حدیث نمبر: 2797
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى الْقَيْسِيُّ ، قَالَا : حَدَّثَنَا الْمُعْتَمِرُ ، عَنْ أَبِيهِ ، حَدَّثَنِي نُعَيْمُ بْنُ أَبِي هِنْدٍ ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ أَبُو جَهْلٍ : هَلْ يُعَفِّرُ مُحَمَّدٌ وَجْهَهُ بَيْنَ أَظْهُرِكُمْ ؟ ، قَالَ : فَقِيلَ : نَعَمْ ، فَقَالَ : وَاللَّاتِ وَالْعُزَّى لَئِنْ رَأَيْتُهُ يَفْعَلُ ذَلِكَ لَأَطَأَنَّ عَلَى رَقَبَتِهِ ، أَوْ لَأُعَفِّرَنَّ وَجْهَهُ فِي التُّرَابِ ، قَالَ : فَأَتَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يُصَلِّي زَعَمَ لِيَطَأَ عَلَى رَقَبَتِهِ ، قَالَ : فَمَا فَجِئَهُمْ مِنْهُ إِلَّا وَهُوَ يَنْكُصُ عَلَى عَقِبَيْهِ ، وَيَتَّقِي بِيَدَيْهِ ، قَالَ : فَقِيلَ لَهُ : مَا لَكَ ؟ ، فَقَالَ : إِنَّ بَيْنِي وَبَيْنَهُ لَخَنْدَقًا مِنْ نَارٍ وَهَوْلًا وَأَجْنِحَةً ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَوْ دَنَا مِنِّي لَاخْتَطَفَتْهُ الْمَلَائِكَةُ عُضْوًا عُضْوًا ، قَالَ : فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ لَا نَدْرِي فِي حَدِيثِ أَبِي هُرَيْرَةَ أَوْ شَيْءٌ بَلَغَهُ كَلَّا إِنَّ الإِنْسَانَ لَيَطْغَى { 6 } أَنْ رَآهُ اسْتَغْنَى { 7 } إِنَّ إِلَى رَبِّكَ الرُّجْعَى { 8 } أَرَأَيْتَ الَّذِي يَنْهَى { 9 } عَبْدًا إِذَا صَلَّى { 10 } أَرَأَيْتَ إِنْ كَانَ عَلَى الْهُدَى { 11 } أَوْ أَمَرَ بِالتَّقْوَى { 12 } أَرَأَيْتَ إِنْ كَذَّبَ وَتَوَلَّى { 13 } سورة العلق آية 6-13 يَعْنِي أَبَا جَهْلٍ أَلَمْ يَعْلَمْ بِأَنَّ اللَّهَ يَرَى { 14 } كَلَّا لَئِنْ لَمْ يَنْتَهِ لَنَسْفَعًا بِالنَّاصِيَةِ { 15 } نَاصِيَةٍ كَاذِبَةٍ خَاطِئَةٍ { 16 } فَلْيَدْعُ نَادِيَهُ { 17 } سَنَدْعُ الزَّبَانِيَةَ { 18 } كَلَّا لا تُطِعْهُ سورة العلق آية 14-19 زَادَ عُبَيْدُ اللَّهِ فِي حَدِيثِهِ ، قَالَ : وَأَمَرَهُ بِمَا أَمَرَهُ بِهِ ، وَزَادَ ابْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى ، فَلْيَدْعُ نَادِيَهُ : يَعْنِي قَوْمَهُ .

عبید اللہ بن معاذ اور محمد بن عبدالاعلیٰ قیسی نے ہمیں حدیث بیان کی دونوں نے کہا: ہمیں معتمر نے اپنے والد سے حدیث سنائی، انہوں نے کہا: مجھے نعیم بن ابی ہند نے ابوحازم سے حدیث بیان کی، انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہا: ابوجہل نے کہا: کیا محمد صلی اللہ علیہ وسلم تم لوگوں کے سامنے اپنا چہرہ زمین پر رکھتے ہیں؟ (حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے) کہا: تو کہا گیا: ہاں چنانچہ اس نے کہا: لات اور عزیٰ کی قسم! اگر میں نے ان کو ایسا کرتے ہوئے دیکھ لیا تو میں ان کی گردن کو روندوں گا یا ان کے چہرے کو مٹی میں ملاؤں گا (العیاذ باللہ!) ”ہم اللہ کی پناہ مانگتے ہیں!“ کہا: پھر جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھ رہے تھے وہ آپ کے پاس آیا اور یہ ارادہ کیا کہ آپ کی گردن مبارک کو روندے (ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے) کہا: تو وہ انہیں اچانک ایڑیوں کے بل پلٹتا ہوا اور اپنے دونوں ہاتھوں (کو آگے کر کے ان) سے اپنا بچاؤ کرتا ہوا نظر آیا۔ (ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے) کہا: تو اس سے کہا کیا: تمہیں کیا ہوا؟ تو اس نے کہا: میرے اور اس کے درمیان آگ کی ایک خندق اور سخت ہول (پیدا کرنے والی مخلوق) اور بہت سے پر تھے۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر وہ میرے قریب آتا تو فرشتے اس کے ایک ایک عضو کو اچک لیتے۔“ (ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے) کہا: اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیات نازل فرمائیں۔ (ابوحازم نے کہا۔ (ہمیں معلوم نہیں کہ یہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی (رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہوئی) اپنی حدیث ہے یا انہیں (کسی کی طرف سے) پہنچی ہے۔ (وہ آیات یہ تھیں) «كَلَّا إِنَّ الْإِنْسَانَ لَيَطْغَىٰ أَنْ رَآهُ اسْتَغْنَىٰ إِنَّ إِلَىٰ رَبِّكَ الرُّجْعَىٰ أَرَأَيْتَ الَّذِي يَنْهَىٰ عَبْدًا إِذَا صَلَّىٰ أَرَأَيْتَ إِنْ كَانَ عَلَى الْهُدَىٰ أَوْ أَمَرَ بِالتَّقْوَىٰ أَرَأَيْتَ إِنْ كَذَّبَ وَتَوَلَّىٰ أَلَمْ يَعْلَمْ بِأَنَّ اللَّهَ يَرَىٰ كَلَّا لَئِنْ لَمْ يَنْتَهِ لَنَسْفَعًا بِالنَّاصِيَةِ نَاصِيَةٍ كَاذِبَةٍ خَاطِئَةٍ فَلْيَدْعُ نَادِيَهُ» ”اس کے سوا کوئی بات نہیں کہ انسان ہر صورت میں سر کشی کرتا ہے اس لیے کہ وہ خود کو دیکھتا ہے کہ وہ ہر ایک سے مستغنی ہے حقیقت یہ ہے کہ (اسے) آپ کے رب کی طرف واپس جانا ہے۔ آپ نے اسے دیکھا جو روکتا ہے۔ (اللہ کے) بندے کو جب وہ نماز ادا کرتا ہے۔ کیا تم نے دیکھا کہ اگر وہ (اللہ کا بندہ) ہدایت پر ہو اور تقویٰ کا حکم دیتا ہو (تو روکنے والے کا کیا بنے گا؟) کیا آپ نے دیکھا کہ آکر اس یعنی ابوجہل نے جھٹلایا ہے اور ہدایت سے منہ پھیرا ہے۔ (تو) کیا وہ نہیں جانتا کہ اللہ دیکھتا ہے۔ ہر گز نہیں! اگر وہ باز نہ آیا تو ہم (اسے) پیشانی سے پکڑ کر کھینچیں گے۔ (اس کی) جھوٹی گناہ کرنے والی پیشانی سے پھر وہ اپنی مجلس کو (مدد کے لیے) پکارے ہم عذاب دینے والے فرشتوں کو بلائیں گے۔ ہر گز نہیں! آپ اس کی (کوئی بات بھی) نہ مانیں۔“ عبید اللہ بن معاذ نے اپنی حدیث میں مزید کہا۔ (ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے «أَوْ أَمَرَ بِالتَّقْوَىٰ» کی تفسیر کرتے ہوئے) کہا: اور اس بات کا حکم دیتا ہو جس کا اس (اللہ) نے اسے حکم دیا ہے۔ اور محمد بن عبدالاعلیٰ نے مزید یہ کہا: ”وہ اپنی مجلس کو پکارے“ یعنی اپنی قوم کو۔

حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب صفة القيامة والجنة والنار / حدیث: 2797
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
تخریج حدیث «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ مولانا عبد العزیز علوی
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں:ابوجہل نے کہا: کیا محمدتم لوگوں کے سامنے اپنا چہرہ زمین پر رکھتے ہیں؟ (حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے)کہا: تو کہا گیا: ہاں چنانچہ اس نے کہا: لات اور عزیٰ کی قسم!اگر میں نے ان کو ایسا کرتے ہوئے دیکھ لیا تو میں ان کی گردن کو روندوں گا یا ان کے چہرےکو مٹی میں ملاؤں گا(العیاذ باللہ!)کہا: پھر جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھ رہے تھے وہ آپ کے پاس آیا اور یہ ارادہ کیا کہ آپ کی گردن مبارک کوروندے(ابوہریرہ رضی... (مکمل حدیث اس نمبر پر دیکھیں) [صحيح مسلم، حديث نمبر:7065]
حدیث حاشیہ: مفردات الحدیث:
(1)
هل يعفر وجهه: عفر(خاک، مٹی)
کیا وہ اپنا چہرے پر مٹی ملتاہے، سجدہ کرتا ہے۔
(2)
الرجعي: واپسی، رجوع، یہ حاصل مصدر ہے، (3)
ناديه، سوسائیٹی، مجلس، ٹولی اور پارٹی مراد ہے (4)
زبانية، زبنية کی جمع ہے، دفاع کرنے والے، باڈی گارڈ، مراد وہ فرشتے ہیں، جو خاص نوعیت کی مہمات پر بھیجے جاتے ہیں۔
فوائد ومسائل: اس حدیث سے اس انتظام کا اظہار ہو رہا ہے، جو اللہ تعالیٰ اپنے رسولوں کی حفاظت کے لیے فر ماتا ہے، تاکہ ان کے دشمن ان کو ضرر نہ پہنچا سکیں اور آیات میں ان سرمایا داروں اور لیڈروں کی عکاسی کی گئی ہے، جو اپنے مال و دولت کے غرے میں مبتلا ہو کر سر کشی اور طغیان اختیار کرتے ہیں، اور جس نے سب کچھ دیا ہے، اس سے ہی اعراض کرتےہیں، چونکہ دماغ کا سامنے والا حصہ جسے ناصیہ کہا گیاہے، وہی مجرمانہ پلاننگ کرتا ہے، ظلم وزیادتی کا مرکز ہے، اس لیے چوٹی پکڑ کر گھسیٹنے کا تذکرہ کیا گیا ہے اور اسے جھوٹی، خطا کار قراردیا گیا ہے۔
درج بالا اقتباس تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 2797 سے ماخوذ ہے۔