حدیث نمبر: 2792
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ شُعَيْبِ بْنِ اللَّيْثِ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ جَدِّي ، حَدَّثَنِي خَالِدُ بْنُ يَزِيدَ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي هِلَالٍ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " تَكُونُ الْأَرْضُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ خُبْزَةً وَاحِدَةً يَكْفَؤُهَا الْجَبَّارُ بِيَدِهِ ، كَمَا يَكْفَأُ أَحَدُكُمْ خُبْزَتَهُ فِي السَّفَرِ نُزُلًا لِأَهْلِ الْجَنَّةِ " ، قَالَ : فَأَتَى رَجُلٌ مِنْ الْيَهُودِ ، فَقَال : بَارَكَ الرَّحْمَنُ عَلَيْكَ أَبَا الْقَاسِمِ ، أَلَا أُخْبِرُكَ بِنُزُلِ أَهْلِ الْجَنَّةِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ؟ قَالَ بَلَى ، قَالَ : تَكُونُ الْأَرْضُ خُبْزَةً وَاحِدَةً ، كَمَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : فَنَظَرَ إِلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، ثُمَّ ضَحِكَ حَتَّى بَدَتْ نَوَاجِذُهُ ، قَالَ : " أَلَا أُخْبِرُكَ بِإِدَامِهِمْ ؟ ، قَالَ : بَلَى ، قَالَ : " إِدَامُهُمْ بَالَامُ وَنُونٌ ، قَالُوا : وَمَا هَذَا ؟ ، قَالَ : ثَوْرٌ وَنُونٌ يَأْكُلُ مِنْ زَائِدَةِ كَبِدِهِمَا سَبْعُونَ أَلْفًا " .

عطاء بن یسار نے حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قیامت کے دن یہ زمین ایک ہی روٹی بن جائے گی۔ جبار (اللہ تعالیٰ) اہل جنت کی مہمانی کے لیے اسے اپنے ہاتھ سے الٹ پلٹ کر روٹی کی طرح بنا دے گا جس طرح تم میں سے کوئی شخص سفر میں روٹی کو الٹ پلٹ کرتا ہے۔“ (حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ نے) کہا: اتنے میں یہودیوں میں سے ایک شخص آ گیا اس نے کہا: ابوالقاسم الرحمن آپ پر برکت نازل فرمائے! کیا میں آپ کو قیامت کے روز اہل جنت کی ضیافت کے بارے میں نہ بتاؤں؟ آپ نے ارشاد فرمایا: ”کیوں نہیں! (بتاؤ)“ اس نے کہا: زمین ایک (بڑی سی) روٹی بن جائے گی۔ جس طرح (اس کی آمد سے قبل خود) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا۔ (ابوسعید رضی اللہ عنہ نے) کہا: تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہماری طرف دیکھا پھر آپ ہنسے حتیٰ کہ آپ کے پچھلے دندان مبارک نظر آنے لگے۔ اس نے (پھر) کہا: کیا میں آپ کو ان کے سالن کے بارے میں نہ بتاؤں؟ آپ نے فرمایا: ”کیوں نہیں! (بتاؤ)“ اس نے کہا: ان کا سالن بالام اور نون ہو گا یہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین نے پوچھا وہ کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بیل اور مچھلی، یہ اس کے جگر کے چھوٹے سے اضافی حصے کو (جو اصل جگر کے ساتھ ایک طرف موجود ہوتا ہے) ستر ہزار لوگ کھائیں گے۔“

حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب صفة القيامة والجنة والنار / حدیث: 2792
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
تخریج حدیث «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : صحيح البخاري: 6520

