صحيح مسلم
كتاب الجنة وصفة نعيمها وأهلها— جنت اس کی نعمتیں اور اہل جنت
باب إِحْلاَلِ الرِّضْوَانِ عَلَى أَهْلِ الْجَنَّةِ فَلاَ يَسْخَطُ عَلَيْهِمْ أَبَدًا: باب: اس بات کا بیان کہ جنتیوں پر اللہ تعالیٰ کبھی ناراض نہیں ہو گا۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَهْمٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ ، أَخْبَرَنَا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ . ح وحَدَّثَنِي هَارُونُ بْنُ سَعِيدٍ الْأَيْلِيُّ وَاللَّفْظُ لَهُ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ ، حَدَّثَنِي مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " إِنَّ اللَّهَ يَقُولُ لِأَهْلِ الْجَنَّةِ يَا أَهْلَ الْجَنَّةِ ، فَيَقُولُونَ : لَبَّيْكَ رَبَّنَا وَسَعْدَيْكَ وَالْخَيْرُ فِي يَدَيْكَ ، فَيَقُولُ : هَلْ رَضِيتُمْ ؟ ، فَيَقُولُونَ : وَمَا لَنَا لَا نَرْضَى يَا رَبِّ وَقَدْ أَعْطَيْتَنَا مَا لَمْ تُعْطِ أَحَدًا مِنْ خَلْقِكَ ، فَيَقُولُ : أَلَا أُعْطِيكُمْ أَفْضَلَ مِنْ ذَلِكَ ؟ ، فَيَقُولُونَ : يَا رَبِّ وَأَيُّ شَيْءٍ أَفْضَلُ مِنْ ذَلِكَ ، فَيَقُولُ : أُحِلُّ عَلَيْكُمْ رِضْوَانِي فَلَا أَسْخَطُ عَلَيْكُمْ بَعْدَهُ أَبَدًا " .حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ عزوجل اہل جنت سے فرمائے گا: اے اہل جنت! وہ کہیں گے: لبیک، اے ہمارے رب! زہے نصیب کہ ہم تیرے سامنے حاضر ہیں اور بھلائی تیرے ہاتھوں میں ہے۔ تو وہ فرمائے گا: کیا تم راضی ہو گئے ہو؟ وہ سب کہیں گے: ہم راضی کیوں نہ ہوں؟ اے ہمارے رب! جبکہ تو نے ہمیں وہ کچھ عطا کر دیا ہے جو تو نے اپنی ساری مخلوق میں سے کسی کو عطا نہیں فرمایا۔ وہ فرمائے گا: کیا میں تمھیں اس سے بھی بہتر عطا نہ کروں؟ تو وہ کہیں گے: اے رب! (جو تو نے عطا کر دیا ہے) اس سے افضل کیا ہے؟ وہ فرمائے گا: میں تم پر اپنی رضا نازل کرتا ہوں، اس کے بعد میں تم سے کبھی ناراض نہ ہوں گا“۔
تشریح، فوائد و مسائل
اللہ کی رضا اور خوشنودی ہر چیز سے بڑھ کر ہے۔
''اور لذت و مسرت میں اعلان رضا سے بڑھ کر دیدار الٰہی ہے۔
غلام کے لیے بڑھ کرخوشی کسی چیز میں نہیں ہو سکتی کہ آقا راضی رہے ورضوان من اللہ أکبر کا یہی مطلب ہے۔
1۔
جنت کی نعمتیں بے شمار اور لازوال ہیں لیکن اللہ تعالیٰ کی رضا اور خوشنودی تمام نعمتوں سے بڑھ کر ہو گی۔
غلام کے لیے اس سے بڑھ کر خوشی کیا ہو سکتی ہے کہ اس کا آقا ہمیشہ کے لیے اس پر راضی رہے۔
ارشاد باری تعالیٰ ہے۔
’’اللہ تعالیٰ نے مومن مردوں اور اہل ایمان خواتین سے ایسے باغات کا وعدہ کیا ہے جن کے نیچے سے نہریں بہتی ہیں۔
