صحيح مسلم
كتاب صفة القيامة والجنة والنار— قیامت اور جنت اور جہنم کے احوال
باب صِفَّةِ الْقِيَامَةِ وَالْجَنَّةِ وَالنَّارِ باب: قیامت اور جنت اور دوزخ کا بیان۔
وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، عَنْ عُمَرَ بْنِ حَمْزَةَ ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، أَخْبَرَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " يَطْوِي اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ السَّمَاوَاتِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ، ثُمَّ يَأْخُذُهُنَّ بِيَدِهِ الْيُمْنَى ، ثُمَّ يَقُولُ : أَنَا الْمَلِكُ أَيْنَ الْجَبَّارُونَ أَيْنَ الْمُتَكَبِّرُونَ ، ثُمَّ يَطْوِي الْأَرَضِينَ بِشِمَالِهِ ، ثُمَّ يَقُولُ : أَنَا الْمَلِكُ أَيْنَ الْجَبَّارُونَ أَيْنَ الْمُتَكَبِّرُونَ " .سالم بن عبداللہ نے کہا: مجھے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے خبر دی، کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ عزوجل قیامت کے دن آسمانوں کو لپیٹے گا، پھر ان کو دائیں ہاتھ سے پکڑ لے گا اور فرمائے گا: ”بادشاہ میں ہوں۔ (آج دوسروں پر) جبر کرنے والے کہاں ہیں؟ تکبر کرنے والے کہاں ہیں؟“ پھر بائیں ہاتھ سے زمین کو لپیٹ لے گا، پھر فرمائے گا: ”بادشاہ میں ہوں، (آج) جبر کرنے والے کہاں ہیں؟ تکبر کرنے والے کہاں ہیں؟““
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، حَدَّثَنِي أَبُو حَازِمٍ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ مِقْسَمٍ ، أَنَّهُ نَظَرَ إِلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، كَيْفَ يَحْكِي رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ ، قَالَ : " يَأْخُذُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ سَمَاوَاتِهِ وَأَرَضِيهِ بِيَدَيْهِ ، فَيَقُولُ : أَنَا اللَّهُ وَيَقْبِضُ أَصَابِعَهُ وَيَبْسُطُهَا ، أَنَا الْمَلِكُ حَتَّى نَظَرْتُ إِلَى الْمِنْبَرِ يَتَحَرَّكُ مِنْ أَسْفَلِ شَيْءٍ مِنْهُ حَتَّى إِنِّي لَأَقُولُ أَسَاقِطٌ هُوَ بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " ،یعقوب بن عبدالرحمان نے کہا: مجھے ابوحازم نے عبیداللہ بن مقسم سے حدیث بیان کی، انہوں نے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کی طرف دیکھا کہ وہ (حدیث بیان کرتے ہوئے عملاً) کس طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرح کر کے دکھاتے ہیں۔ (ابن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے) فرمایا: ”اللہ عزوجل اپنے آسمانوں اور اپنی زمینوں کو اپنے دونوں ہاتھوں سے پکڑ لے گا پھر فرمائے گا: ”میں اللہ، میں بادشاہ ہوں۔““ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی انگلیوں کو بند کرتے تھے اور کھولتے تھے۔ حتیٰ کہ میں نے منبر کو دیکھا، وہ اپنے نچلے حصے سے (لے کر اوپر کے حصے تک) ہل رہا تھا۔ یہاں تک کہ میں نے کہا: کیا وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو لے کر گر جائے گا؟
