صحيح مسلم
كتاب التوبة— توبہ کا بیان
باب غَيْرَةِ اللَّهِ تَعَالَى وَتَحْرِيمِ الْفَوَاحِشِ: باب: اللہ تعالیٰ کی غیرت کا بیان اور بےحیائی کے کاموں کی ممانعت۔
حَدَّثَنَا عَمْرٌو النَّاقِدُ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ابْنِ عُلَيَّةَ ، عَنْ حَجَّاجِ بْنِ أَبِي عُثْمَانَ ، قَالَ : قَالَ يَحْيَى وَحَدَّثَنِي أَبُو سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ اللَّهَ يَغَارُ وَإِنَّ الْمُؤْمِنَ يَغَارُ وَغَيْرَةُ اللَّهِ أَنْ يَأْتِيَ الْمُؤْمِنُ مَا حَرَّمَ عَلَيْهِ " .حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:"اللہ تعالیٰ غیرت کھاتا ہے اور مومن بھی غیرت کھاتا ہے اور اللہ اس سے غیرت کھاتا ہے کہ اس کا مومن بندہ حرام کردہ امور کا ارتکاب کرے۔"
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ ، حَدَّثَنَا أَبَانُ بْنُ يَزِيدَ ، وَحَرْبُ بْنُ شَدَّادٍ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِ رِوَايَةِ حَجَّاجٍ ، حَدِيثَ أَبِي هُرَيْرَةَ خَاصَّةً ، وَلَمْ يَذْكُرْ حَدِيثَ أَسْمَاءَ .حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نبی اکرم سے بیان کرتے ہیں، پھر حدیث نمبر36 بیان کی، اس کے ساتھ حضرت اسماء رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی روایت بیان نہیں کی۔
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ يَعْنِي ابْنَ مُحَمَّدٍ ، عَنْ الْعَلَاءِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " الْمُؤْمِنُ يَغَارُ وَاللَّهُ أَشَدُّ غَيْرًا " ،عبدالعزیز بن محمد نے علاء سے، انہوں نے اپنے والد (عبدالرحمان) سے اور انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مومن (دوسرے) مومن کے لیے غیرت کرتا ہے (کہ اس کی حرمت پامال نہ کی جائے) اور اللہ تعالیٰ تو غیرت میں اس سے بڑھ کر ہے۔“
وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ : سَمِعْتُ الْعَلَاءَ بِهَذَا الْإِسْنَادِ .شعبہ نے کہا: میں نے علاء کو اسی سند کے ساتھ (یہی حدیث بیان کرتے ہوئے) سنا۔
تشریح، فوائد و مسائل
اہلحدیث اس کو بھی اور صفات ہی کی طرح اپنے ظاہر پر محمول کرتے ہیں اور اس کی تاویل نہیں کرتے اورکہتے ہیں کہ اس کی حقیقت اللہ ہی خوب جانتا ہے۔
(1)
ایک بندۂ مومن کو چاہیے کہ اللہ تعالیٰ کی حرام کی ہوئی چیزوں کا ارتکاب کر کے اس کی غیرت کو چیلنج نہ کرے کیونکہ جب ایسا کرے گا تو اللہ تعالیٰ اسے فوراً تباہ و برباد کر سکتا ہے۔
(2)
بعض لوگ غیرت کی تاویل کرتے ہیں کہ اس سے مراد غضب ہے جو غیرت کو لازم ہے، لیکن ہمارے رجحان کے مطابق اس کی تاویل کرنے کی کوئی ضرورت نہیں بلکہ اسے اپنے حقیقی معنی پر محمول کرنا چاہیے جیسا کہ دوسری صفات میں کہا جاتا ہے۔