صحيح مسلم
كتاب صفة القيامة والجنة والنار— قیامت اور جنت اور جہنم کے احوال
باب فِي الْبَعْثِ وَالنُّشُورِ وَصِفَةِ الأَرْضِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ: باب: مرنے کے بعد اٹھنے اور قیامت والے دن زمین کی حالت کا بیان۔
حدیث نمبر: 2790
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جَعْفَرِ بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، حَدَّثَنِي أَبُو حَازِمِ بْنُ دِينَارٍ ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " يُحْشَرُ النَّاسُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ عَلَى أَرْضٍ بَيْضَاءَ عَفْرَاءَ كَقُرْصَةِ النَّقِيِّ لَيْسَ فِيهَا عَلَمٌ لِأَحَدٍ " .حضرت سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قیامت کے دن لوگوں کو غبار کی رنگت ملی، سفید زمین پر اکٹھا کیا جائے گا، جیسے چھنے ہوئے آٹے کی روٹی ہوتی ہے اور اس میں کسی شخص کے لیے کوئی علامت موجود نہیں ہو گی۔“
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ مولانا عبد العزیز علوی
حضرت سہل بن سعد رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:"قیامت کے دن لوگ سفید زمین پر جو سرخی مائل ہو گی۔ جیسا کہ میدہ کی روٹی ہوتی ہے جمع کیے جائیں گے۔ اور اس زمین میں کسی شخص کے لیے کوئی نشان نہیں ہو گا، یعنی کوئی گھر، عمارت اور نشان نہ ہو گا،صاف چٹیل میدان ہو گی۔ [صحيح مسلم، حديث نمبر:7055]
حدیث حاشیہ: فوائد ومسائل: اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے، قیامت کے دن زمین میدے کی پکی ہوئی سرخی مائل گول روٹی کی طرح ہو گی، جس پر کسی قسم کا گھر، عمارت یا نشان راہ نہیں ہوگا، بالکل صاف چٹیل میدان ہوگی، جس پر کسی قسم کاکوئی گناہ اورمعصیت کا ارتکاب نہیں کیا گیا ہوگا۔
درج بالا اقتباس تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 7055 سے ماخوذ ہے۔
موضوع سے متعلق حدیث: صحيح البخاري / حدیث: 6521 کی شرح از مولانا داود راز ✍️
6521. حضرت سہل بن سعد ؓ سے روایت ہے انہوں نے کہا: میں نے نبی ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا: قیامت کے دن لوگوں کو سفید اور سرخی آمیز زمین پر اکٹھا کیا جائے گا جو سفید میدے کی روٹی کی طرح ہوگی۔ "سہل وغیرہ نے کہا: اس زمین پر کسی چیز کا کوئی نشان نہیں ہوگا۔"[صحيح بخاري، حديث نمبر:6521]
حدیث حاشیہ: یعنی اس میں کوئی مکان، راستہ، باغ، ٹیلہ یا پہاڑ نہ ہوگا۔
آیات قرآنیہ بتاتی ہیں کہ حشر کی زمین اور ہوگی جیسا کہ آیت ﴿ يَوْمَ تُبَدَّلُ الْأَرْضُ غَيْرَ الْأَرْضِ﴾ (إبراهیم: 48)
سے ظاہر ہے۔
آیات قرآنیہ بتاتی ہیں کہ حشر کی زمین اور ہوگی جیسا کہ آیت ﴿ يَوْمَ تُبَدَّلُ الْأَرْضُ غَيْرَ الْأَرْضِ﴾ (إبراهیم: 48)
سے ظاہر ہے۔
درج بالا اقتباس صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 6521 سے ماخوذ ہے۔
موضوع سے متعلق حدیث: صحيح البخاري / حدیث: 6521 کی شرح از الشیخ عبدالستار الحماد ✍️
6521. حضرت سہل بن سعد ؓ سے روایت ہے انہوں نے کہا: میں نے نبی ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا: قیامت کے دن لوگوں کو سفید اور سرخی آمیز زمین پر اکٹھا کیا جائے گا جو سفید میدے کی روٹی کی طرح ہوگی۔ "سہل وغیرہ نے کہا: اس زمین پر کسی چیز کا کوئی نشان نہیں ہوگا۔"[صحيح بخاري، حديث نمبر:6521]
