صحيح مسلم
كتاب التوبة— توبہ کا بیان
باب فِي سِعَةِ رَحْمَةِ اللهِ تَعَالٰي عَلَي الْمُؤْمِنِينَ ، وَفِدَاءِ كُلِّ مُسْلِمِ بِكَافِرٍ مِّنَ النَّارِ باب: مومنوں پر اللہ کی رحمت کی وسعت اور دوزخ سے نجات کے لیے ہر مسلمان کے عوض ایک کافر کا فدیہ۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، عَنْ طَلْحَةَ بْنِ يَحْيَى ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ ، عَنْ أَبِي مُوسَى ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِذَا كَانَ يَوْمُ الْقِيَامَةِ دَفَعَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ إِلَى كُلِّ مُسْلِمٍ يَهُودِيًّا أَوْ نَصْرَانِيًّا ، فَيَقُولُ : هَذَا فِكَاكُكَ مِنَ النَّارِ " .طلحہ بن یحییٰ نے ابوبردہ سے اور انہوں نے حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب قیامت کا دن ہو گا تو اللہ تعالیٰ (ایک مرحلے پر) ہر مسلمان کو ایک یہودی یا نصرانی عطا کر دے گا، پھر فرمائے گا: یہ جہنم سے تمہارے لیے چھٹکارے کا ذریعہ بنے گا۔“
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا عَفَّانُ بْنُ مُسْلِمٍ ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، أَنَّ عَوْنًا وَسَعِيدَ بْنَ أَبِي بُرْدَةَ حَدَّثَاهُ أَنَّهُمَا شَهِدَا أَبَا بُرْدَةَ يُحَدِّثُ عُمَرَ بْنَ عَبْدِ الْعَزِيزِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " لَا يَمُوتُ رَجُلٌ مُسْلِمٌ إِلَّا أَدْخَلَ اللَّهُ مَكَانَهُ النَّارَ يَهُودِيًّا أَوْ نَصْرَانِيًّا " ، قَالَ : فَاسْتَحْلَفَهُ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ بِاللَّهِ الَّذِي لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ ، أَنَّ أَبَاهُ حَدَّثَهُ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : فَحَلَفَ لَهُ ، قَالَ : فَلَمْ يُحَدِّثْنِي سَعِيدٌ أَنَّهُ اسْتَحْلَفَهُ ، وَلَمْ يُنْكِرْ عَلَى عَوْنٍ قَوْلَهُ ،عون اور سعید بن ابی بردہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ہماری موجودگی میں ابو بردہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے حضرت عمر بن عبدالعز یز کو اپنے باپ سے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث سنائی کہ آپ نے فرمایا:"جو مسلمان بھی فوت ہوتا ہے، اللہ اس کی جگہ،دوزخ میں کسی یہودی یا نصرانی کو بھیج دیتا ہے۔"تو حضرت عمر بن عبدالعزیز نے ان سے (ابو بردہ سے) تین دفعہ یہ قسم لی کہ اس اللہ کی قسم!جس کے سوا کوئی لائق بندگی نہیں ہے، مجھے میرے باپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ حدیث سنائی ہے، ابو بردہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے انہیں قسم دے دی قتادہ کہتے ہیں سعید نے قسم لینے کا تذکرہ نہیں کیا لیکن عون کے اس قول کا انکار بھی نہیں کیا۔
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى جميعا ، عَنْ عَبْدِ الصَّمَدِ بْنِ عَبْدِ الْوَارِثِ ، أَخْبَرَنَا هَمَّامٌ ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ بِهَذَا الْإِسْنَادِ نَحْوَ حَدِيثِ عَفَّانَ ، وَقَالَ عَوْنُ بْنُ عُتْبَةَ .عبدالصمد بن عبدالوارث سے روایت ہے، کہا: ہمیں ہمام نے خبر دی، انہوں نے کہا: ہمیں قتادہ نے اسی سند کے ساتھ عفان کی حدیث کے مانند حدیث بیان کی اور (عون بن عبداللہ کی نسبت اس کے دادا کی طرف کرتے ہوئے) کہا: عون بن عتبہ۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ عَبَّادِ بْنِ جَبَلَةَ بْنِ أَبِي رَوَّادٍ ، حَدَّثَنَا حَرَمِيُّ بْنُ عُمَارَةَ ، حَدَّثَنَا شَدَّادٌ أَبُو طَلْحَةَ الرَّاسِبِيُّ ، عَنْ غَيْلَانَ بْنِ جَرِيرٍ ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " يَجِيءُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ نَاسٌ مِنَ الْمُسْلِمِينَ بِذُنُوبٍ أَمْثَالِ الْجِبَالِ ، فَيَغْفِرُهَا اللَّهُ لَهُمْ ، وَيَضَعُهَا عَلَى الْيَهُودِ وَالنَّصَارَى فِيمَا أَحْسِبُ أَنَا " ، قَالَ أَبُو رَوْحٍ : لَا أَدْرِي مِمَّنْ الشَّكُّ ، قَالَ أَبُو بُرْدَةَ : فَحَدَّثْتُ بِهِ عُمَرَ بْنَ عَبْدِ الْعَزِيزِ ، فَقَالَ : أَبُوكَ حَدَّثَكَ هَذَا عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ ، قُلْتُ : نَعَمْ .حضرت ابو بردہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ اپنے باپ (ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ تعالیٰ عنہ)سے روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:" قیامت کے دن کچھ مسلمان پہاڑوں جتنے گناہ لے کر آئیں گے تو اللہ تعالیٰ انہیں بخش دے گا اور انہیں یہودو نصاریٰ پر رکھ دے گا۔"میرے خیال میں انھوں نے یہی کہا:ابو روح نے کہا مجھے معلوم نہیں، یہ شک کس کو ہے ابو بردہ کہتے ہیں میں نے یہ حدیث عمر بن عبدالعزیز کو سنائی تو انھوں نے کہا، کیا تیرے باپ نے تجھے یہ روایت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنائی تھی؟ میں نے کہا: جی ہاں۔
تشریح، فوائد و مسائل
قرار دیا گیا ہے۔