صحيح مسلم
كتاب الجنة وصفة نعيمها وأهلها— جنت اس کی نعمتیں اور اہل جنت
باب صِفَّةِ الْجَنَّةِ باب: جنت کی صفات کا بیان۔
حدیث نمبر: 2823
وحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا شَبَابَةُ ، حَدَّثَنِي وَرْقَاءُ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنْ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِهِ .حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی کی مانند روایت کی۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ مولانا عبد العزیز علوی
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مذکورہ بالا روایت بیان کرتے ہیں۔ [صحيح مسلم، حديث نمبر:7131]
حدیث حاشیہ: مفردات الحدیث:
مكاره: مكروه کی جمع ہے، ایسے کام اور عمل جو محنت ومشقت کے متقاضی ہیں، جن کی خاطر خواہشات اور لذت انگیز چیزوں سے رکنا پڑتا ہے۔
فوائد ومسائل: جنت انتہائی راحت و آرام کی جگہ ہے، اس لیے اس کے حصول کے لیے محنت و طلب ور صبر آزمااعمال کرنے پڑتے ہیں اور دوزخ انتہائی تکلیف دے اور مضرت رساں مقام ہے، اس لیے اس کے حصول کے لیے کسی محنت و مشقت کی ضرورت نہیں ہے، بلکہ من مانی کر کے اور خواہشات کا اسیر بن کر، انسان اس میں داخل ہوجائےگا، کسی پابندی اور رکاوٹ کی ضرورت نہیں ہے۔
مكاره: مكروه کی جمع ہے، ایسے کام اور عمل جو محنت ومشقت کے متقاضی ہیں، جن کی خاطر خواہشات اور لذت انگیز چیزوں سے رکنا پڑتا ہے۔
فوائد ومسائل: جنت انتہائی راحت و آرام کی جگہ ہے، اس لیے اس کے حصول کے لیے محنت و طلب ور صبر آزمااعمال کرنے پڑتے ہیں اور دوزخ انتہائی تکلیف دے اور مضرت رساں مقام ہے، اس لیے اس کے حصول کے لیے کسی محنت و مشقت کی ضرورت نہیں ہے، بلکہ من مانی کر کے اور خواہشات کا اسیر بن کر، انسان اس میں داخل ہوجائےگا، کسی پابندی اور رکاوٹ کی ضرورت نہیں ہے۔
درج بالا اقتباس تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 2823 سے ماخوذ ہے۔