صحيح مسلم
كتاب صفة القيامة والجنة والنار— قیامت اور جنت اور جہنم کے احوال
باب طَلَبِ الْكَافِرِ الْفِدَاءَ بِمِلْءِ الأَرْضِ ذَهَبًا: باب: کافروں سے زمین بھر سونا بطور فدیہ طلب کرنے کا بیان۔
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ الْعَنْبَرِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ أَبِي عِمْرَانَ الْجَوْنِيِّ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " يَقُولُ اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى : لِأَهْوَنِ أَهْلِ النَّارِ عَذَابًا لَوْ كَانَتْ لَكَ الدُّنْيَا وَمَا فِيهَا ، أَكُنْتَ مُفْتَدِيًا بِهَا ، فَيَقُولُ : نَعَمْ ، فَيَقُولُ : قَدْ أَرَدْتُ مِنْكَ أَهْوَنَ مِنْ هَذَا وَأَنْتَ فِي صُلْبِ آدَمَ ، أَنْ لَا تُشْرِكَ أَحْسِبُهُ ، قَالَ : وَلَا أُدْخِلَكَ النَّارَ ، فَأَبَيْتَ إِلَّا الشِّرْكَ " ،معاذ عنبری نے کہا: ہمیں شعبہ نے ابوعوان جونی سے، انہوں نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے، انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تبارک و تعالیٰ اس شخص سے، جسے اہل جہنم میں سب سے کم عذاب ہوگا، فرمائے گا: اگر پوری دنیا اور جو کچھ اس میں ہے، تمہارے پاس ہو تو (عذاب سے چھوٹ جانے کے لیے) اسے بطور فدیہ دے دو گے؟ وہ کہے گا: ہاں، تو وہ (اللہ تعالیٰ) فرمائے گا: میں نے تم سے اس وقت جب تم آدم علیہ السلام کی پشت میں تھے، اس کی نسبت بہت کم کا مطالبہ کیا تھا کہ تم شرک نہ کرنا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے (آگے یہ) فرمایا: اور میں تمھیں آگ میں نہیں ڈالوں گا، مگر تم نے شرک کے سوا ہر چیز سے انکار کر دیا“۔
حَدَّثَنَاه مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ يَعْنِي ابْنَ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ أَبِي عِمْرَانَ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ يُحَدِّثُ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِهِ ، إِلَّا قَوْلَهُ وَلَا أُدْخِلَكَ النَّارَ ، فَإِنَّهُ لَمْ يَذْكُرْهُ .محمد بن جعفر نے کہا: ہمیں شعبہ نے ابوعمران سے حدیث بیان کی، کہا: میں نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے سنا، وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے حدیث بیان کر رہے تھے، اسی کے مانند، سوائے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اس قول کے: ”اور میں تمھیں آگ میں نہیں ڈالوں گا“، انہوں نے اسے بیان نہیں کیا۔
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ الْقَوَارِيرِيُّ ، وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَابْنُ بَشَّارٍ ، قَالَ إِسْحَاقُ : أَخْبَرَنَا ، وقَالَ الْآخَرُونَ : حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنْ قَتَادَةَ ، حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " يُقَالُ لِلْكَافِرِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ، أَرَأَيْتَ لَوْ كَانَ لَكَ مِلْءُ الْأَرْضِ ذَهَبًا أَكُنْتَ تَفْتَدِي بِهِ ، فَيَقُولُ : نَعَمْ ، فَيُقَالُ لَهُ : قَدْ سُئِلْتَ أَيْسَرَ مِنْ ذَلِكَ " ،ہشام دستوائی نے قتادہ سے روایت کی، کہا: ہمیں حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے حدیث بیان کی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قیامت کے دن کافر سے کہا جائے گا: تمہارا کیا خیال ہے، اگر تمہارے پاس زمین (کی مقدار) بھر سونا موجود ہو تو کیا تم (جہنم کے عذاب سے بچنے کے لیے) اس کو بطور فدیہ دے دو گے؟ وہ کہے گا: ہاں، تو اس سے کہا جائے گا: تم سے تو اس سے بہت آسان مطالبہ کیا گیا تھا“۔
وحَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ ، حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ . ح وحَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ زُرَارَةَ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ يَعْنِي ابْنَ عَطَاءٍ كِلَاهُمَا ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي عَرُوبَةَ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِهِ ، غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ : فَيُقَالُ لَهُ : كَذَبْتَ قَدْ سُئِلْتَ مَا هُوَ أَيْسَرُ مِنْ ذَلِكَ .سعید بن ابی عروبہ نے قتادہ سے، انہوں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی کے مانند روایت کی، مگر انہوں نے (اس طرح) کہا: ”تو اس سے کہا جائے گا: تم جھوٹ بولتے ہو، تم سے تو اس سے بہت آسان (بات کا) مطالبہ کیا گیا تھا“۔
تشریح، فوائد و مسائل
قیامت کے دن جو کافر اللہ تعالیٰ کے عذاب میں گرفتار ہوں گے وہ کسی صورت میں نجات نہیں پائیں گے۔
اللہ تعالیٰ صرف ذلیل و رسوا کرنے کے لیے انہیں یہ بات کہے گا جو حدیث میں بیان کی گئی ہے۔
ارشاد باری تعالیٰ ہے: ’’بلاشبہ جو لوگ کافر ہوئے پھر کفر ہی حالت میں مر گئے اگر وہ زمین بھر سونا دے کر بھی خود چھوٹ جانا چاہیں گے تو ان سے ہرگز قبول نہیں کیا جائے گا۔
‘‘ (آل عمران: 91/3)
بلکہ اس سے بھی زیادہ صراحت اور وضاحت کے ساتھ فرمایا: ’’جو لوگ کافر ہیں اگر زمین میں موجود سارا مال و دولت ان کی ملکیت ہو بلکہ اتنا اور بھی ہو اور وہ چاہیں کہ یہ سب کچھ دے دلا کر قیامت کے دن عذاب سے چھوٹ جائیں تو بھی ان سے یہ فدیہ قبول نہیں کیا جائے گا۔
‘‘ (المائدة: 36/5)