صحيح مسلم
كتاب صفة القيامة والجنة والنار— قیامت اور جنت اور جہنم کے احوال
باب ابْتِدَاءِ الْخَلْقِ وَخَلْقِ آدَمَ عَلَيْهِ السَّلاَمُ: باب: مخلوق اور آدم علیہ السلام کی ابتداء کے بیان میں۔
حَدَّثَنِي سُرَيْجُ بْنُ يُونُسَ ، وَهَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَا : حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، قَالَ : قَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ : أَخْبَرَنِي إِسْمَاعِيلُ بْنُ أُمَيَّةَ ، عَنْ أَيُّوبَ بْنِ خَالِدٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ رَافِعٍ مَوْلَى أُمِّ سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : أَخَذَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِيَدِي ، فَقَالَ : " خَلَقَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ التُّرْبَةَ يَوْمَ السَّبْتِ ، وَخَلَقَ فِيهَا الْجِبَالَ يَوْمَ الْأَحَدِ ، وَخَلَقَ الشَّجَرَ يَوْمَ الِاثْنَيْنِ ، وَخَلَقَ الْمَكْرُوهَ يَوْمَ الثُّلَاثَاءِ ، وَخَلَقَ النُّورَ يَوْمَ الْأَرْبِعَاءِ ، وَبَثَّ فِيهَا الدَّوَابَّ يَوْمَ الْخَمِيسِ ، وَخَلَقَ آدَمَ عَلَيْهِ السَّلَام بَعْدَ الْعَصْرِ مِنْ يَوْمِ الْجُمُعَةِ فِي آخِرِ الْخَلْقِ فِي آخِرِ سَاعَةٍ مِنْ سَاعَاتِ الْجُمُعَةِ ، فِيمَا بَيْنَ الْعَصْرِ إِلَى اللَّيْلِ " ، قَالَ إِبْرَاهِيمُ : حَدَّثَنَا الْبِسْطَامِيُّ وَهُوَ الْحُسَيْنُ بْنُ عِيسَى ، وَسَهْلُ بْنُ عَمَّارٍ ، وَإِبْرَاهِيمُ ابْنُ بِنْتِ حَفْصٍ ، وَغَيْرُهُمْ عَنْ حَجَّاجٍ بِهَذَا الْحَدِيثِ .سریج بن یونس اور ہارون بن عبداللہ نے مجھے حدیث بیان کی، دونوں نے کہا: ہمیں حجاج بن محمد نے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا: ابن جریج نے کہا: مجھے اسماعیل بن امیہ نے ایوب بن خالد سے حدیث بیان کی۔ انہوں نے ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے آزاد کردہ غلام عبداللہ بن رافع سے اور انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرا ہاتھ پکڑا، پھر فرمایا: ”اللہ عزوجل نے مٹی (زمین) کو ہفتے کے دن پیدا کیا اور اس میں پہاڑوں کو اتوار کے دن پیدا کیا اور درختوں کو پیر کے دن پیدا کیا اور ناپسندیدہ چیزوں کو منگل کے دن پیدا کیا اور نور کو بدھ کے دن پیدا کیا اور اس میں چوپایوں کو جمعرات کے دن پھیلا دیا اور سب مخلوقات کے آخر میں آدم علیہ السلام کو جمعہ کے دن عصر کے بعد سے لے کر رات تک کے درمیان جمعہ (کے دن کی آخری ساعتوں میں سے کسی ساعت میں) پیدا فرمایا۔“ جلودی نے ہمیں حدیث بیان کی، کہا: ہمیں امام مسلم رحمہ اللہ کے شاگرد ابراہیم نے حدیث بیان کی، کہا: ہمیں حسین بن علی بسطامی، سہل بن عمار، حفص کے نواسے ابراہیم اور دوسروں نے حجاج سے یہی حدیث بیان کی۔
تشریح، فوائد و مسائل
اور سمندروں کو بھی پیدا کیا اور حضرت آدم علیہ السلام کی تخلیق، کائنات کی تخلیق کے فورا بعد نہیں ہوئی، بلکہ آسمان وزمین کی پیدائش کےبعدکسی اورجمعہ کے دن ہوئی ہے، اس لیے یہ حدیث ان قرآنی آیات کے منافی نہیں ہے، جن میں یہ بیان کیا گیا ہے کہ آسمان وزمین اور وَمَا بَيْنَهُمَا کی تخلیق چھ دن میں ہوئی ہے۔
قرآن مجید سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ زمین اور زمینی اشیاء چار دن میں پیدا کی گئی ہیں اور پھر دودن میں آسمان اور اس کی اشیاء پیدا کی گئی ہیں۔
(سورہ حم السجدہ: 1، 2)
اور اس آیت سے معلوم ہوتا ہے یہ دونوں زمینی اشیاء بھی پیدا کی گئی ہیں۔