حدیث نمبر: 2837
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، وَعَبْدُ بْنُ حميد واللفظ لإسحاق ، قَالَا : أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، قَالَ : قَالَ الثَّوْرِيُّ فَحَدَّثَنِي أَبُو إِسْحَاقَ ، أَنَّ الْأَغَرّ حَدَّثَهُ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " يُنَادِي مُنَادٍ إِنَّ لَكُمْ أَنْ تَصِحُّوا ، فَلَا تَسْقَمُوا أَبَدًا ، وَإِنَّ لَكُمْ أَنْ تَحْيَوْا فَلَا تَمُوتُوا أَبَدًا ، وَإِنَّ لَكُمْ أَنْ تَشِبُّوا فَلَا تَهْرَمُوا أَبَدًا ، وَإِنَّ لَكُمْ أَنْ تَنْعَمُوا فَلَا تَبْأَسُوا أَبَدًا ، فَذَلِكَ قَوْلُهُ عَزَّ وَجَلَّ وَنُودُوا أَنْ تِلْكُمُ الْجَنَّةُ أُورِثْتُمُوهَا بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُونَ سورة الأعراف آية 43 " .

حضرت ابو سعید اور حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:"ایک پکارنے والا (جنتیوں کو مخاطب کر کے) پکارے گا، تمھارا حق ہے کہ ہمیشہ تندرست رہو، اس لیے تم کبھی بیمار نہیں پڑو گے اور تمھارے لیے زندگی اور حیات ہی ہے اس لیے اب تمھیں کبھی موت نہیں آئے گی اور تمھارے لیے جوانی اور شباب ہی ہے۔چنانچہ تم کبھی بوڑھے نہیں ہو گے اور تمھارے لیے سکھ اور چین ہی ہے، سوکبھی تمھیں تنگی اور تکلیف نہ ہو گی۔" کیونکہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہےانھیں آوازدی جائے گی یہ وہ جنت ہے جس کے وارث تمھیں تمھارے عملوں کے سبب بنایا گیا ہے۔

حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب الجنة وصفة نعيمها وأهلها / حدیث: 2837
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
تخریج حدیث «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ مولانا عبد العزیز علوی
حضرت ابو سعید اور حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:"ایک پکارنے والا (جنتیوں کو مخاطب کر کے) پکارے گا، تمھارا حق ہے کہ ہمیشہ تندرست رہو، اس لیے تم کبھی بیمار نہیں پڑو گے اور تمھارے لیے زندگی اور حیات ہی ہے اس لیے اب تمھیں کبھی موت نہیں آئے گی اور تمھارے لیے جوانی اور شباب ہی ہے۔چنانچہ تم کبھی بوڑھے نہیں ہو گے اور تمھارے لیے سکھ اور چین ہی ہے، سوکبھی تمھیں تنگی اور تکلیف نہ ہو گی۔" کیونکہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہےانھیں آوازدی... (مکمل حدیث اس نمبر پر دیکھیں) [صحيح مسلم، حديث نمبر:7157]
حدیث حاشیہ: فوائد ومسائل: جنت صرف آرام اور راحت کا دائمی اور لازوال گھر ہے، جو کبھی فنا پذیر نہیں ہوگا، اس کو دوام اور ثبات حاصل ہے، اس میں کسی قسم کی تبدیلی یا فساد کا گزر نہیں ہوگا، اس لیے وہاں کسی تکلیف کا یا کسی تکلیف دہحالت کا گذر نہیں ہوگا، نہ وہاں بیماری آئے گی اور نہ موت آئے گی، نہ بڑھاپا کسی کو ستائے گا، نہ جوانی ڈھلے گی اور نہ کسی اور قسم کی تنگی اور پریشانی کسی جنتی کو لاحق ہوگی، اس لیے جب جنتی، جنت میں چلے جائیں گے تو شروع ہی میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے ابدی زندگی اور دائمی راحت کا مثردہ سنا کر، ان کو مطمئن کر دیا جائے گا اور اللہ کے اس ارشاد میں اس طرف اشارہ ہے، ''انہیں ندا آئے گی، یہ وہ جنت ہے، جس کے وارث تم ان عملوں کے سبب بنائے گئے ہو، جو تم کرتے رہے ہو۔
''(اعراف، آیت نمبر 43)
درج بالا اقتباس تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 2837 سے ماخوذ ہے۔