مرکزی مواد پر جائیں
19 شعبان، 1447 ہجری
حدیث نمبر: 2791
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ ، عَنْ دَاوُدَ ، عَنْ الشَّعْبِيِّ ، عَنْ مَسْرُوقٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : " سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ قَوْلِهِ عَزَّ وَجَلَّ يَوْمَ تُبَدَّلُ الأَرْضُ غَيْرَ الأَرْضِ وَالسَّمَوَاتُ سورة إبراهيم آية 48 ، فَأَيْنَ يَكُونُ النَّاسُ يَوْمَئِذٍ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ ، فَقَالَ : عَلَى الصِّرَاطِ " .

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے انہوں نے کہا میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اللہ عزوجل کے اس قول کے متعلق سوال کیا: «يَوْمَ تُبَدَّلُ الْأَرْضُ غَيْرَ الْأَرْضِ وَالسَّمَاوَاتُ» ”جس دن زمین دوسری زمین سے بدل دی جائے گی اور آسمان (بھی بدل دیا جائے گا)“ تو اللہ کے رسول! اس دن لوگ کہاں ہوں گے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پل صراط پر۔“

حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب صفة القيامة والجنة والنار / حدیث: 2791
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : سنن ترمذي: 3121 | سنن ابن ماجه: 4279

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ مولانا عبد العزیز علوی
حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا بیان کرتی ہیں، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اللہ عزوجل کے اس فرمان کے بارے میں سوال کیا،"جس دن زمین کو دوسری زمین سے بدل دیا جائے گا اور آسمانوں کو بھی۔"ابراہیم نمبر48تو اس وقت لوگ کہا ں ہوں گے؟ اے اللہ کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! آپ نے فرمایا:" پل صراط پر۔" [صحيح مسلم، حديث نمبر:7056]
حدیث حاشیہ: فوائد ومسائل: قیامت اور آخرت کے حالات کی صحیح حقیقت اور کیفیت کو ان کے وقوع پذیر ہونے سے پہلے جاننا ممکن نہیں ہے، اس لیے ان پر اجمالی طور پر ایمان لانا ہی ضروری ہے۔
درج بالا اقتباس تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 2791 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: سنن ترمذي / حدیث: 3121 کی شرح از ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی ✍️
´سورۃ ابراہیم سے بعض آیات کی تفسیر۔`
مسروق کہتے ہیں کہ ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا نے آیت «يوم تبدل الأرض غير الأرض» جس دن زمین و آسمان بدل کر دوسری طرح کے کر دیئے جائیں گے (ابراہیم: ۴۸)، پڑھ کر سوال کیا: اللہ کے رسول! اس وقت لوگ کہاں ہوں گے؟ آپ نے فرمایا: «على الصراط» پل صراط پر۔‏‏‏‏ [سنن ترمذي/كتاب تفسير القرآن/حدیث: 3121]
اردو حاشہ:
وضاحت:
1؎:
جس دن زمین و آسمان بدل کر دوسری طرح کے کر دیئے جائیں گے (ابراہیم: 48)
درج بالا اقتباس سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 3121 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابن ماجه / حدیث: 4279 کی شرح از مولانا عطا اللہ ساجد ✍️
´حشر کا بیان۔`
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے «يوم تبدل الأرض غير الأرض والسموات» جس دن زمین اور آسمان بدل دئیے جائیں گے (سورة إبراهيم: 48) سے متعلق پوچھا کہ لوگ اس وقت کہاں ہوں گے؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پل صراط پر۔‏‏‏‏ [سنن ابن ماجه/كتاب الزهد/حدیث: 4279]
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
پل صراط بھی قیامت کے مراحل میں سے ایک مرحلہ ہے۔

(2)
یہ پل جہنم پر ہوگا اور سب انسان اس پر سے گزریں گے نیک مومن اس پر سے آسانی سے گزرجایئں گے۔
زیادہ گناہ گار مومن اور سب کافر جہنم میں گر جایئں گئے۔
اس کے بعد گناہ گار مومن نبیوں اور نیک آدمیوں کی شفاعت کے ساتھ جہنم سے نکل آیئں گے۔
کم گناہ کرنے والے پہلے نکلیں گے دوسرے بعد میں۔
آخر میں صرف کافر جہنم میں رہ جائیں گے۔
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 4279 سے ماخوذ ہے۔

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