حدیث حاشیہ:
(1)
اس وقت زمین پر کوئی مکان، راستہ، باغ، پہاڑ یا دریا وغیرہ نہیں ہوں گے بلکہ موجودہ زمین کی شکل و صورت کو بدل دیا جائے گا جیسا کہ ارشاد باری تعالیٰ ہے: ’’جس دن یہ زمین اور آسمان تبدیل کر دیے جائیں گے۔
‘‘ (إبراھیم: 48/14) (2)
قرآن کریم کی بعض آیات سے زمین میں تبدیلی کی جو صورت سامنے آتی ہے وہ یہ ہے کہ زمین میں اس دن کوئی بلندی یا پستی نہیں رہے گی۔
سب پہاڑ زمین بوس کر دیے جائیں گے اور سب کھڈے بھر دیے جائیں گے۔
اسی طرح سطح زمین ہموار اور پہلے سے بہت زیادہ بڑھ جائے گی۔
اور سب سے اہم تبدیلی یہ ہو گی کہ سمندروں، دریاؤں اور ندی نالوں کو خشک کر دیا جائے گا۔
چونکہ سمندر کی سطح کا رقبہ خشکی کے رقبے سے تین گنا زیادہ ہے، اس طرح موجودہ زمین سے تبدیل شدہ زمین کم از کم چار گنا بڑھ جائے گی اور نشیب و فراز کے بجائے تمام زمین ہموار ہو گی۔
(3)
اس نئی زمین اور نئے آسمان کے لیے طبعی قوانین بھی موجودہ قوانین سے الگ ہوں گے اور اسی زمین پر اللہ تعالیٰ کی عدالت قائم ہو گی۔
اعمال تولنے کے لیے میزان بھی اسی زمین پر رکھی جائے گی پھر لوگوں کے اعمال کے مطابق ان کی جزا و سزا کے فیصلے بھی اسی جگہ ہوں گے۔
الحاصل اللہ تعالیٰ اپنی قدرت کاملہ سے زمین کی موجودہ شکل کو تبدیل کر دے گا اور اس میں طعام کی صلاحیت پیدا کر کے اسے روٹی بنا دیا جائے گا تاکہ محشر کے طویل زمانہ میں اہل ایمان اپنے قدموں کے نیچے سے کھائیں اور انہیں اتنی طویل مدت تک بھوکا رہنے سے تکلیف نہ ہو، سالن کے طور پر بیل کی کلیجی اور مچھلی کے ٹکڑے مہیا کیے جائیں گے۔
واللہ المستعان
(1)
اس وقت زمین پر کوئی مکان، راستہ، باغ، پہاڑ یا دریا وغیرہ نہیں ہوں گے بلکہ موجودہ زمین کی شکل و صورت کو بدل دیا جائے گا جیسا کہ ارشاد باری تعالیٰ ہے: ’’جس دن یہ زمین اور آسمان تبدیل کر دیے جائیں گے۔
‘‘ (إبراھیم: 48/14) (2)
قرآن کریم کی بعض آیات سے زمین میں تبدیلی کی جو صورت سامنے آتی ہے وہ یہ ہے کہ زمین میں اس دن کوئی بلندی یا پستی نہیں رہے گی۔
سب پہاڑ زمین بوس کر دیے جائیں گے اور سب کھڈے بھر دیے جائیں گے۔
اسی طرح سطح زمین ہموار اور پہلے سے بہت زیادہ بڑھ جائے گی۔
اور سب سے اہم تبدیلی یہ ہو گی کہ سمندروں، دریاؤں اور ندی نالوں کو خشک کر دیا جائے گا۔
چونکہ سمندر کی سطح کا رقبہ خشکی کے رقبے سے تین گنا زیادہ ہے، اس طرح موجودہ زمین سے تبدیل شدہ زمین کم از کم چار گنا بڑھ جائے گی اور نشیب و فراز کے بجائے تمام زمین ہموار ہو گی۔
(3)
اس نئی زمین اور نئے آسمان کے لیے طبعی قوانین بھی موجودہ قوانین سے الگ ہوں گے اور اسی زمین پر اللہ تعالیٰ کی عدالت قائم ہو گی۔
اعمال تولنے کے لیے میزان بھی اسی زمین پر رکھی جائے گی پھر لوگوں کے اعمال کے مطابق ان کی جزا و سزا کے فیصلے بھی اسی جگہ ہوں گے۔
الحاصل اللہ تعالیٰ اپنی قدرت کاملہ سے زمین کی موجودہ شکل کو تبدیل کر دے گا اور اس میں طعام کی صلاحیت پیدا کر کے اسے روٹی بنا دیا جائے گا تاکہ محشر کے طویل زمانہ میں اہل ایمان اپنے قدموں کے نیچے سے کھائیں اور انہیں اتنی طویل مدت تک بھوکا رہنے سے تکلیف نہ ہو، سالن کے طور پر بیل کی کلیجی اور مچھلی کے ٹکڑے مہیا کیے جائیں گے۔
واللہ المستعان
درج بالا اقتباس هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 6521 سے ماخوذ ہے۔