑے ہو کر عرض کیا: اللہ کے رسول! یہ کن لوگوں کے لیے ہوں گے؟ آپ نے فرمایا: ” یہ اس کے لیے ہوں گے جو اچھی گفتگو کرے، کھانا کھلائے، پابندی سے روزے رکھے اور جب لوگ سو رہے ہوں تو اللہ کی رضا کے لیے رات میں نماز پڑھے۔“ [سنن ترمذي/كتاب صفة الجنة/حدیث: 2527]
نوٹ:
(دیکھیے: مذکورہ حدیث کے تحت اس پر بحث)