صحيح مسلم
كتاب صفات المنافقين وأحكامهم— منافقین کی صفات اور ان کے بارے میں احکام
باب صِفَّاتِ الْمُنَافِقِينَ وَأَحْكَامِهِمْ باب: منافقین کی صفات اور ان کے بارے میں احکام۔
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ وَهُوَ ابْنُ الْمُغِيرَةِ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : " كَانَ مِنَّا رَجُلٌ مِنْ بَنِي النَّجَّارِ قَدْ قَرَأَ الْبَقَرَةَ وَآلَ عِمْرَانَ ، وَكَانَ يَكْتُبُ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَانْطَلَقَ هَارِبًا حَتَّى لَحِقَ بِأَهْلِ الْكِتَابِ ، قَالَ : فَرَفَعُوهُ ، قَالُوا : هَذَا قَدْ كَانَ يَكْتُبُ لِمُحَمَّدٍ ، فَأُعْجِبُوا بِهِ فَمَا لَبِثَ أَنْ قَصَمَ اللَّهُ عُنُقَهُ فِيهِمْ ، فَحَفَرُوا لَهُ فَوَارَوْهُ ، فَأَصْبَحَتِ الْأَرْضُ قَدْ نَبَذَتْهُ عَلَى وَجْهِهَا ، ثُمَّ عَادُوا فَحَفَرُوا لَهُ فَوَارَوْهُ ، فَأَصْبَحَتِ الْأَرْضُ قَدْ نَبَذَتْهُ عَلَى وَجْهِهَا ، ثُمَّ عَادُوا فَحَفَرُوا لَهُ فَوَارَوْهُ ، فَأَصْبَحَتِ الْأَرْضُ قَدْ نَبَذَتْهُ عَلَى وَجْهِهَا فَتَرَكُوهُ مَنْبُوذًا " .حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، کہا: ہم بنو نجار میں سے ایک شخص تھا، اس نے سورہ بقرہ اور سورہ آل عمران پڑھی (یاد کی) ہوئی تھی اور وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے کتابت کیا کرتا تھا، وہ بھاگ کر چلا گیا اور اہل کتاب کے ساتھ شامل ہو گیا، انہوں نے اس کو بہت اونچا اٹھایا اور کہا: یہ ہے جو محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے کتابت کرتا تھا وہ اس کے آنے سے بہت خوش ہوئے، تھوڑے ہی دن گزرے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے بیچ میں (ہوتے ہوئے) اس کی گردن توڑ دی۔ انہوں نے اس کے لیے قبر کھودی اور اسے دفن کر دیا۔ صبح ہوئی تو زمین نے اسے اپنی سطح کے اوپر پھینک دیا تھا۔ انہوں نے دوبارہ وہی کیا، اس کی قبر کھودی اور اسے دفن کر دیا۔ پھر صبح ہوئی تو زمین نے اسے باہر پھینک دیا تھا، انہوں نے پھر (تیسری بار) اسی طرح کیا، اس کے لیے قبر کھودی اور اسے دفن کر دیا، صبح کو زمین نے اسے باہر پھینک دیا ہوا تھا تو انہوں نے اسے اسی طرح پھینکا ہوا چھوڑ دیا۔
تشریح، فوائد و مسائل
آج بھی گستاخان رسول کو ایسی ہی سزائیں ملتی رہتی ہیں۔
لوکانوا یعلمون۔
1۔
یہ اللہ تعالیٰ کی ایک نشانی تھی جو اس نے نصرانی کے مرتد ہونے پر لوگوں کو دکھائی کہ زمین نے اسے بار بار باہر پھینکا تاکہ دیکھنے والے عبرت حاصل کریں کہ مرتد کا یہ حال ہوتا ہے کہ اسے زمین بھی اپنے اندر جگہ نہیں دیتی۔
2۔
یہ حدیث رسول اللہ ﷺ کی صداقت اور آپ کی نبوت کی دلیل ہے۔
آج بھی گستاخان رسول کو ایسی سزائیں ملتی رہتی ہیں۔
ایک روایت کے مطابق حضرت انس ؓ فرماتے ہیں۔
وہ ہمارے بنو نجار قبیلے سے تھا۔
جب وہ مرتد ہوا۔
تو لوگوں نے اس بات کو بہت اچھالا کہ یہ تو کاتب وحی تھا بالآخر اپنے حواریوں میں رہتے ہوئے اچانک گردن ٹوٹنے سے اس کی موت واقع ہوئی تو اس کے ساتھ مذکورہ واقعہ پیش آیا کہ اسے زمین نے قبول نہ کیا۔
(صحیح مسلم، صفات المنافقین، حدیث: 7040(2781)
3۔
بعض شارحین نے صحیح مسلم کے حوالے سے اس مرتد کا نام عبد اللہ بن سعد بن ابی سرح لکھا ہے لیکن صحیح مسلم میں مجھے اس کی صراحت نہیں مل سکی۔
واللہ أعلم۔