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ مولانا عبد العزیز علوی
حضرت خدری ابو سعید رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:"قیامت کے دن زمین ایک روٹی ہو گی جبار(کنٹرولر)اہل جنت کی مہمانی کے لیے، اپنے ہاتھ میں اس طرح الٹ پلٹ کرے گا۔ جس طرح تم میں سے کوئی شخص سفر میں اپنی روٹی الٹتا پلٹتا ہے۔"ابو سعید رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں، اتنے میں ایک یہودی آدمی آگیا اور کہنے لگا اے ابو القاسم!رحمان آپ پر برکتیں نازل فرمائے، کیا میں آپ کو قیامت کے دن اہل جنت کی ابتدائی ضیافت کے بارے میں نہ بتاؤں؟آپ نے... (مکمل حدیث اس نمبر پر دیکھیں) [صحيح مسلم، حديث نمبر:7057]
حدیث حاشیہ: فوائد ومسائل: اس حدیث سے ثابت ہوتا ہے، قیامت کے دن جنت میں جانے والوں کے لیے زمین روٹی کی طرح بن جائے گی اور وہ اس کو بیل اور مچھلی کے گوشت کے ساتھ کھائیں گے، تاکہ میدان محشر میں وہ بھوک سے محفوظ ہوجائیں اور اللہ تعالیٰ اس کو اپنے ہاتھ سے الٹ پلٹ کر، روٹی کی طرح پھیلا دے گا، تاکہ اس کو کھانا آسان ہو جائے۔
درج بالا اقتباس تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 7057 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: صحيح البخاري / حدیث: 6520 کی شرح از حافظ زبیر علی زئی ✍️
´اللہ تعالیٰ کی ایک صفت يد ہاتھ کا اثبات`
«. . . قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" تَكُونُ الْأَرْضُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ خُبْزَةً وَاحِدَةً يَتَكَفَّؤُهَا الْجَبَّارُ بِيَدِهِ كَمَا يَكْفَأُ أَحَدُكُمْ خُبْزَتَهُ فِي السَّفَرِ نُزُلًا لِأَهْلِ الْجَنَّةِ . . .»
". . . نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا "قیامت کے دن ساری زمین ایک روٹی کی طرح ہو جائے گی جسے اللہ تعالیٰ اہل جنت کی میزبانی کے لیے اپنے ہاتھ سے الٹے پلٹے گا جس طرح تم دستر خوان پر روٹی لہراتے پھراتے ہو . . ." [صحيح البخاري/كِتَاب الرِّقَاقِ: 6520]
فوائد و مسائل:
یہ حدیث [صحيح مسلم:2792،7057، مسند عبد بن حميد:962، شرح السنه للبغوي:114،113/15 ح4306 وقال:هذا حديث متفق على صحته، البعث لا بي عوانه اتحاف المهرة:330/5 ح5491] اور [التوحيد لابن خزيمه:ص73،74 ح98] میں موجود ہے۔
اس میں «يتكفؤها الجبار بيده...» کا مطلب ہے کہ اسے جبار (اللہ) اپنے ہاتھ سے الٹے پلٹے گا جس طرح تم میں سے کوئی شخص دسترخوان پر روٹی کو الٹتا پلٹتا ہے۔
اس حدیث میں اللہ تعالیٰ کی ایک صفت «يد» ہاتھ کا اثبات ہے اور مثال کے ذریعے سے یہ سمجھایا گیا ہے کہ زمیں گول کے بجائے چپٹی ہو جائے گی۔ اس حدیث میں اللہ تعالیٰ کو مخلوق سے ہرگز تشبیہ نہیں دی گئی مگر معترض نے لکھا ہے: "لیکن امام بخاری اپنی صحیح میں فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ بندوں کی طرح اپنے ہاتھ سے روٹی پکا کے جنتیوں کو کھلائے گا . . ." (ص21) ملتانی کی یہ بات کالا جھوٹ ہے۔ حدیث مذکور میں اللہ تعالیٰ کا روٹیاں پکانا بالکل موجود نہیں ہے۔
درج بالا اقتباس توفيق الباري في تطبيق القرآن و صحيح بخاري، حدیث/صفحہ نمبر: 31 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: صحيح البخاري / حدیث: 6520 کی شرح از مولانا داود راز ✍️
6520. حضرت ابو خدری ؓ سے روایت ہے انہوں نے کہا کہ نبی ﷺ نے فرمایا: قیامت کے دن ساری زمین ایک روٹی بن جائے گی جسے اللہ تعالٰی اہل جنت کی میزبانی کے لیے اپنے ہاتھ سے الٹ پلٹ کرتا ہے۔ پھر ایک یہودی آپ کی خدمت میں حاضر ہوا اور بولا: اے ابو القاسم! تم پر رحمن برکت نازل فرمائے، کیا میں تمہیں قیامت کے دن اہل جنت کی سب سے پہلی ضیافت کی خبر نہ دوں؟ آپ نے فرمایا: "کیوں نہیں" اس نے کہا: قیامت کے دن یہ زمین ایک روٹی کی شکل اختیار کرلے گی جیسا کہ نبی ﷺ نے فرمایا تھا: تب نبی ﷺ نے ہماری طرف دیکھا پھر اتنا ہنسے کہ آپکے دانت نمایاں نظر آنے لگے۔ پھر اس نےکہا: میں تمہیں اہل جنت کے سالن کی خبر نہ دوں؟ کہنے لگا: ان کا سالن بالام اور نون ہوگا۔ صحابہ کرام نے کہا: یہ کیا چیز ہے؟ اس نے کہا: بیل اور مچھلی جن کی کلیجی کے زائد ٹکڑے سے ستر ہزار آدمی کھائیں گے۔[صحيح بخاري، حديث نمبر:6520]
حدیث حاشیہ: اللہ اکبر کتنی عظیم الشان نعمت سے مہمانی کی جائے گی۔
بالام عبرانی لفظ ہے، اس کے معنی بیل ہی کے صحیح ہیں اور نون مچھلی کو کہتے ہیں، یہ عربی زبان کا لفظ ہے۔
قرآن مجید میں بھی مچھلی کے لیے یہ لفظ بولا گیا ہے۔
مذکورہ ستر ہزار وہ لوگ ہوں گے جو بلا حساب جنت میں جائیں گے۔
اللهم اجعلنا منهم آمین۔
درج بالا اقتباس صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 6520 سے ماخوذ ہے۔