صحيح مسلم
كتاب صفات المنافقين وأحكامهم— منافقین کی صفات اور ان کے بارے میں احکام
باب صِفَّاتِ الْمُنَافِقِينَ وَأَحْكَامِهِمْ باب: منافقین کی صفات اور ان کے بارے میں احکام۔
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي . ح وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، قَالَا : حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ . ح وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى وَاللَّفْظُ لَهُ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ يَعْنِي الثَّقَفِيَّ ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " مَثَلُ الْمُنَافِقِ كَمَثَلِ الشَّاةِ الْعَائِرَةِ بَيْنَ الْغَنَمَيْنِ تَعِيرُ إِلَى هَذِهِ مَرَّةً وَإِلَى هَذِهِ مَرَّةً " ،عبیداللہ نے نافع سے، انہوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے اور انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”منافق کی مثال اس بکری کی طرح ہے جو بکریوں کے دو ریوڑوں کے درمیان ممیاتی ہوئی بھاگتی پھرتی ہے کبھی بھاگ کر اس ریوڑ میں جاتی ہے اور کبھی اس طرف جاتی ہے (کسی بھی ایک ریوڑ کا حصہ نہیں ہوتی)۔“
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْقَارِيَّ ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِهِ ، غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ : تَكِرُّ فِي هَذِهِ مَرَّةً وَفِي هَذِهِ مَرَّةً .موسیٰ بن عقبہ نے نافع سے، انہوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے اور انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی کے مانند روایت کی، مگر انہوں نے کہا: ”پلٹ کر ایک بار اس (ریوڑ) میں آتی ہے اور دوسری بار اس میں۔“
تشریح، فوائد و مسائل
العائرة: حیران وپریشان ہو کر ادھر ادھر گھومنے والی، جس کو پتہ ہی نہیں، میرا ریوڑ کون ساہے، مجھے کس کے ساتھ جانا ہے، یہی حالت منافق کی ہے، نہ وہ کافروں کےساتھ کھڑا ہوتا ہے اور نہ ہی مسلمانوں کا ساتھ اختیار کرتا ہے، تعير: آتی جاتی ہے، گھومتی پھرتی ہے۔
«. . . وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «مثل الْمُنَافِق كَمثل الشَّاة الْعَائِرَةِ بَيْنَ الْغُنْمَيْنِ تَعِيرُ إِلَى هَذِهِ مَرَّةً وَإِلَى هَذِه مرّة» . رَوَاهُ مُسلم . . .»
”. . . سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے وہ بیان کرتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”منافق کی مثال اس بکری کی طرح ہے جو نر کی تلاش میں دو ریوڑوں کے درمیان بھاگی پھرتی ہے، کبھی اس ریوڑ اور کبھی اُس ریوڑ کی طرف جاتی ہے۔“ [مسلم] . . .“ [مشكوة المصابيح/كِتَاب الْإِيمَانِ/0: 57]
فقہ الحدیث:
➊ عملی نفاق کبیرہ گناہوں میں سے ہے جب کہ اعتقادی نفاق کفر ہے۔
➋ دو کشتیوں پر بیک وقت پاؤں رکھنے والا بالآخر ڈوب جاتا ہے۔ اسے اس کا دوغلا پن ذرہ بھی فائدہ نہیں پہنچاتا۔
➌ منافقین اصل میں حیوانات سے بھی بدتر ہیں۔