صحيح مسلم
كتاب صفة القيامة والجنة والنار— قیامت اور جنت اور جہنم کے احوال
باب نُزُلِ أَهْلِ الْجَنَّةِ: باب: اہل جنت کی مہمانی کے بیان میں۔
حدیث نمبر: 2793
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَبِيبٍ الْحَارِثِيُّ ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ ، حَدَّثَنَا قُرَّةُ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَوْ تَابَعَنِي عَشَرَةٌ مِنْ الْيَهُودِ لَمْ يَبْقَ عَلَى ظَهْرِهَا يَهُودِيٌّ إِلَّا أَسْلَمَ " .محمد بن سیرین نے ہمیں حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے حدیث بیان کی کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر دس (بڑے) یہودی (عالم) میری پیروی کر لیتے تو روئے زمین پر کوئی یہودی باقی نہ رہتا مگر مسلمان ہو جاتا۔“
تشریح، فوائد و مسائل
موضوع سے متعلق حدیث: صحيح البخاري / حدیث: 3941 کی شرح از مولانا داود راز ✍️
3941. حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے، وہ نبی ﷺ سے بیان کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا: ’’اگر دس یہودی مجھ پر ایمان لے آتے تو سب یہودی مسلمان ہو جاتے۔‘‘[صحيح بخاري، حديث نمبر:3941]
حدیث حاشیہ: مطلب یہ ہے کہ میرے مدینہ میں آنے کے بعد اگردس یہود بھی مسلمان ہو جاتے تو دوسرے تمام یہودی بھی ان کی دیکھا دیکھی مسلمان ہو جاتے۔
ہوا یہ کہ جب آپ مدینہ تشریف لائے تو صرف عبد اللہ بن سلام ؓ مسلمان ہوئے باقی دوسرے سردار یہود کے جیسے ابو یاسر اور حیی بن اخطب اور کعب بن اشرف رافع بن ابی الحقیق۔
بنی نضیر میں سے اور عبد اللہ بن حنیف اور قحاص اور رفاعہ بنی قینقاع میں سے زبیر اور کعب اور شویل بنی قریظہ میں سے یہ سب مخالف رہے۔
کہتے ہیں ابو یاسر آپ کے پاس آیا اور اپنی قوم کے پاس جاکر ان کو سمجھایا یہ سچے پیغمبرہیں وہی پیغمبر ہیں جن کا ہم انتظار کرتے تھے۔
ان کا کہنا مان لو لیکن اس کے بھائی نے مخالفت کی اور قوم کے لوگوں نے بھائی کی مخالفت کی وجہ سے ابو یاسر کا کہنا نہ سنا اورمیمون بن یامین ان یہودیوں میں سے مسلمان ہو گیا۔
اس کا بھی حال عبد اللہ بن سلام کا سا گزرا۔
پہلے تو یہودیوں نے بڑی تعریف کی جب معلوم ہوا کہ مسلمان ہو گیا تو لگے اسکی برائی کرنے۔
(وحیدی)
ہوا یہ کہ جب آپ مدینہ تشریف لائے تو صرف عبد اللہ بن سلام ؓ مسلمان ہوئے باقی دوسرے سردار یہود کے جیسے ابو یاسر اور حیی بن اخطب اور کعب بن اشرف رافع بن ابی الحقیق۔
بنی نضیر میں سے اور عبد اللہ بن حنیف اور قحاص اور رفاعہ بنی قینقاع میں سے زبیر اور کعب اور شویل بنی قریظہ میں سے یہ سب مخالف رہے۔
کہتے ہیں ابو یاسر آپ کے پاس آیا اور اپنی قوم کے پاس جاکر ان کو سمجھایا یہ سچے پیغمبرہیں وہی پیغمبر ہیں جن کا ہم انتظار کرتے تھے۔
