حدیث نمبر: 2814
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ إِسْحَاقُ : أَخْبَرَنَا ، وقَالَ عُثْمَانُ : حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَا مِنْكُمْ مِنْ أَحَدٍ إِلَّا وَقَدْ وُكِّلَ بِهِ قَرِينُهُ مِنَ الْجِنِّ " ، قَالُوا : وَإِيَّاكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، قَالَ : " وَإِيَّايَ إِلَّا أَنَّ اللَّهَ أَعَانَنِي عَلَيْهِ ، فَأَسْلَمَ فَلَا يَأْمُرُنِي إِلَّا بِخَيْرٍ " ،

عثمان بن ابی شیبہ اور اسحٰق بن ابراہیم نے کہا: ہمیں جریر نے منصور سے حدیث بیان کی، انہوں نے سالم بن ابی جعد سے، انہوں نے اپنے والد سے اور انہوں نے حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم میں سے کوئی شخص بھی نہیں مگر اللہ نے اس کے ساتھ جنوں میں سے اس کا ایک ساتھی مقرر کر دیا ہے (جو اسے برائی کی طرف مائل رہتا ہے)“۔ انہوں (صحابہ کرام رضوان اللہ عنھم اجمعین) نے کہا: اے اللہ کے رسول! آپ کے ساتھ بھی؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اور میرے ساتھ بھی لیکن اللہ تعالیٰ نے اس کے مقابلے میں میری مدد فرمائی ہے اور وہ مسلمان ہو گیا، اس لیے (اب) وہ مجھے خیر کے سوا کوئی بات نہیں کہتا“۔

حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُثَنَّى ، وَابْنُ بَشَّارٍ قَالَا : حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ يَعْنِيَانِ ابْنَ مَهْدِيٍّ ، عَنْ سُفْيَانَ . ح وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ عَنْ عَمَّارِ بْنِ رُزَيْقٍ كِلَاهُمَا ، عَنْ مَنْصُورٍ ، بِإِسْنَادِ جَرِيرٍ مِثْلَ حَدِيثِهِ ، غَيْرَ أَنَّ فِي حَدِيثِ سُفْيَانَ ، وَقَدْ وُكِّلَ بِهِ قَرِينُهُ مِنَ الْجِنِّ وَقَرِينُهُ مِنَ الْمَلَائِكَةِ .

سفیان اور عمار بن رزیق دونوں نے منصور سے جریر کی سند کے ساتھ انھی کی حدیث کے مانند روایت کی، مگر سفیان کی حدیث میں ہے: ”ہر شخص کے لیے ایک ساتھی جنوں میں سے اور ایک ساتھی فرشتوں میں سے مقرر کر دیا ہے (جن اسے برائی کی طرف مائل کرتا ہے اور فرشتہ نیکی کی طرف۔ فیصلہ خود اسی کو کرنا ہوتا ہے))“۔

حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب صفة القيامة والجنة والنار / حدیث: 2814
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
تخریج حدیث «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : مشكوة المصابيح: 67

