صحيح مسلم
كتاب صفات المنافقين وأحكامهم— منافقین کی صفات اور ان کے بارے میں احکام
باب صِفَّاتِ الْمُنَافِقِينَ وَأَحْكَامِهِمْ باب: منافقین کی صفات اور ان کے بارے میں احکام۔
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ الْعَنْبَرِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَدِيٍّ وَهُوَ ابْنُ ثَابِتٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ يَزِيدَ يُحَدِّثُ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ " أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَرَجَ إِلَى أُحُدٍ ، فَرَجَعَ نَاسٌ مِمَّنْ كَانَ مَعَهُ ، فَكَانَ أَصْحَابُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيهِمْ فِرْقَتَيْنِ ، قَالَ بَعْضُهُمْ : نَقْتُلُهُمْ ، وَقَالَ بَعْضُهُمْ : لَا ، فَنَزَلَتْ فَمَا لَكُمْ فِي الْمُنَافِقِينَ فِئَتَيْنِ سورة النساء آية 88 " ،معاذ عنبری نے کہا: ہمیں شعبہ نے عدی بن ثابت سے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا: میں نے عبداللہ بن یزید کو حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ سے حدیث بیان کرتے ہوئے سنا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم (جنگ کے لیے) احد کی جانب روانہ ہوئے۔ جو لوگ آپ کے ساتھ تھے ان میں سے کچھ واپس آ گئے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ ان کے بارے میں دو حصوں میں تقسیم ہو گئے۔ بعض نے کہا: ہم انہیں قتل کر دیں اور بعض نے کہا: نہیں۔ تو (یہ آیت) نازل ہوئی: «فَمَا لَكُمْ فِي الْمُنَافِقِينَ فِئَتَيْنِ» ”تمہیں کیا ہو گیا ہے کہ منافقین کے بارے میں تم دو گروہ بن گئے ہو۔“
وحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ . ح وحَدَّثَنِي أَبُو بَكْرِ بْنُ نَافِعٍ ، حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ كِلَاهُمَا ، عَنْ شُعْبَةَ بِهَذَا الْإِسْنَادِ نَحْوَهُ .یحییٰ بن سعید اور غندر دونوں نے شعبہ سے اسی سند کے ساتھ اسی کے مانند روایت کی۔
تشریح، فوائد و مسائل
بعضوں نے کہا یہ آیت اس وقت اتری جب آنحضرت ﷺ نے منبر پر فرمایا تھا کہ یہ بدلہ اس شخص سے کون لیتا ہے جس نے میری بیوی (حضرت عائشہ ؓ)
کو بد نام کر کے مجھے ایذا دی۔
1۔
غزوہ احد کے موقع پر منافقین کی دو قسمیں سامنے آئیں۔
ایک قسم وہ تھی جس کا نفاق کھل کر اس وقت سامنے آیا جب عبد اللہ بن ابی رئیس المنافقین لڑائی شروع ہونے سے پہلے ہی راستے سے مدینہ طیبہ واپس آگیا۔
اور دوسری قسم وہ تھی جو لڑائی شروع ہونے کے بعد شکست کے وقت بھاگ کر مدینہ طیبہ آگئے ان میں مسلمان بھی تھے انھی کے متعلق اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ’’بلا شبہ اللہ تعالیٰ نے انھیں معاف کردیا ہے۔
‘‘ (آل عمران: 155)
2۔
مذکورہ حدیث میں منافقین کی وہ قسم مراد ہے جو راستے ہی میں رسول اللہ ﷺ کو چھوڑ کر مدینہ طیبہ بھٹی کی طرح ہے۔
وہ مدینہ چھوڑ جائیں گے یا مدینہ ان کے خبث کو دور کردے گا چنانچہ ایسا ہی ہوا کچھ تو راہ راست پر آگئے اور کچھ مختلف روحانی و جسمانی بیماروں میں مبتلا ہو کر خاک میں مل گئے۔
واللہ اعلم۔