صحيح مسلم
كتاب الجنة وصفة نعيمها وأهلها— جنت اس کی نعمتیں اور اہل جنت
باب أَوَّلُ زُمْرَةٍ تَدْخُلُ الْجَنَّةَ عَلَى صُورَةِ الْقَمَرِ لَيْلَةَ الْبَدْرِ وَصِفَاتُهُمْ وَأَزْوَاجُهُمْ: باب: اس بات کا بیان کہ جنتیوں کا پہلے گروہ جو داخل ہو گا ان کے چہرے چودھویں کے چاند کی طرح ہوں گے۔
حَدَّثَنِي عَمْرٌو النَّاقِدُ ، وَيَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ جَمِيعًا ، عَنْ ابْنِ عُلَيَّةَ وَاللَّفْظُ لِيَعْقُوبَ ، قَالَا : حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ابْنُ عُلَيَّةَ ، أَخْبَرَنَا أَيُّوبُ ، عَنْ مُحَمَّدٍ ، قَالَ : إِمَّا تَفَاخَرُوا وَإِمَّا تَذَاكَرُوا الرِّجَالُ فِي الْجَنَّةِ أَكْثَرُ أَمْ النِّسَاءُ ؟ ، قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ : أَوَ لَمْ يَقُلْ أَبُو الْقَاسِمِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ " إِنَّ أَوَّلَ زُمْرَةٍ تَدْخُلُ الْجَنَّةَ عَلَى صُورَةِ الْقَمَرِ لَيْلَةَ الْبَدْرِ ، وَالَّتِي تَلِيهَا عَلَى أَضْوَإِ كَوْكَبٍ دُرِّيٍّ فِي السَّمَاءِ لِكُلِّ امْرِئٍ مِنْهُمْ زَوْجَتَانِ اثْنَتَانِ ، يُرَى مُخُّ سُوقِهِمَا مِنْ وَرَاءِ اللَّحْمِ وَمَا فِي الْجَنَّةِ أَعْزَبُ " ،محمد بن سیرین رحمۃ اللہ علیہ بیان کرتے ہیں، لوگوں نے فخر و مباہات کے لیے کہا، یا باہمی مباحشہ کیا کہ جنت میں مرد زیادہ ہوں گے یا عورتیں؟ تو حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا کیا ابو القاسم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ نہیں فرمایا:"جنت میں داخل ہونے والا یہ پہلا گروہ اسکی صورت چودہویں کے ماہ کامل کی سی ہو گی اور جو گروہ اس کے بعد ہوگا وہ آسمان کے سب سے زیادہ روشن اور جگمگاتے ستارے کی طرح ہو گی۔ان میں سے ہر شخص کی دو بیویاں ہوں گی جن کی پنڈلیوں کا مغز، گوشت کے اندر سے دکھائی دے گا اور جنت میں کوئی انسان کنوارا نہیں رہے گا۔"
حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ ابْنِ سِيرِينَ ، قَالَ : وَالنِّسَاءُ أَيُّهُمْ فِي الْجَنَّةِ أَكْثَرُ ، فَسَأَلُوا أَبَا هُرَيْرَةَ ، فَقَالَ : اخْتَصَمَ الرِّجَالُ قَالَ أَبُو الْقَاسِمِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، بِمِثْلِ حَدِيثِ ابْنِ عُلَيَّةَ .سفیان نے ایوب سے اور انہوں نے محمد بن سیرین سے روایت کی، کہا: مردوں اور عورتوں میں بحث ہو گئی کہ ان میں سے جنت میں زیادہ کون ہوگا؟ پھر انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے اس کے متعلق سوال کیا تو انہوں نے کہا: ابوالقاسم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پہلی جماعت جو جنت میں داخل ہو گی ان کی صورتیں چودھویں رات کے چاند جیسی ہوں گی اور جو ان کے بعد جائے گی وہ آسمان میں سب سے زیادہ چمکتے ہوئے ستارے کی طرح ہو گی۔ ان میں سے ہر آدمی کی دو دو بیویاں ہوں گی (ایسے شفاف اور منور جسم والی کہ) ان کی پنڈلیوں کا گودا گوشت کے پیچھے سے نظر آئے گا۔ (پوری) جنت میں بیوی سے محروم کوئی شخص بھی نہ ہو گا“۔
وحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ يَعْنِي ابْنَ زِيَادٍ ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ الْقَعْقَاعِ ، حَدَّثَنَا أَبُو زُرْعَةَ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ ، يَقُولُ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَوَّلُ مَنْ يَدْخُلُ الْجَنَّةَ . ح وحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ وَاللَّفْظُ لِقُتَيْبَةَ ، قَالَا : حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ عُمَارَةَ ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ أَوَّلَ زُمْرَةٍ يَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ عَلَى صُورَةِ الْقَمَرِ لَيْلَةَ الْبَدْرِ ، وَالَّذِينَ يَلُونَهُمْ عَلَى أَشَدِّ كَوْكَبٍ دُرِّيٍّ فِي السَّمَاءِ إِضَاءَةً ، لَا يَبُولُونَ وَلَا يَتَغَوَّطُونَ وَلَا يَمْتَخِطُونَ وَلَا يَتْفُلُونَ أَمْشَاطُهُمُ الذَّهَبُ ، وَرَشْحُهُمُ الْمِسْكُ وَمَجَامِرُهُمُ الْأَلُوَّةُ وَأَزْوَاجُهُمُ الْحُورُ الْعِينُ أَخْلَاقُهُمْ عَلَى خُلُقِ رَجُلٍ وَاحِدٍ عَلَى صُورَةِ أَبِيهِمْ آدَمَ سِتُّونَ ذِرَاعًا فِي السَّمَاءِ " .قتیبہ بن سعید نے ہمیں حدیث بیان کی، کہا: ہمیں عبدالواحد بن زیاد نے عمارہ بن قعقاع سے حدیث بیان کی، کہا: میں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے سنا، کہتے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پہلی جماعت جو جنت میں داخل ہو گی، وہ چودھویں کے چاند کی شکل میں ہو گی“۔ اسی طرح ہمیں قتیبہ بن سعید اور زہیر بن حرب نے حدیث بیان کی، الفاظ قتیبہ کے ہیں۔ دونوں نے کہا: ہمیں جریر نے عمارہ سے حدیث بیان کی، انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پہلی جماعت جو جنت میں داخل ہو گی، وہ چودھویں کے چاند کی شکل میں ہو گی۔ جو ان کے (فوراً) بعد جائیں گے وہ آسمان میں سب سے زیادہ روشن چمکتے ہوئے ستارے کی شکل میں ہوں گے، انھیں پیشاب کی حاجت ہو گی نہ پاخانے کی، نہ تھوکیں گے، نہ ناک سنکیں گے، ان کی کنگھیاں سونے کی ہوں گی، پسینہ کستوری کا ہو گا، ان کی انگیٹھیاں معطر عود (سلگتا) ہو گا، ان کی بیویاں غزال چشم حوریں ہوں گی، ان سب کے اخلاق و عادات ایک ہی آدمی کے خلق کے مطابق ہوں گے۔ اپنے والد آدم علیہ السلام کی شکل پر، (قامت میں) آسمان کی طرف اٹھے ہوئے ساٹھ ہاتھ کے برابر“۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَأَبُو كُرَيْبٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنْ الْأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَوَّلُ زُمْرَةٍ تَدْخُلُ الْجَنَّةَ مِنْ أُمَّتِي عَلَى صُورَةِ الْقَمَرِ لَيْلَةَ الْبَدْرِ ، ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ عَلَى أَشَدِّ نَجْمٍ فِي السَّمَاءِ إِضَاءَةً ، ثُمَّ هُمْ بَعْدَ ذَلِكَ مَنَازِلُ لَا يَتَغَوَّطُونَ وَلَا يَبُولُونَ وَلَا يَمْتَخِطُونَ وَلَا يَبْزُقُونَ أَمْشَاطُهُمُ الذَّهَبُ ، وَمَجَامِرُهُمُ الْأَلُوَّةُ وَرَشْحُهُمُ الْمِسْكُ أَخْلَاقُهُمْ عَلَى خُلُقِ رَجُلٍ وَاحِدٍ عَلَى طُولِ أَبِيهِمْ آدَمَ سِتُّونَ ذِرَاعًا " ، قَالَ ابْنُ أَبِي شَيْبَةَ : عَلَى خُلُقِ رَجُلٍ ، وقَالَ أَبُو كُرَيْبٍ : عَلَى خَلْقِ رَجُلٍ ، وقَالَ ابْنُ أَبِي شَيْبَةَ : عَلَى صُورَةِ أَبِيهِمْ .حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:"میری امت کا جنت میں داخل ہونے والا پہلا گروہ چودھویں رات کےچاند کی طرح ہوگا، پھر ان سے بعد آنے والے آسمان کے سب سے زیادہ روشن ستارے کی طرح ہوں گے، پھر اس کے بعد ان کے مختلف مراتب ہوں گے وہ پاخانہ، پیشاب نہیں کریں گے اور نہ ناک صاف کریں گے، نہ تھوکیں گے، ان کی کنگھیاں سونے کی ہوں گی۔اور ان کی انگیٹھیوں میں عود سلگتی ہوگی، ان کا پسینہ کستوری ہو گا ان کے اخلاق ایک انسان کی طرح یعنی یکساں، ایک جیسے ہوں گے، ان کا قد کاٹھ اپنے باپ آدم کی طرح ساٹھ ہاتھ ہوگا۔"ابن ابی شیبہ کہتے ہیں،ایک آدمی کی طرح خلق ہوگا اور ابو کریب کہتے ہیں ایک آدمی کی طرح بناوٹ ہوگی، یعنی جسمانی بناوٹ یکساں ہوگی،ابن ابی شیبہ کہتے ہیں، اپنے باپ کی شکل پر ہوں گے۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ ، قَالَ : هَذَا مَا حَدَّثَنَا أَبُو هُرَيْرَةَ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرَ أَحَادِيثَ مِنْهَا ، وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَوَّلُ زُمْرَةٍ تَلِجُ الْجَنَّةَ صُوَرُهُمْ عَلَى صُورَةِ الْقَمَرِ لَيْلَةَ الْبَدْرِ ، لَا يَبْصُقُونَ فِيهَا ، وَلَا يَمْتَخِطُونَ ، وَلَا يَتَغَوَّطُونَ فِيهَا آنِيَتُهُمْ ، وَأَمْشَاطُهُمْ مِنَ الذَّهَبِ وَالْفِضَّةِ وَمَجَامِرُهُمْ مِنَ الْأَلُوَّةِ ، وَرَشْحُهُمُ الْمِسْكُ وَلِكُلِّ وَاحِدٍ مِنْهُمْ زَوْجَتَانِ يُرَى مُخُّ سَاقِهِمَا مِنْ وَرَاءِ اللَّحْمِ مِنَ الْحُسْنِ لَا اخْتِلَافَ بَيْنَهُمْ ، وَلَا تَبَاغُضَ قُلُوبُهُمْ قَلْبٌ وَاحِدٌ يُسَبِّحُونَ اللَّهَ بُكْرَةً وَعَشِيًّا " .معمر نے ہمیں ہمام بن منبہ سے حدیث بیان کی، کہا: یہ احادیث ہیں جو حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کیں، انہوں نے بہت سی احادیث بیان کیں، ان میں سے ایک یہ ہے۔ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پہلا گروہ جو جنت کے اندر جائے گا، ان کی صورتیں چودھویں رات کے چاند کی صورت پر ہوں گی۔ وہ اس (جنت) میں نہ تھوکیں گے، نہ ناک سنکیں گے، نہ پیشاب پاخانہ کریں گے۔ ان کے برتن اور ان کی کنگھیاں سونے اور چاندی کی ہوں گی، ان کی انگیٹھیوں میں عود معطر سلگے گا، ان کا پسینہ کستوری کا ہو گا۔ ان میں سے ہر ایک کی دو دو بیویاں ہوں گی، فرط حسن سے ان کی پنڈلیوں کا گودا گوشت سے پیچھے سے دکھائی دے گا۔ ان کے درمیان نہ کوئی اختلاف ہو گا نہ باہمی بغض ہو گا۔ ان سب کے دل ایک دل (کی طرح) ہوں گے۔ وہ صبح و شام اپنے اللہ کی تسبیح کرتے ہوں گے“۔
تشریح، فوائد و مسائل
(1)
زمرة، گروہ، جماعت، (2)
اضوا: روشنی میں سب سے زیادہ چمکدار، ذري، روشن، اعزب یاعزب، غیر شادی شدہ، مجرد، کنوارا۔