صحيح مسلم
كتاب الجنة وصفة نعيمها وأهلها— جنت اس کی نعمتیں اور اہل جنت
باب فِي دَوَامِ نَعِيمِ أَهْلِ الْجَنَّةِ وَقَوْلِهِ تَعَالَى: {وَنُودُوا أَنْ تِلْكُمُ الْجَنَّةُ أُورِثْتُمُوهَا بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُونَ}. باب: جنت کی نعمتیں ہمیشہ رہیں گی۔
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، وَعَبْدُ بْنُ حميد واللفظ لإسحاق ، قَالَا : أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، قَالَ : قَالَ الثَّوْرِيُّ فَحَدَّثَنِي أَبُو إِسْحَاقَ ، أَنَّ الْأَغَرّ حَدَّثَهُ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " يُنَادِي مُنَادٍ إِنَّ لَكُمْ أَنْ تَصِحُّوا ، فَلَا تَسْقَمُوا أَبَدًا ، وَإِنَّ لَكُمْ أَنْ تَحْيَوْا فَلَا تَمُوتُوا أَبَدًا ، وَإِنَّ لَكُمْ أَنْ تَشِبُّوا فَلَا تَهْرَمُوا أَبَدًا ، وَإِنَّ لَكُمْ أَنْ تَنْعَمُوا فَلَا تَبْأَسُوا أَبَدًا ، فَذَلِكَ قَوْلُهُ عَزَّ وَجَلَّ وَنُودُوا أَنْ تِلْكُمُ الْجَنَّةُ أُورِثْتُمُوهَا بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُونَ سورة الأعراف آية 43 " .حضرت ابو سعید اور حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:"ایک پکارنے والا (جنتیوں کو مخاطب کر کے) پکارے گا، تمھارا حق ہے کہ ہمیشہ تندرست رہو، اس لیے تم کبھی بیمار نہیں پڑو گے اور تمھارے لیے زندگی اور حیات ہی ہے اس لیے اب تمھیں کبھی موت نہیں آئے گی اور تمھارے لیے جوانی اور شباب ہی ہے۔چنانچہ تم کبھی بوڑھے نہیں ہو گے اور تمھارے لیے سکھ اور چین ہی ہے، سوکبھی تمھیں تنگی اور تکلیف نہ ہو گی۔" کیونکہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہےانھیں آوازدی جائے گی یہ وہ جنت ہے جس کے وارث تمھیں تمھارے عملوں کے سبب بنایا گیا ہے۔
تشریح، فوائد و مسائل
''(اعراف، آیت نمبر 43)