حدیث نمبر: 2765
حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيُّ ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ وَاللَّفْظُ لِزُهَيْرٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ يُونُسَ ، حَدَّثَنَا عِكْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ ، حَدَّثَنَا شَدَّادٌ ، حَدَّثَنَا أَبُو أُمَامَةَ ، قَالَ : بَيْنَمَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْمَسْجِدِ ، وَنَحْنُ قُعُودٌ مَعَهُ إِذْ جَاءَ رَجُلٌ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنِّي أَصَبْتُ حَدًّا فَأَقِمْهُ عَلَيَّ ، فَسَكَتَ عَنْهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ أَعَادَ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنِّي أَصَبْتُ حَدًّا ، فَأَقِمْهُ عَلَيَّ ، فَسَكَتَ عَنْهُ وَأُقِيمَتِ الصَّلَاةُ ، فَلَمَّا انْصَرَفَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ أَبُو أُمَامَةَ : فَاتَّبَعَ الرَّجُلُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ انْصَرَفَ ، وَاتَّبَعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْظُرُ مَا يَرُدُّ عَلَى الرَّجُلِ ، فَلَحِقَ الرَّجُلُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي أَصَبْتُ حَدًّا فَأَقِمْهُ عَلَيَّ ، قَالَ أَبُو أُمَامَةَ : فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَرَأَيْتَ حِينَ خَرَجْتَ مِنْ بَيْتِكَ أَلَيْسَ قَدْ تَوَضَّأْتَ ، فَأَحْسَنْتَ الْوُضُوءَ ؟ " ، قَالَ : بَلَى ، يَا رَسُولَ اللَّهِ ، قَالَ : " ثُمَّ شَهِدْتَ الصَّلَاةَ مَعَنَا ؟ " ، فَقَالَ : نَعَمْ ، يَا رَسُولَ اللَّهِ ، قَالَ : فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " فَإِنَّ اللَّهَ قَدْ غَفَرَ لَكَ حَدَّكَ أَوَ قَالَ ذَنْبَكَ " .

شداد نے ہمیں حدیث بیان کی، کہا: ہمیں حضرت ابوامامہ رضی اللہ عنہ نے حدیث بیان کی، کہا: ایک بار رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مسجد میں تشریف فرما تھے اور ہم بھی آپ کے پاس بیٹھے ہوئے تھے کہ ایک شخص آیا تو کہنے لگا: اللہ کے رسول! میں نے حد (کے قابل گناہ) کا ارتکاب کر دیا ہے، لہٰذا آپ مجھ پر حد قائم کیجیے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خاموش رہے، اس نے دوبارہ کہا: اللہ کے رسول! میں حد کا مستحق ہو گیا ہوں، آپ مجھ پر حد قائم کیجیے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم خاموش رہے، اس نے تیسری بار (یہی) کہا تو (اس وقت) نماز کی اقامت کہہ دی گئی۔ حضرت ابوامامہ رضی اللہ عنہ نے کہا: جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز سے (فارغ ہو کر) واپس ہوئے تو وہ شخص آپ کے پیچھے چل پڑا، میں (بھی) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے چل پڑا کہ دیکھوں آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کو کیا جواب دیتے ہیں۔ وہ شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے جا ملا اور کہا: اللہ کے رسول! میں نے حد (کے قابل گناہ) کا ارتکاب کیا ہے، آپ مجھ پر حد قائم فرمائیں۔ حضرت ابوامامہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے کہا: ”ذرا دیکھو: جب تم اپنے گھر سے نکلے تھے تو تم نے وضو کیا تھا اور اچھی طرح وضو کیا تھا؟“ اس نے عرض کی: ہاں، اللہ کے رسول! (اچھی طرح وضو کیا تھا۔) فرمایا: ”اس کے بعد تم نے ہمارے ساتھ نماز پڑھی؟“ اس نے عرض کی: جی ہاں، اللہ کے رسول! (حضرت ابوامامہ رضی اللہ عنہ نے) کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے فرمایا: ”تو یقیناً اللہ تعالیٰ نے تمہاری حد۔۔ یا فرمایا۔۔ تمہارے گناہ کو معاف کر دیا ہے۔“

حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب التوبة / حدیث: 2765
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
تخریج حدیث «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : سنن ابي داود: 4381

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ مولانا عبد العزیز علوی
حضرت ابو امامہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے بیان کرتے ہیں، جبکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مسجد میں تشریف فر تھے اور ہم بھی آپ کے ساتھ بیٹھے ہوئے تھے، اس دوران اچانک ایک آدمی آیا اور عرض کیا، اے اللہ کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! میں قابل حد گناہ کا مرتکب ہوا ہوں، لہٰذا آپ مجھ پر حد قائم فرمائیں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو جواب دینے سے خاموشی اختیار کی، اس نے اپنی بات کا پھر اعادہ کیا اور کہا، اے اللہ کے رسول اللہ صلی اللہ... (مکمل حدیث اس نمبر پر دیکھیں) [صحيح مسلم، حديث نمبر:7007]
حدیث حاشیہ: فوائد ومسائل: روایات سے مجموعی طور پر یہی ثابت ہوتا ہے کہ یہاں سے حد سے مراد گناہ ہی ہے، جس کو اس نے اپنی ایمانی پختگی کی وجہ سے بڑا خیال کیا اور آپ نے فرمایا، "وضو اور نماز میں، ایک مسلمان جو اللہ تعالیٰ سے بخشش طلب کرتا ہے، وضو کے بعد اللهم اغفرلی کہتا ہے تو یہی دعا اس کے لیے بخشش کا باعث بن جاتی ہے، کیونکہ یہ دعائیں اگر شعور و احساس کے ساتھ، معنی پر نظر رکھتے ہوئے پڑھی جائیں تو یہ توبہ پر مشتمل ہیں۔
درج بالا اقتباس تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 2765 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابي داود / حدیث: 4381 کی شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی ✍️
´آدمی یہ اعتراف کرے کہ وہ حد کا مستحق ہے لیکن جرم نہ بتائے اس کے حکم کا بیان۔`
ابوامامہ رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور عرض کیا: اللہ کے رسول! میں حد کا مرتکب ہو گیا ہوں تو آپ مجھ پر حد جاری کر دیجئیے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا جس وقت تم آئے تو وضو کیا؟ اس نے کہا: ہاں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس وقت ہم نے نماز پڑھی تم کیا تو نے بھی نماز پڑھی؟ اس نے کہا: ہاں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جاؤ اللہ نے تمہیں معاف کر دیا۔‏‏‏‏ [سنن ابي داود/كتاب الحدود /حدیث: 4381]
فوائد ومسائل:
1) جرم کی صراحت کے بغیر کسی حد کا اقرار کرنے سے کوئی حدلاگو نہیں ہوسکتی۔

2) جب کسی کے دل میں ایمان جاگزیں ہوجاتا ہے اور اسے اپنی آخرت کی فکر ہوتی ہے تو وہ ہر طرح کی کوشش کرتا ہے کہ اس دنیا سے پاک صاف ہوکراللہ کے حضور پیش ہو۔

3) وضو نماز باجماعت اور ہرطرح کے اعمال صالحہ انسان کی چھوٹی موٹی تفصیرات کا کفارہ بنتے رہتے ہیں۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 4381 سے ماخوذ ہے۔