صحيح مسلم
كتاب صفة القيامة والجنة والنار— قیامت اور جنت اور جہنم کے احوال
باب الدُّخَانِ: باب: دھوئیں کے بیان میں۔
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَمُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ . ح وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَاللَّفْظُ لَهُ ، حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ عَزْرَةَ ، عَنْ الْحَسَنِ الْعُرَنِيِّ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ الْجَزَّارِ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى ، عَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ فِي قَوْلِهِ عَزَّ وَجَلَّ : " وَلَنُذِيقَنَّهُمْ مِنَ الْعَذَابِ الأَدْنَى دُونَ الْعَذَابِ الأَكْبَرِ سورة السجدة آية 21 ، قَالَ وَالرُّومُ وَالْبَطْشَةُ أَوِ الدُّخَانُ شُعْبَةُ الشَّاكُّ ، فِي الْبَطْشَةِ أَوِ الدُّخَانِ .محمد بن جعفر نے شعبہ سے، انہوں نے قتادہ سے، انہوں نے عزرہ سے، انہوں نے حسن عرفی سے، انہوں نے یحییٰ بن جزار سے، انہوں نے عبدالرحمان بن ابی لیلیٰ سے اور انہوں نے حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے اللہ عزوجل کے فرمان: «وَلَنُذِيقَنَّهُمْ مِنَ الْعَذَابِ الْأَدْنَىٰ دُونَ الْعَذَابِ الْأَكْبَرِ» ”اور بڑے عذاب سے پہلے ہم انہیں قریب کا (چھوٹا) عذاب چکھائیں گے“ (کی تفسیر) کے بارے میں روایت کی، انہوں نے کہا (اسی) دنیا میں پیش آنے والے مصائب، روم کی فتح، گرفت (جنگ بدر) یا دھواں (مراد) ہیں۔ گرفت اور دھواں کے بارے میں شک کرنے والے شعبہ ہیں۔ (ان سے اوپر کے راویوں نے یقین سے بتایا کہ گرفت اور دھواں مراد ہیں۔ شعبہ کو شک ہوا)۔