صحيح مسلم
كتاب الجنة وصفة نعيمها وأهلها— جنت اس کی نعمتیں اور اہل جنت
باب إِنَّ فِي الْجَنَّةِ شَجَرَةً يَسِيرُ الرَّاكِبُ فِي ظِلِّهَا مِائَةَ عَامٍ لاَ يَقْطَعُهَا: باب: جنت میں اس درخت کا بیان جس کا سایہ سو سال تک چلنے پر بھی ختم نہیں ہوتا۔
حدیث نمبر: 2828
قَالَ أَبُو حَازِمٍ : فَحَدَّثْتُ بِهِ النُّعْمَانَ بْنَ أَبِي عَيَّاشٍ الزُّرَقِيَّ ، فَقَالَ حَدَّثَنِي أَبُو سَعِيدٍ الْخُدْرِيُّ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " إِنَّ فِي الْجَنَّةِ شَجَرَةً يَسِيرُ الرَّاكِبُ الْجَوَادَ الْمُضَمَّرَ السَّرِيعَ مِائَةَ عَامٍ مَا يَقْطَعُهَا " .حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:"جنت میں ایک ایسا درخت ہے،کہ بہترین تربیت یا فتہ گھوڑے پر سوار سو(100) سال چلے گا۔"اس کو پار نہ کر سکے گا۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ مولانا عبد العزیز علوی
حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:"جنت میں ایک ایسا درخت ہے،کہ بہترین تربیت یا فتہ گھوڑے پر سوار سو(100) سال چلے گا۔"اس کو پار نہ کر سکے گا۔ [صحيح مسلم، حديث نمبر:7139]
حدیث حاشیہ: فوائد ومسائل: اللہ تعالیٰ نے جو نعمتیں اور راحت کے سامان، اپنے بندوں کے لیے جنت میں پیدا کیے ہیں، ان میں سے ایک قسم کے وہ طویل و عریض سایہ دار درخت ہیں، جن کا سایہ اتنے وسیع رقبہ پر پڑتا ہے کہ بہترین اور تربیت یافتہ گھوڑے پر سوار بھی سو سال میں اس کو طے نہیں کرسکے گا۔
درج بالا اقتباس تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 2828 سے ماخوذ ہے۔