صحيح مسلم
كتاب صفة القيامة والجنة والنار— قیامت اور جنت اور جہنم کے احوال
باب نُزُلِ أَهْلِ الْجَنَّةِ: باب: اہل جنت کی مہمانی کے بیان میں۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ شُعَيْبِ بْنِ اللَّيْثِ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ جَدِّي ، حَدَّثَنِي خَالِدُ بْنُ يَزِيدَ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي هِلَالٍ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " تَكُونُ الْأَرْضُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ خُبْزَةً وَاحِدَةً يَكْفَؤُهَا الْجَبَّارُ بِيَدِهِ ، كَمَا يَكْفَأُ أَحَدُكُمْ خُبْزَتَهُ فِي السَّفَرِ نُزُلًا لِأَهْلِ الْجَنَّةِ " ، قَالَ : فَأَتَى رَجُلٌ مِنْ الْيَهُودِ ، فَقَال : بَارَكَ الرَّحْمَنُ عَلَيْكَ أَبَا الْقَاسِمِ ، أَلَا أُخْبِرُكَ بِنُزُلِ أَهْلِ الْجَنَّةِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ؟ قَالَ بَلَى ، قَالَ : تَكُونُ الْأَرْضُ خُبْزَةً وَاحِدَةً ، كَمَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : فَنَظَرَ إِلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، ثُمَّ ضَحِكَ حَتَّى بَدَتْ نَوَاجِذُهُ ، قَالَ : " أَلَا أُخْبِرُكَ بِإِدَامِهِمْ ؟ ، قَالَ : بَلَى ، قَالَ : " إِدَامُهُمْ بَالَامُ وَنُونٌ ، قَالُوا : وَمَا هَذَا ؟ ، قَالَ : ثَوْرٌ وَنُونٌ يَأْكُلُ مِنْ زَائِدَةِ كَبِدِهِمَا سَبْعُونَ أَلْفًا " .عطاء بن یسار نے حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قیامت کے دن یہ زمین ایک ہی روٹی بن جائے گی۔ جبار (اللہ تعالیٰ) اہل جنت کی مہمانی کے لیے اسے اپنے ہاتھ سے الٹ پلٹ کر روٹی کی طرح بنا دے گا جس طرح تم میں سے کوئی شخص سفر میں روٹی کو الٹ پلٹ کرتا ہے۔“ (حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ نے) کہا: اتنے میں یہودیوں میں سے ایک شخص آ گیا اس نے کہا: ابوالقاسم الرحمن آپ پر برکت نازل فرمائے! کیا میں آپ کو قیامت کے روز اہل جنت کی ضیافت کے بارے میں نہ بتاؤں؟ آپ نے ارشاد فرمایا: ”کیوں نہیں! (بتاؤ)“ اس نے کہا: زمین ایک (بڑی سی) روٹی بن جائے گی۔ جس طرح (اس کی آمد سے قبل خود) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا۔ (ابوسعید رضی اللہ عنہ نے) کہا: تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہماری طرف دیکھا پھر آپ ہنسے حتیٰ کہ آپ کے پچھلے دندان مبارک نظر آنے لگے۔ اس نے (پھر) کہا: کیا میں آپ کو ان کے سالن کے بارے میں نہ بتاؤں؟ آپ نے فرمایا: ”کیوں نہیں! (بتاؤ)“ اس نے کہا: ان کا سالن بالام اور نون ہو گا یہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین نے پوچھا وہ کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بیل اور مچھلی، یہ اس کے جگر کے چھوٹے سے اضافی حصے کو (جو اصل جگر کے ساتھ ایک طرف موجود ہوتا ہے) ستر ہزار لوگ کھائیں گے۔“
تشریح، فوائد و مسائل
«. . . قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" تَكُونُ الْأَرْضُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ خُبْزَةً وَاحِدَةً يَتَكَفَّؤُهَا الْجَبَّارُ بِيَدِهِ كَمَا يَكْفَأُ أَحَدُكُمْ خُبْزَتَهُ فِي السَّفَرِ نُزُلًا لِأَهْلِ الْجَنَّةِ . . .»
". . . نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا "قیامت کے دن ساری زمین ایک روٹی کی طرح ہو جائے گی جسے اللہ تعالیٰ اہل جنت کی میزبانی کے لیے اپنے ہاتھ سے الٹے پلٹے گا جس طرح تم دستر خوان پر روٹی لہراتے پھراتے ہو . . ." [صحيح البخاري/كِتَاب الرِّقَاقِ: 6520]
یہ حدیث [صحيح مسلم:2792،7057، مسند عبد بن حميد:962، شرح السنه للبغوي:114،113/15 ح4306 وقال:هذا حديث متفق على صحته، البعث لا بي عوانه اتحاف المهرة:330/5 ح5491] اور [التوحيد لابن خزيمه:ص73،74 ح98] میں موجود ہے۔
اس میں «يتكفؤها الجبار بيده...» کا مطلب ہے کہ اسے جبار (اللہ) اپنے ہاتھ سے الٹے پلٹے گا جس طرح تم میں سے کوئی شخص دسترخوان پر روٹی کو الٹتا پلٹتا ہے۔
اس حدیث میں اللہ تعالیٰ کی ایک صفت «يد» ہاتھ کا اثبات ہے اور مثال کے ذریعے سے یہ سمجھایا گیا ہے کہ زمیں گول کے بجائے چپٹی ہو جائے گی۔ اس حدیث میں اللہ تعالیٰ کو مخلوق سے ہرگز تشبیہ نہیں دی گئی مگر معترض نے لکھا ہے: "لیکن امام بخاری اپنی صحیح میں فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ بندوں کی طرح اپنے ہاتھ سے روٹی پکا کے جنتیوں کو کھلائے گا . . ." (ص21) ملتانی کی یہ بات کالا جھوٹ ہے۔ حدیث مذکور میں اللہ تعالیٰ کا روٹیاں پکانا بالکل موجود نہیں ہے۔
بالام عبرانی لفظ ہے، اس کے معنی بیل ہی کے صحیح ہیں اور نون مچھلی کو کہتے ہیں، یہ عربی زبان کا لفظ ہے۔
قرآن مجید میں بھی مچھلی کے لیے یہ لفظ بولا گیا ہے۔
مذکورہ ستر ہزار وہ لوگ ہوں گے جو بلا حساب جنت میں جائیں گے۔
اللهم اجعلنا منهم آمین۔