صحيح مسلم
كتاب صفة القيامة والجنة والنار— قیامت اور جنت اور جہنم کے احوال
باب مَثَلُ الْمُؤْمِنِ كَالزَّرْعِ وَمَثَلُ الْكَافِرِ كَشَجَرِ الأَرْزِ: باب: مومن اور کافر کی مثال۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى ، عَنْ مَعْمَرٍ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَعِيدٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَثَلُ الْمُؤْمِنِ كَمَثَلِ الزَّرْعِ لَا تَزَالُ الرِّيحُ تُمِيلُهُ ، وَلَا يَزَالُ الْمُؤْمِنُ يُصِيبُهُ الْبَلَاءُ ، وَمَثَلُ الْمُنَافِقِ كَمَثَلِ شَجَرَةِ الْأَرْزِ لَا تَهْتَزُّ حَتَّى تَسْتَحْصِدَ " ،عبدالاعلیٰ نے ہمیں معمر سے حدیث بیان کی، انہوں نے زہری سے، انہوں نے سعید سے، انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مومن کی مثال کھیتی کی طرح ہے۔ ہوا مسلسل اس کو (ایک یا دوسری طرف) جھکاتی رہتی ہے اور مومن پر مسلسل مصیبتیں آتی رہتی ہیں، اور منافق کی مثال ویدار درخت کی طرح ہے (جس کا تنا ہوا میں بھی تن کر کھڑا رہتا ہے)۔ جھکتا نہیں حتیٰ کہ (ایک ہی بار) اسے کاٹ کر گرا دیا جاتا ہے“۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ وَعَبْدُ بْنُ حميد ، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ بِهَذَا الْإِسْنَادِ ، غَيْرَ أَنَّ فِي حَدِيثِ عَبْدِ الرَّزَّاقِ مَكَانَ قَوْلِهِ تُمِيلُهُ تُفِيئُهُ .یہی روایت دو اور اساتذہ سے عبدالرزاق کی سند سے بیان کرتے ہیں اور اس میں "تُمِيلُه"کی جگہ "تُفِيئُه"ہے معنی دونوں کا جھکانا مائل کرنا ہے۔