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَبِي حَازِمٍ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ مِقْسَمٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، قَالَ : رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الْمِنْبَرِ ، وَهُوَ يَقُولُ : يَأْخُذُ الْجَبَّارُ عَزَّ وَجَلَّ سَمَاوَاتِهِ وَأَرَضِيهِ بِيَدَيْهِ ثُمَّ ذَكَرَ نَحْوَ حَدِيثِ يَعْقُوبَ .عبدالعزیز بن ابی حازم نے کہا: مجھے میرے والد نے عبیداللہ بن مقسم سے حدیث بیان کی، انہوں نے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کی، کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو منبر پر دیکھا جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرما رہے تھے: ”(اللہ) جبار عزوجل اپنے آسمانوں اور اپنی زمینوں کو اپنے ہاتھوں میں پکڑ لے گا۔“ پھر یعقوب کی حدیث کی طرح بیان کیا۔
تشریح، فوائد و مسائل
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” قیامت کے روز اللہ آسمانوں کو لپیٹ دے گا، پھر انہیں اپنے دائیں ہاتھ میں لے لے گا، اور کہے گا: میں ہوں بادشاہ، کہاں ہیں ظلم و قہر کرنے والے؟ کہاں ہیں تکبر اور گھمنڈ کرنے والے؟ پھر زمینوں کو لپیٹے گا، پھر انہیں اپنے دوسرے ہاتھ میں لے لے گا، پھر کہے گا: میں ہوں بادشاہ، کہاں ہیں ظلم و قہر کرنے والے؟ کہاں ہیں اترانے والے؟۔“ [سنن ابي داود/كتاب السنة /حدیث: 4732]
1: اللہ عزوجل کی صفات میں وارد الفاظ واضح اور صریح ہیں، ہم انہیں اپنے رب تعالی کے حق میں بلا جھجک استعمال کرسکتے ہیں اور کرتے ہیں، لیکن ان کی حقیقت کا ہمیں کوئی ادراک نہیں کیونکہ (لَیسَ کمثلهِ شيءٌ وھو السمیعُ البصیرُ) (الشوری)
2:اللہ کے دو ہاتھ ہیں اور دونوں ہی داہنے ہیں اور اللہ تعالی کلام کرنے سے موصوف ہے۔
3: حقیقی بادشاہ تو اب بھی اللہ عزوجل ہی ہے، مگر دنیا میں نام کے بادشاہ موجود ہیں اور ان میں جبار اور متکبر بھی ہیں، لیکن محشر میں کسی کا کوئی وجود نہیں ہو گا اور بادشاہت صرف ایک اکیلے اللہ کی ہوگی۔
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو منبر پر فرماتے سنا: ” جبار (اللہ) آسمانوں اور زمینوں کو اپنے ہاتھ میں لے گا، (آپ نے مٹھی بند کی پھر اس کو بند کرنے اور کھولنے لگے) پھر فرمائے گا: میں جبار ہوں، میں بادشاہ ہوں، کہاں ہیں دوسرے جبار؟ کہاں ہیں دوسرے متکبر؟ یہ کہہ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دائیں اور بائیں جھک رہے تھے، یہاں تک کہ میں نے دیکھا کہ منبر کچھ نیچے سے ہل رہا تھا، حتیٰ کہ میں کہنے لگا کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو لے کر گر نہ پڑے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الزهد/حدیث: 4275]
فوائد و مسائل:
(1)
اللہ کا ہاتھ ا س کی صفت ہے۔
جیسے اس کی شان کے لائق ہے۔
اس کی تاویل کرنا بھی درست نہیں اور انسانی ہاتھ سے تشبیہ دینا بھی درست نہیں۔
(2)
اللہ کا کلام کرنا بھی اس کی صفت ہے اللہ تعالیٰ جب چاہتا ہے کلام فرماتا ہے۔
اور جس مخلوق سے کلام فرماتا ہے۔
انھیں آواز سنائی دیتی ہے۔
جیسے فرشتوں سے کلام فرماتا ہے۔
یا موسیٰ علیہ السلام سے کلام فرمایا ہے۔
یاقیامت کے دن بندوں سے کلام فرمائے گا۔
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو منبر پر فرماتے ہوئے سنا: ” «جبار» (اللہ تعالیٰ) آسمانوں اور زمین کو اپنے ہاتھ میں لے لے گا (آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی مٹھی بند کی اور پھر اسے باربار بند کرنے اور کھولنے لگے) اور فرمائے گا: میں «جبار» ہوں، کہاں ہیں «جبار» اور کہاں ہیں تکبر (گھمنڈ) کرنے والے؟ “، عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دائیں اور بائیں جھکنے لگے یہاں تک کہ میں نے منبر کو دیکھا کہ نیچے سے ہلتا تھا، مجھے خطرہ محسوس ہوا کہ وہ کہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن ابن ماجه/(أبواب كتاب السنة)/حدیث: 198]