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ مولانا عبد العزیز علوی
حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:"تم میں سے ہر ایک کے ساتھ، اس کا ایک جن ساتھی لگا دیا گیا ہے۔"ساتھیوں نے پوچھا اور آپ کے ساتھی بھی؟اے اللہ کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم!آپ نے فرمایا:"میرے ساتھ بھی، لیکن اللہ تعالیٰ اس کے خلاف میری مدد فرماتا ہے اس لیے میں اس سے محفوظ رہتا ہوں یا وہ مطیع ہو گیا ہے اور مجھے صرف خیر اور بھلائی کا مشورہ دیتا ہے۔" [صحيح مسلم، حديث نمبر:7108]
حدیث حاشیہ: فوائد ومسائل: اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ ہر مسلمان کے ساتھ ایک شیطان ساتھی لگا ہوا ہے، جو اس کو راہ راست سے بھٹکانے کی کوشش کرتا ہے اور اسے غلط مشورہ دیتا ہے، اس سے صرف نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم محفوظ ہیں، وہ آپ کو اچھا مشورہ ہی دیتا ہے، غلط مشورہ دینے کی جسارت نہیں کرسکتا، اگر اَسلَمُ سمع سے مضارع متکلم کا صیغہ بنائیں تو معنی ہوگا، میں محفوظ رہتا ہوں، اگر اَسلَمَ اکرم کے وزن پر ماضی کا صیغہ ہو تو معنی ہوگا، وہ مطیع فرمانبردار بن گیا ہے اور اللہ کی قدرت سے یہ بھی باہر نہیں، اگر وہ مسلمان اور مؤمن بن جائے، بہرحال ہمیں ہر وقت شیطان سے ہوشیار اور چوکنارہنے کی ضرورت ہے، وہ ہر وقت داؤ میں رہتا ہے۔
درج بالا اقتباس تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 2814 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: مشكوة المصابيح / حدیث: 67 کی شرح از حافظ زبیر علی زئی ✍️
´ہم زاد`
«. . . ‏‏‏‏وَعَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَا مِنْكُمْ مِنْ أَحَدٍ إِلَّا وَقَدْ وُكِّلَ بِهِ قَرِينُهُ مِنَ الْجِنِّ وَقَرِينُهُ مِنَ الْمَلَائِكَةِ. قَالُوا: وَإِيَّاكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ: وَإِيَّايَ وَلَكِنَّ اللَّهَ أَعَانَنِي عَلَيْهِ فَأَسْلَمَ فَلَا يَأْمُرُنِي إِلَّا بِخَيْرٍ ". رَوَاهُ مُسلم . . .»
. . . سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم میں سے ہر ایک شخص کے ساتھ جنوں یا فرشتوں میں سے مصاحب اور ہم نشین ضرور مقرر کیا گیا ہے۔ صحابہ رضی اللہ عنہم نے عرض کیا، یا رسول اللہ! آپ کے ساتھ بھی مقرر کیا گیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہاں میرے لیے بھی مقرر کیا گیا ہے لیکن اللہ تعالیٰ نے میری اس (شیطان) پر مدد فرما دی ہے یعنی مجھے اس پر غلبہ دیا ہے، میں غالب رہتا ہوں وہ مغلوب رہتا ہے میں اس سے محفوظ و سالم رہتا ہوں یعنی اس کے شر و فساد سے بچا رہتا ہوں یا وہ میرا تعبدار و فرمانبردار ہے وہ مجھے صرف بھلائی ہی کی تلقین کرتا ہے۔ اس حدیث کو مسلم نے روایت کیا ہے۔ . . . [مشكوة المصابيح/كِتَاب الْإِيمَانِ/0: 67]
تخریج:
[صحيح مسلم 7108]

فقہ الحدیث:
➊ ہر انسان پر دو قرین مقرر و مسلط کئے گئے ہیں، ایک قرین فرشتہ ہے جو اس کے دل میں نیکی اور خیر کی باتیں ڈالتا ہے اور دوسرا قرین جن (شیطان ہے)، جو اس کے دل میں شر اور نافرمانی کی باتیں ڈالتا ہے۔ فرشتہ نیکی کی طرف بلاتا ہے اور شیطان برائی کی طرف دعوت دیتا ہے۔ اب آدمی کو اختیار ہے کہ جس راستے پر چلنا چاہے، چلے لیکن یاد رہے کہ نیکی والے راستے پر چلنے والے کا انجام جنت اور برائی والے راستے پر چلنے والے کا انجام جہنم ہے۔
➋ نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم اپنے قرین پر غالب تھے، لہٰذا وہ آپ کو نیکی ہی کی ترغیب دیتا تھا۔ امت محمدیہ، اہل ایمان اللہ کے فضل و کرم سے شیطان (قرین) کے شر سے محفوظ رہتے ہیں۔ جس کا جتنا ایمان مضبوط ہو گا وہ اتنا ہی شیطان کے شر اور وسوسوں سے محفوظ رہے گا۔
➌ اس حدیث میں «فأسلم» کا لفظ دو طرح پڑھا گیا ہے: ① «فَاَسْلَمُ» پس میں (اس سے) سلامتی میں رہتا ہوں۔
«فَاَسْلَمَ» پس وہ مسلمان ہو گیا ہے .
یہ لفظ دونوں طرح صحیح ہے اور دونوں معنی صحیح ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ و سلم کا قرین مسلمان بھی ہو گیا تھا اور وہ آپ کو نیکی کی ترغیب ہی دیتا تھا۔
«ما» کا لفظ یہاں عموم کے معنی میں ہے، صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے اس سے عموم ہی سمجھا ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے اس عموم کی تردید نہیں فرمائی۔ لغت میں «ما و من» کو عموم کے لئے قرار دیا گیا ہے اور عموم سے بعض افراد کو اس وقت ہی خارج قرار دیا جا سکتا ہے جب کوئی صریح دلیل یا قرینہ صارفہ موجود ہو۔
➎ جنات انسانوں پر، اللہ کے اذن کے ساتھ اثر انداز ہو سکتے ہیں۔
درج بالا اقتباس اضواء المصابیح فی تحقیق مشکاۃ المصابیح، حدیث/صفحہ نمبر: 67 سے ماخوذ ہے۔