صحيح مسلم
كتاب صفة القيامة والجنة والنار— قیامت اور جنت اور جہنم کے احوال
باب انْشِقَاقِ الْقَمَرِ: باب: شق القمر کا بیان۔
حدیث نمبر: 2802
حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، وَعَبْدُ بْنُ حميد ، قَالَا : حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا شَيْبَانُ ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، عَنْ أَنَسٍ " أَنَّ أَهْلَ مَكَّةَ سَأَلُوا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُرِيَهُمْ آيَةً فَأَرَاهُمُ انْشِقَاقَ الْقَمَرِ مَرَّتَيْنِ " ،شیبان نے کہا: ہمیں قتادہ نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ اہل مکہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے مطالبہ کیا کہ آپ انھیں (اپنی نبوت کی سچائی کی) کوئی نشانی دکھائیں تو آپ نے انھیں چاند کے دو ٹکڑے ہونا دکھایا۔
وحَدَّثَنِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسٍ بِمَعْنَى حَدِيثِ شَيْبَانَ .یہی روایت امام صاحب ایک اور استاد سے بیان کرتے ہیں۔
وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، وَأَبُو دَاوُدَ . ح وحَدَّثَنَا ابْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، وَأَبُو دَاوُدَ كُلُّهُمْ ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ : " انْشَقَّ الْقَمَرُ فِرْقَتَيْنِ ، وَفِي حَدِيثِ أَبِي دَاوُدَ : انْشَقَّ الْقَمَرُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " .یہی روایت امام صاحب اپنے دو اساتذہ سے بیان کرتے ہیں، حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا، چاند دو ٹکڑوں میں بٹ گیا، ابو داؤد رحمۃ اللہ علیہ کی حدیث میں ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دور میں چاند پھٹ گیا۔
تشریح، فوائد و مسائل
موضوع سے متعلق حدیث: سنن ترمذي / حدیث: 3286 کی شرح از ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی ✍️
´سورۃ القمر سے بعض آیات کی تفسیر۔`
انس رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ اہل مکہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے نشانی (معجزہ) کا مطالبہ کیا جس پر مکہ میں چاند دو بار دو ٹکڑے ہوا، اس پر آیت «اقتربت الساعة وانشق القمر» سے لے کر «سحر مستمر» نازل ہوئی، راوی کہتے ہیں: «سحر مستمر» میں «مستمر» کا مطلب ہے «ذاہب» (یعنی وہ جادو جو چلا آ رہا ہو) [سنن ترمذي/كتاب تفسير القرآن/حدیث: 3286]
انس رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ اہل مکہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے نشانی (معجزہ) کا مطالبہ کیا جس پر مکہ میں چاند دو بار دو ٹکڑے ہوا، اس پر آیت «اقتربت الساعة وانشق القمر» سے لے کر «سحر مستمر» نازل ہوئی، راوی کہتے ہیں: «سحر مستمر» میں «مستمر» کا مطلب ہے «ذاہب» (یعنی وہ جادو جو چلا آ رہا ہو) [سنن ترمذي/كتاب تفسير القرآن/حدیث: 3286]
اردو حاشہ:
وضاحت:
1؎:
اس حدیث میں ’’مرتین‘‘ کا معنی یہ نہیں ہے کہ چاند کے ٹکڑے ہونے کا واقعہ دو مرتبہ ہوا، یہ واقعہ دو مرتبہ ہوا نہیں، صرف ایک مرتبہ ہوا، یہاں’’مرتين‘‘ سے مراد ’’فلقتين‘‘ ہی ہے۔
وضاحت:
1؎:
اس حدیث میں ’’مرتین‘‘ کا معنی یہ نہیں ہے کہ چاند کے ٹکڑے ہونے کا واقعہ دو مرتبہ ہوا، یہ واقعہ دو مرتبہ ہوا نہیں، صرف ایک مرتبہ ہوا، یہاں’’مرتين‘‘ سے مراد ’’فلقتين‘‘ ہی ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 3286 سے ماخوذ ہے۔