حدیث نمبر: 276
وحَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْحَنْظَلِيُّ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا الثَّوْرِيُّ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ قَيْسٍ الْمُلَائِيِّ ، عَنِ الْحَكَمِ بْنِ عُتَيْبَةَ ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُخَيْمِرَةَ ، عَنْ شُرَيْحِ بْنِ هَانِئٍ ، قَالَ : أَتَيْتُ عَائِشَةَ ، أَسْأَلُهَا عَنِ الْمَسْحِ عَلَى الْخُفَّيْنِ ؟ فَقَالَتْ : عَلَيْكَ بِابْنِ أَبِي طَالِبٍ ، فَسَلْهُ ، فَإِنَّهُ كَانَ يُسَافِرُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَسَأَلْنَاهُ ، فَقَالَ : جَعَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ وَلَيَالِيَهُنَّ لِلْمُسَافِرِ ، وَيَوْمًا وَلَيْلَةً لِلْمُقِيمِ " ، قَالَ : وَكَانَ سُفْيَانُ إِذَا ذَكَرَ عَمْرًا أَثْنَى عَلَيْهِ .

عبدالرزاق نے کہا: ہمیں سفیان ثوری نے عمرو بن قیس ملائی سے حدیث سنائی، انہوں نے حکم بن عتیبہ سے، انہوں نے قاسم بن مخیمرہ سے، انہوں نے شریح بن ہانی سے روایت کی، انہوں نے کہا: میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس موزوں پر مسح کے بارے میں پوچھنے کی غرض سے حاضر ہوا تو انہوں نے کہا: ابن ابی طالب کے پاس جاؤ اور ان سے پوچھو کیونکہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سفر کیا کرتے تھے۔ ہم نے ان سے پوچھا تو انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مسافر کے لیے تین دن اور تین راتیں اور مقیم کے لیے ایک دن اور ایک رات (کا وقت) مقرر فرمایا۔ (عبدالرزاق نے) کہا: سفیان (ثوری) جب بھی عمرو (بن قیس ملائی) کا تذکرہ کرتے تو ان کی تعریف کرتے۔

وحَدَّثَنَا إِسْحَاق ، أَخْبَرَنَا زَكَرِيَّاءُ بْنُ عَدِيٍّ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَبِي أُنَيْسَةَ ، عَنِ الْحَكَمِ ، بِهَذَا الإِسْنَادِ مِثْلَهُ .

زید بن ابی انیسہ نے حکم سے مذکورہ سند کے ساتھ اس (سابقہ حدیث) کے مانند حدیث بیان کی۔

وحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنِ الْحَكَمِ ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُخَيْمِرَةَ ، عَنْ شُرَيْحِ بْنِ هَانِئٍ ، قَالَ : سَأَلْتُ عَائِشَةَ عَنِ الْمَسْحِ عَلَى الْخُفَّيْنِ ، فَقَالَتْ : ائْتِ عَلِيًّا ، فَإِنَّهُ أَعْلَمُ بِذَلِكَ مِنِّي ، فَأَتَيْتُ عَلِيًّا فَذَكَرَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، بِمِثْلِهِ .

شریح بن ہانی رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں: کہ میں نے موزوں پر مسح کا مسئلہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا: تو انہوں نے کہا: ”علی رضی اللہ عنہ کے پاس جاؤ! کیونکہ وہ یہ مسئلہ مجھ سے زیادہ جانتے ہیں“ تو میں علی رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا، تو انہوں نے مذکورہ بالا مسئلہ، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان فرمایا۔

حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب الطهارة / حدیث: 276
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
تخریج حدیث «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : سنن نسائي: 128 | سنن نسائي: 129 | سنن ابن ماجه: 552 | سنن دارمي: 737 | بلوغ المرام: 57 | مسند الحميدي: 46

