حدیث نمبر: 2835
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ وَاللَّفْظُ لِعُثْمَانَ ، قَالَ عُثْمَانُ : حَدَّثَنَا ، وقَالَ إِسْحَاقُ : أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ الْأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " إِنَّ أَهْلَ الْجَنَّةِ يَأْكُلُونَ فِيهَا وَيَشْرَبُونَ ، وَلَا يَتْفُلُونَ ، وَلَا يَبُولُونَ ، وَلَا يَتَغَوَّطُونَ ، وَلَا يَمْتَخِطُونَ " ، قَالُوا : فَمَا بَالُ الطَّعَامِ ؟ ، قَالَ : " جُشَاءٌ وَرَشْحٌ كَرَشْحِ الْمِسْكِ يُلْهَمُونَ التَّسْبِيحَ وَالتَّحْمِيدَ كَمَا تُلْهَمُونَ النَّفَسَ " ،

حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے سنا:"اہل جنت،جنت میں کھائیں گے بھی اور پئیں گے بھی لیکن نہ تو انہیں تھوک آئے گا اور نہ پیشاب اور پاخانہ ہو گا اور نہ وہ ناک صاف کریں گے۔"صحابہ کرام رضوان اللہ عنھم اجمعین نے پوچھا تو کھانے کا کیا ہو گا؟آپ نے فرمایا:"ڈکار ہو گی اور کستوری کے پسینہ کی طرح پسینہ ہوگا، یعنی غذا ڈکار اور پسینہ سے ہضم ہو جائے گی اور بس، اللہ کی تسبیح و تحمید ان کی زبانوں پر اس طرح جاری ہو گی، جس طرح سانس جاری رکھا جاتا ہے۔"

وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَأَبُو كُرَيْبٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنْ الْأَعْمَشِبِهَذَا الْإِسْنَادِ ، إِلَى قَوْلِهِ كَرَشْحِ الْمِسْكِ .

امام صاحب یہی حدیث دواور اساتذہ سے"رَشحِ المِسكَ"کستوری کے پسینہ کی طرح تک بیان کرتے ہیں۔

وحَدَّثَنِي الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْحُلْوَانِيُّ ، وَحَجَّاجُ بْنُ الشَّاعِرِ كِلَاهُمَا ، عَنْ أَبِي عَاصِمٍ ، قَالَ حَسَنٌ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ ، عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، يَقُولُ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " يَأْكُلُ أَهْلُ الْجَنَّةِ فِيهَا وَيَشْرَبُونَ وَلَا يَتَغَوَّطُونَ وَلَا يَمْتَخِطُونَ وَلَا يَبُولُونَ ، وَلَكِنْ طَعَامُهُمْ ذَاكَ جُشَاءٌ كَرَشْحِ الْمِسْكِ يُلْهَمُونَ التَّسْبِيحَ وَالْحَمْدَ كَمَا تُلْهَمُونَ النَّفَسَ " ، قَالَ : وَفِي حَدِيثِ حَجَّاجٍ : طَعَامُهُمْ ذَلِكَ ،

حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں،رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:"اہل جنت،جنت میں کھائیں پئیں گے، لیکن نہ پاخانہ کریں گے نہ تھوکیں اور نہ پیشاب آئے گا، لیکن ان کا کھانا، وہ خوش گوارڈکار کی صورت میں ہو گا، جس سے کستوری کی خوشبو آئے گی، انہیں تسبیح اور حمد اس طرح القاء کی جائے گی، جس طرح سانس کا الہام کیا جاتا ہے۔"حجاج کی حدیث میں ہے۔"ان کا یہ کھانا۔"

وحَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ يَحْيَى الْأُمَوِيُّ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، عَنْ لنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِهِ ، غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ : وَيُلْهَمُونَ التَّسْبِيحَ وَالتَّكْبِيرَ كَمَا تُلْهَمُونَ النَّفَسَ .

یحییٰ نے کہا: ہمیں ابن جریج نے حدیث بیان کی، کہا: مجھے ابوزبیر نے حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے خبر دی، انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے (حدیث) روایت کی، مگر انہوں نے کہا: ”اور انھیں تسبیح و تکبیر اسی طرح الہام کی جائے گی جس طرح سانس لینا الہام کیا جاتا ہے“۔

حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب الجنة وصفة نعيمها وأهلها / حدیث: 2835
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
تخریج حدیث «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ مولانا عبد العزیز علوی
حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے سنا:"اہل جنت،جنت میں کھائیں گے بھی اور پئیں گے بھی لیکن نہ تو انہیں تھوک آئے گا اور نہ پیشاب اور پاخانہ ہو گا اور نہ وہ ناک صاف کریں گے۔"صحابہ کرام رضوان اللہ عنھم اجمعین نے پوچھا تو کھانے کا کیا ہو گا؟آپ نے فرمایا:"ڈکار ہو گی اور کستوری کے پسینہ کی طرح پسینہ ہوگا، یعنی غذا ڈکار اور پسینہ سے ہضم ہو جائے گی اور بس، اللہ کی تسبیح و تحمید ان کی زبانوں پر اس... (مکمل حدیث اس نمبر پر دیکھیں) [صحيح مسلم، حديث نمبر:7152]
حدیث حاشیہ: فوائد ومسائل: جنت میں کھانا اور جنتی غذا اس قدر لطیف ہوگی کہ خوش گوار ڈکار اور پسینہ کے راستہ سےمعدہ خالی اور ہلکا ہو جایا کرے گا اور جسم میں کسی قسم کا فضلہ پیدا نہیں ہوگا، جس کے خارج کرنے کی ضرورت پیش آئے اور سانس کی طرح ہر دم تسبیح و تحمید زبانوں پر جاری رہے گا، کسی قسم کی کلفت و مشقت اور توجہ یا اہتمام کی ضرورت نہیں ہوگی۔
درج بالا اقتباس تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 2835 سے ماخوذ ہے۔