ان میں وہ ہمیشہ رہیں گے اور سدا بہار باغات میں پاکیزہ قیام گاہوں کا بھی (وعدہ کر رکھا ہے)
اور اللہ کی طرف سے تھوڑی سی خوشنودی تو ان تمام نعمتوں سے بڑھ کر ہو گی۔
یہی تو بہت بڑی کامیابی ہے۔
" (التوبة: 72)
2۔
اس حدیث میں صراحت ہے کہ اللہ تعالیٰ اہل جنت سے گفتگو کرے گا۔
اہل جنت اس سے بابرکت کلام سنیں گے۔
اور سوال و جواب کریں گے۔
اللہ تعالیٰ ان سے مخاطب ہو گا۔
وہ اللہ تعالیٰ سے مخاطب ہوں گے۔
یہ گفتگو بار بار ہو گی۔
ہم پہلے بیان کر آئے ہیں۔
کہ اللہ تعالیٰ کا کلام اس کی مشیت سے متعلق ہے وہ جب چاہے جیسے چاہے اور جس سے چاہے ہم کلام ہو سکتا ہے۔
اس کا کلام آواز حروف پر مشتمل ہے جسے سنا اور سمجھا جا سکتا ہے اللہ تعالیٰ تمام اہل ایمان کو اس نعمت سے سر فراز فرمائے۔
آمین۔
3۔
واضح رہے کہ اللہ تعالیٰ کی اہل جنت سے مذکورہ گفتگو کسی خاص طبقے سے نہیں بلکہ عام اہل جنت سے ہوگی اور اللہ تعالیٰ کئی مرتبہ اہل جنت کو شرف ہم کلامی سے سرفراز کرے گا۔
آمین ثم آمین۔
(1)
جنت اور اس کی تمام نعمتیں عطا فرمانے کے بعد رب کریم کا اپنے بندوں سے پوچھنا کہ ’’تم راضی اور مطمئن ہو‘‘ بجائے خود کتنی بڑی نعمت ہے، پھر دائمی رضا کا تحفہ اور کبھی ناراض نہ ہونے کا اعلان کتنا بڑا انعام اور احسان ہے۔
یقیناً اللہ تعالیٰ کی رضا، جنت اور اس کی تمام نعمتوں سے اعلیٰ اور بالاتر ہے۔
ارشاد باری تعالیٰ ہے: ’’اللہ کی طرف سے تھوڑی سی رضا اور خوشنودی سب سے بڑی (نعمت)
ہے۔
‘‘ (التوبة: 72/9) (2)
اہل جنت کے لیے ایک دوسرا اعلان بھی ہو گا جو اس سے بھی بڑھ کر ہے اور وہ اس کے علاوہ ہے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’جب اہل جنت، جنت میں پہنچ جائیں گے تو اللہ تعالیٰ ان سے فرمائے گا: کیا تم چاہتے ہو کہ میں تمہیں ایک مزید چیز عطا کروں؟ اہل جنت عرض کریں گے: اے اللہ! تو نے ہمارے چہرے روشن کیے اور دوزخ سے بچا کر ہمیں جنت میں داخل کیا، اب اس سے بڑھ کر اور کیا چیز ہو سکتی ہے؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’بندوں کے اس جواب کے بعد یکایک حجاب اٹھ جائے گا تو وہ اپنے پروردگار کا دیدار کر رہے ہوں گے، پھر انہیں محسوس ہو گا کہ جو کچھ اب تک انہیں ملا تھا، اس میں سب سے زیادہ محبوب اور پیاری چیز ان کے لیے یہی دیدار الٰہی ہے۔
‘‘ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے درج ذیل آیت تلاوت فرمائی: ’’جن لوگوں نے (اس دنیا میں)
نیکی اور بندگی والی اچھی زندگی گزاری ان کے لیے اچھی جگہ (جنت)
ہے اور (اس پر)
مزید ایک نعمت (دیدار الٰہی)
ہو گی۔
‘‘ (یونس: 10/26، و صحیح مسلم، الإیمان، حدیث: 449، 450 (181)