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ مولانا عبد العزیز علوی
شریح بن ہانی  بیان کرتے ہیں کہ میں حضرت عائشہ ؓ کے پاس موزوں پر مسح کے بارے میں پوچھنے کی خاطر حاضر ہوا، تو انہوں نے کہا: علی بن ابی طالب ؓ کے پاس جاؤ! اور ان سے پوچھو، کیونکہ وہ رسول اللہ ﷺ کے ساتھ سفر کیا کرتے تھے۔ ہم نے ان سے پوچھا، تو انہوں نے کہا: رسول اللہ ﷺ نے مسافر کے لیے تین دن رات اور مقیم کے لیے ایک دن رات مقرر فرمایا۔‘‘ عبدالرزاق کہتے ہی: سفیان (ثوری) جب عمرو کا تذکرہ کرتے تو ان کی تعریف کرتے۔ [صحيح مسلم، حديث نمبر:639]
حدیث حاشیہ: فوائد ومسائل:
(1)
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ حضرت عائشہ ؓ حضرت علی ؓ کا نام لینے یا ان کا ذکر خیر کرنے میں کوئی انقباض محسوس نہیں کرتی تھیں، اس لیے نبی اکرم ﷺ کی مرض الموت میں جو دو آدمی آپ کو مسجد میں سہارا د ے کر لے گئے، ان میں سے ایک کا نام لینا اوردوسرے کا نام نہ لینا اس بناء پر نہیں تھا کہ آپ اس کا نام لینا پسند نہیں کرتی تھیں۔
آگے صراحتاً حضرت علی ؓ کا نام آرہا ہے۔
(2)
اس حدیث سے ثابت ہوا مدت مسح (موزوں پر)
مسافر کے لیے تین دن اور تین رات ہے، اور مقیم کے لیے ایک دن اور ایک رات ہے، ہاں غسل کی صورت میں موزے اتارنے ہوں گے۔
اس لیے امام مالک  کی طرف منسوب قول: کہ مسح کے لیے کوئی مدت مقررنہیں درست نہیں ہے۔
(3)
جب کسی عالم سے کوئی مسئلہ پوچھاجائے اور اس سے بہتر بتانے والا موجود ہو تو اسے سائل کو اس سے پوچھنےکے لیے کہنا چاہیے۔
درج بالا اقتباس تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 639 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: سنن نسائي / حدیث: 129 کی شرح از حافظ محمد امین ✍️
´مقیم کے لیے موزوں پر مسح کے بارے میں وقت کی تحدید کا بیان۔`
شریح بن ہانی کہتے ہیں کہ میں نے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے موزوں پر مسح کے متعلق دریافت کیا، تو انہوں نے کہا: علی رضی اللہ عنہ سے جا کر پوچھو، وہ اس بارے میں مجھ سے زیادہ جانتے ہیں، چنانچہ میں علی رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور ان سے مسح کے متعلق دریافت کیا؟ تو انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں حکم دیتے تھے کہ مقیم ایک دن ایک رات، اور مسافر تین دن اور تین راتیں مسح کرے ۱؎۔ [سنن نسائي/صفة الوضوء/حدیث: 129]
129۔ اردو حاشیہ: ➊ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے خود جواب دینے کی بجائے حضرت علی رضی اللہ عنہ کی طرف رہنمائی فرمائی کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا عمومی مسح گھر سے باہر ہی تھا، اس لیے حضرت عائشہ کو مسح کے مسائل سے متعلق پوری معلومات شاید نہ ہوں۔
➋ مقیم سے مراد وہ شخص ہے جو اپنے گھر میں ٹھہرا ہوا ہو یا سفر کے دوران میں کسی جگہ اقامت کی نیت سے رہائش اختیار کر لے۔
➌ جس مسئلے کا علم نہ ہو، اس کے متعلق اہل علم سے پوچھ لینا چاہیے۔
درج بالا اقتباس سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 129 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابن ماجه / حدیث: 552 کی شرح از مولانا عطا اللہ ساجد ✍️
´مقیم اور مسافر کے لیے مسح کی مدت کا بیان۔`
شریح بن ہانی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے موزوں پر مسح کے متعلق پوچھا تو انہوں نے کہا: علی رضی اللہ عنہ کے پاس جاؤ، اور ان سے پوچھو، اس لیے کہ وہ اس مسئلہ کو مجھ سے زیادہ بہتر جانتے ہیں، چنانچہ میں علی رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور ان سے مسح کے متعلق سوال کیا تو انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہم کو حکم دیتے تھے کہ مقیم ایک دن اور ایک رات، اور مسافر تین دن تک مسح کرے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الطهارة وسننها/حدیث: 552]
اردو حاشہ: (1)
  اس سے معلوم ہوا کہ موزوں پر مسح کی مدت مقرر ہے اور یہ مدت مسافر کے لیے مقیم سے زیادہ ہے۔

(2)
اگر مسافر موزے نہ اتارے تو تین دن رات اور مقیم ایک دن رات تک وضو میں پاؤں دھونے کے بجائے صرف مسح پر اکتفاء کرسکتا ہے۔
موزے اتارنے کی صورت میں پاؤں دھونا ضروری ہیں۔

(3)
مسح کی ابتداء حدث کے بعد پہلے مسح شمار کی جائے گی۔

(4)
سائل کو اپنے بڑے عالم کے پاس جانے کو کہنا علم چھپانے میں شامل نہیں بلکہ حقیقت کا اظہار اور دوسرے کے علم وفضل کا اعتراف ہے جس سے تواضع کا اظہار ہوتا ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 552 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: مسند الحميدي / حدیث: 46 کی شرح از محمد ابراہیم بن بشیر ✍️
46- شریح بن ہانی بیان کرتے ہیں: میں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے موزوں پر مسح کرنے کے بارے میں دریافت کیا، تو انہوں نے فرمایا: تم سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کے پاس جاکر ان سے یہ سوال کرو، کیونکہ وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ جنگوں میں شریک ہوتے رہے۔ راوی کہتے ہیں: میں نھے سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے یہ سوال کیا، تو انہوں نے ارشاد فرمایا: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم یہ ارشاد فرماتے تھے۔ "مقیم کے لئے اس کی مدت ایک دن اور ایک رات، جبکہ مسافر کے لئے تین دن اور تین راتیں ہیں۔ " [مسند الحمیدی/حدیث نمبر:46]
فائدہ:
اس حدیث میں موزوں اور جرابوں پر مسح کی مدت بیان ہوئی ہے کہ مقیم کے لیے ایک دن اور ایک رات اور مسافر کے لیے تین دن اور تین راتیں ہیں، یعنی اتنی مدت مسح کیا جا سکتا ہے۔ یہ بھی معلوم ہوا کہ سائل کو اپنے سے بڑے عالم کے پاس جانے کو کہنا علم چھپانا نہیں ہے، بلکہ اہل علم کی قدر اور شریعت کے امور میں غلطی سے بچنے کا باعث ہے، اور اس سے تواضع کا اظہار ہوتا ہے۔
درج بالا اقتباس مسند الحمیدی شرح از محمد ابراهيم بن بشير، حدیث/صفحہ نمبر: 46 سے ماخوذ ہے۔