اس حدیث سے بھی اللہ تعالیٰ کے ہاتھ کا ثبوت ملتا ہے۔
ہاتھ سے مراد قدرت لینا باطل ہے کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی مٹھی بند کر کے بات کو واضح فرما دیا ہے، پھر صحابہ کرام رضی اللہ عنھم کو ذرہ بھر تعجب نہ ہوا، ورنہ خلاف عقل بات سمجھ کر ضرور سوال کرتے۔
اس سے معلوم ہوا کہ صحابہ کرام ؓ بھی اللہ تعالیٰ کی صفات کو من و عن تسلیم کرتے تھے۔
كَمَا يَلِيقُ بِجَلَالِه. اس سے اللہ تعالیٰ کی عظمت اور کبریائی کا پتہ چلتا ہے کہ اتنی عظیم اور وسیع مخلوق اللہ تعالیٰ کے لیے ایک معمولی ذرے کی طرح ہے۔
(3)
وعظ میں مناسب موقع پر جوش یا غضب کا اظہار جائز ہے۔
(4)
تکبر(بڑائی کا اظہار)
بہت بڑی خصلت ہے جو انسان جیسی ضعیف اور حقیر مخلوق کے لائق نہیں، البتہ اللہ تعالیٰ کی عظمت اور شان ہی اس لائق ہے کہ وہ تکبر یعنی بڑائی اور عظمت کے اظہار کی صفت سے متصف ہ۔
اس حدیث کے مضمون کی مزید وضاحت ملاحظہ فرمائیں: ارشاد باری تعالی ہے: «وَمَا قَدَرُوا اللهَ حَقَّ قَدْرِهِ وَالْأَرْضُ جَمِيعًا قَبْضَتُهُ يَوْمَ الْقِيمَةِ وَالسَّموتُ مَطويات بِيَهِينِهِ سُبْحَنَهُ وَتَعَلَى عَمَّا يُشْرِكُونَ» [سوره زمر: 67]
یعنی: ”اور ان لوگوں نے جیسی قدر اللہ تعالی کی کرنی چاہیے تھی، اس طرح نہیں کی، حالانکہ ساری زمین قیامت کے دن اللہ تعالی کی مٹھی میں ہو گی اور تمام آسمان اس کے داہنے ہاتھ میں لپٹے ہوئے ہوں گے، وہ پاک اور برتر ہے ہر اس چیز سے جسے لوگ اس کا شریک بنائیں۔“
سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک یہودی عالم، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور کہا: ہم اللہ تعالی کی بابت (اپنے مذہبی ادب میں) یہ بات پاتے ہیں کہ وہ روزِ قیامت آسمانوں کو ایک انگلی پر، زمینوں کو ایک انگلی پر، درختوں کو ایک انگلی پر، پانی اور تری کو ایک انگلی پر اور تمام دوسری مخلوقات کو ایک انگلی پر رکھ لے گا اور فرمائے گا: میں بادشاہ ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کی تصدیق کرتے ہوئے مسکرا پڑے، حتی کہ آپ کی داڑھیں نظر آنے لگیں، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت «وَمَا قَدَرُوا اللهَ حَقَّ قَدره» (جو اوپر مذکور ہے) تلاوت کی۔ [بخاري: 4811] سیدنا ابو هریره رضی اللہ عنہ کی روایت کے مطابق اللہ تعالی اس وقت کہے گا: «انا الملك، اين ملوك الارض» یعنی: ”میں بادشاہ ہوں، زمین والے بادشاہ کہاں ہیں۔“ [بخاري: 4812]
یہ اللہ تعالی کی طاقت و قدرت اور عظمت و جلالت کا ایک انداز ہے۔
سلف صالحین کا یہ عقیدہ ہے کہ قرآن و حدیث میں اللہ تعالی کی جن صفات کا تذکرہ کیا گیا ہے، ان پر بلا کیف و تشبیہ اور بغیر تاویل و تحریف کے ایمان رکھنا ضرور کی ہے۔ مثلا درج بالا آیت و احادیث میں اللہ تعالی کے دو ہاتھوں، انگلیوں، انگلیوں کو کھولنے اور بند کرنے اور کلام کرنے کا ذکر ہے، یہ اللہ تعالی کی حقیقی صفات ہیں، جیسے اس کے شان و جلال کے لائق ہیں۔
بندوں کو یہی زیب دیتا ہے کہ ایسے قدیر و مقتدر بادشاہ کی الوہیت و ربوبیت کو تسلیم کر کے اس کے سامنے سرتسلیم خم کر دیں اور اس کی ذات اور اس کی ہر صفت میں اس کو یکتا و یگانہ اور لاثانی و بے مثال سمجھیں اور اس کے ہر حکم کو برحق تسلیم کر کے اس پر عمل کرنے کے تقاضے پورے کریں، اسی کو توحید کہتے ہیں، جس کے فروغ کے لیے کائنات کا وسیع و عریض نظام تشکیل دیا گیا۔