ان کا کہنا مان لو لیکن اس کے بھائی نے مخالفت کی اور قوم کے لوگوں نے بھائی کی مخالفت کی وجہ سے ابو یاسر کا کہنا نہ سنا اورمیمون بن یامین ان یہودیوں میں سے مسلمان ہو گیا۔
اس کا بھی حال عبد اللہ بن سلام کا سا گزرا۔
پہلے تو یہودیوں نے بڑی تعریف کی جب معلوم ہوا کہ مسلمان ہو گیا تو لگے اسکی برائی کرنے۔
(وحیدی)
درج بالا اقتباس صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 3941 سے ماخوذ ہے۔
موضوع سے متعلق حدیث: صحيح البخاري / حدیث: 3941 کی شرح از الشیخ عبدالستار الحماد ✍️
3941. حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے، وہ نبی ﷺ سے بیان کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا: ’’اگر دس یہودی مجھ پر ایمان لے آتے تو سب یہودی مسلمان ہو جاتے۔‘‘[صحيح بخاري، حديث نمبر:3941]
حدیث حاشیہ:
مدینہ طیبہ میں یہودیوں کے تین قبیلے آباد تھے اور ان میں دس آدمی بڑا اثرورسوخ رکھتے تھے: بنو نضیر میں ابویاسر بن اخطب۔
اس کا بھائی حی بن اخطب، کعب بن اشرف اور رافع بن ابی الحقیق۔
بنوقینقاع میں عبداللہ بن حنیف، فخاص اوررفاعہ بن زید۔
بنوقریظہ میں سے زبیر بن باطیاء کعب بن اسعد او شمویل بن زید۔
اگریہ یہودی مسلمان ہوجائے تو مدینے کے تمام یہودی مسلمان ہوجاتے لیکن ان میں سے کسی کو اسلام نصیب نہیں ہوا۔
ان سرداروں میں سے صرف عبداللہ بن سلام ؓ مسلمان ہوئے۔
ایک روایت میں ہے کہ حضرت ابوہریرہ ؓ نے جب یہ حدیث بیان کی تو کعب احبار نے کہا کہ حدیث میں بارہ اشخاص کا ذکر ہے، کیونکہ قرآن میں ہے: ’’ہم نے ان میں بارہ نقیب مقرر کیے۔
‘‘ (المائدة: 12: 5)
یہ سن کر ابوہریرہ ؓ خاموش ہوگئے۔
ابن سیرین کہتے ہیں کہ کعب احبار کے مقابلے میں حضرت ابوہریرہ ؓ کی قدروقیمت ہمارے نزدیک زیادہ ہے۔
(فتح الباري: 344/7، 345)
مدینہ طیبہ میں یہودیوں کے تین قبیلے آباد تھے اور ان میں دس آدمی بڑا اثرورسوخ رکھتے تھے: بنو نضیر میں ابویاسر بن اخطب۔
اس کا بھائی حی بن اخطب، کعب بن اشرف اور رافع بن ابی الحقیق۔
بنوقینقاع میں عبداللہ بن حنیف، فخاص اوررفاعہ بن زید۔
بنوقریظہ میں سے زبیر بن باطیاء کعب بن اسعد او شمویل بن زید۔
اگریہ یہودی مسلمان ہوجائے تو مدینے کے تمام یہودی مسلمان ہوجاتے لیکن ان میں سے کسی کو اسلام نصیب نہیں ہوا۔
ان سرداروں میں سے صرف عبداللہ بن سلام ؓ مسلمان ہوئے۔
ایک روایت میں ہے کہ حضرت ابوہریرہ ؓ نے جب یہ حدیث بیان کی تو کعب احبار نے کہا کہ حدیث میں بارہ اشخاص کا ذکر ہے، کیونکہ قرآن میں ہے: ’’ہم نے ان میں بارہ نقیب مقرر کیے۔
‘‘ (المائدة: 12: 5)
یہ سن کر ابوہریرہ ؓ خاموش ہوگئے۔
ابن سیرین کہتے ہیں کہ کعب احبار کے مقابلے میں حضرت ابوہریرہ ؓ کی قدروقیمت ہمارے نزدیک زیادہ ہے۔
(فتح الباري: 344/7، 345)
درج بالا اقتباس هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 3941 سے ماخوذ ہے۔