صحيح مسلم
كتاب صفات المنافقين وأحكامهم— منافقین کی صفات اور ان کے بارے میں احکام
باب صِفَّاتِ الْمُنَافِقِينَ وَأَحْكَامِهِمْ باب: منافقین کی صفات اور ان کے بارے میں احکام۔
حدیث نمبر: 2782
حَدَّثَنِي أَبُو كُرَيْبٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ ، حَدَّثَنَا حَفْصٌ يَعْنِي ابْنَ غِيَاثٍ ، عَنْ الْأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ ، عَنْ جَابِرٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدِمَ مِنْ سَفَرٍ ، فَلَمَّا كَانَ قُرْبَ الْمَدِينَةِ هَاجَتْ رِيحٌ شَدِيدَةٌ تَكَادُ أَنْ تَدْفِنَ الرَّاكِبَ ، فَزَعَمَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " بُعِثَتْ هَذِهِ الرِّيحُ لِمَوْتِ مُنَافِقٍ " ، فَلَمَّا قَدِمَ الْمَدِينَةَ فَإِذَا مُنَافِقٌ عَظِيمٌ مِنَ الْمُنَافِقِينَ قَدْ مَاتَ " .حضرت جابر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک سفر سے واپس آئے، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ منورہ کے قریب تھے تو اتنے زور کی آندھی چلی کہ قریب تھا وہ سوار کو بھی (ریت میں) دفن کر دے گی۔ تو وہ (جابر رضی اللہ عنہما) یقین سے کہتے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ آندھی کسی منافق کی موت کے لیے بھیجی گئی ہے۔“ جب آپ مدینہ منورہ تشریف لے آئے تو منافقوں میں سے ایک بہت بڑا منافق مر چکا تھا۔