حدیث نمبر: 2808
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ وَاللَّفْظُ لِزُهَيْرٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، أَخْبَرَنَا هَمَّامُ بْنُ يَحْيَى ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ اللَّهَ لَا يَظْلِمُ مُؤْمِنًا حَسَنَةً يُعْطَى بِهَا فِي الدُّنْيَا ، وَيُجْزَى بِهَا فِي الْآخِرَةِ ، وَأَمَّا الْكَافِرُ فَيُطْعَمُ بِحَسَنَاتِ مَا عَمِلَ بِهَا لِلَّهِ فِي الدُّنْيَا حَتَّى إِذَا أَفْضَى إِلَى الْآخِرَةِ لَمْ تَكُنْ لَهُ حَسَنَةٌ يُجْزَى بِهَا " .

ہمام بن یحییٰ نے قتادہ سے، انہوں نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بے شک اللہ تعالیٰ کسی مومن کے ساتھ ایک نیکی کے معاملے میں بھی ظلم نہیں فرماتا۔ اس کے بدلے اسے دنیا میں بھی عطا کرتا ہے اور آخرت میں بھی اس کی جزا دی جاتی ہے۔ رہا کافر، اسے نیکیوں کے بدلے میں جو اس نے دنیا میں اللہ کے لیے کی ہوتی ہیں، اسی دنیا میں کھلا دیا جاتا ہے حتیٰ کہ جب وہ آخرت میں پہنچتا ہے تو اس کے پاس کوئی نیکی باقی نہیں ہوتی جس کی اسے جزا دی جائے“۔

حَدَّثَنَا عَاصِمُ بْنُ النَّضْرِ التَّيْمِيُّ ، حَدَّثَنَا مُعْتَمِرٌ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبِي ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنَّهُ حَدَّثَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ الْكَافِرَ إِذَا عَمِلَ حَسَنَةً أُطْعِمَ بِهَا طُعْمَةً مِنَ الدُّنْيَا وَأَمَّا الْمُؤْمِنُ ، فَإِنَّ اللَّهَ يَدَّخِرُ لَهُ حَسَنَاتِهِ فِي الْآخِرَةِ وَيُعْقِبُهُ رِزْقًا فِي الدُّنْيَا عَلَى طَاعَتِهِ " ،

معتمر کے والد سلیمان نے کہا: ہمیں قتادہ نے انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے حدیث بیان کی: ”بلاشبہ ایک کافر جب کوئی نیک کام کرتا ہے تو اس کے بدلے اسے دنیا کے کھانوں (نعمتوں) میں سے ایک لقمہ (نعمت کی صورت میں) کھلا دیتا ہے اور اللہ تعالیٰ مومن کی نیکیوں کا ذخیرہ آخرت کے لیے کرتا جاتا ہے۔ اور اس کی اطاعت شعاری پر دنیا میں (بھی) اسے رزق عطا فرماتا ہے“۔

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الرُّزِّيُّ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عَطَاءٍ ، عَنْ سَعِيدٍ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَعْنَى حَدِيثِهِمَا .

سعید بن ابی عروبہ نے قتادہ سے، انہوں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ہمام اور سلیمان کی حدیث کے ہم معنی حدیث بیان کی۔

حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب صفة القيامة والجنة والنار / حدیث: 2808
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
تخریج حدیث «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ مولانا عبد العزیز علوی
حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:"یقیناًاللہ مومن کی کسی نیکی کی حق تلفی نہیں فرماتا، اس کے سبب اسے دنیا میں بھی دیا جاتا ہے اور اس کا آخرت میں بھی صلہ ملے گا۔رہا کافر تو اس نے جو نیکیاں اللہ کے لیے کی ہیں۔"ان کے سبب دنیا میں رزق دیا جاتا ہے حتی کہ جب وہ آخرت میں پہنچے گا تو اس کے پاس کوئی نیکی نہیں ہو گی۔ جس کا اسے صلہ یا بدلہ دیا جائے۔ [صحيح مسلم، حديث نمبر:7089]
حدیث حاشیہ: فوائد ومسائل: کافر دنیا میں جو اچھے کام، اللہ کی خوشنودی اور رضا کے لیے کرتا ہے، اس کا بدلہ اسے دنیا ہی میں مل جاتا ہے، لیکن مومن، آخرت کے اجرو ثواب کے لیے، نیک عمل کرتا ہے، اس لیے اسے ان کا بدلہ آخرت میں ملے گا اور دنیا میں اسے جو کچھ مل رہا ہے، وہ محض اللہ کا فضل و کرم ہے، نیکیوں کی جزا یا بدلہ نہیں ہے، جزا صرف آخرت میں ہی ملے گی، جب کہ اگلی آیت میں آرہاہے۔
درج بالا اقتباس تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 2808 سے ماخوذ ہے۔