صحيح مسلم
كتاب الطهارة— طہارت کے احکام و مسائل
باب التَّوْقِيتِ فِي الْمَسْحِ عَلَى الْخُفَّيْنِ: باب: موزوں پر مسح کرنے کی مدت۔
وحَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْحَنْظَلِيُّ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا الثَّوْرِيُّ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ قَيْسٍ الْمُلَائِيِّ ، عَنِ الْحَكَمِ بْنِ عُتَيْبَةَ ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُخَيْمِرَةَ ، عَنْ شُرَيْحِ بْنِ هَانِئٍ ، قَالَ : أَتَيْتُ عَائِشَةَ ، أَسْأَلُهَا عَنِ الْمَسْحِ عَلَى الْخُفَّيْنِ ؟ فَقَالَتْ : عَلَيْكَ بِابْنِ أَبِي طَالِبٍ ، فَسَلْهُ ، فَإِنَّهُ كَانَ يُسَافِرُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَسَأَلْنَاهُ ، فَقَالَ : جَعَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ وَلَيَالِيَهُنَّ لِلْمُسَافِرِ ، وَيَوْمًا وَلَيْلَةً لِلْمُقِيمِ " ، قَالَ : وَكَانَ سُفْيَانُ إِذَا ذَكَرَ عَمْرًا أَثْنَى عَلَيْهِ .عبدالرزاق نے کہا: ہمیں سفیان ثوری نے عمرو بن قیس ملائی سے حدیث سنائی، انہوں نے حکم بن عتیبہ سے، انہوں نے قاسم بن مخیمرہ سے، انہوں نے شریح بن ہانی سے روایت کی، انہوں نے کہا: میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس موزوں پر مسح کے بارے میں پوچھنے کی غرض سے حاضر ہوا تو انہوں نے کہا: ابن ابی طالب کے پاس جاؤ اور ان سے پوچھو کیونکہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سفر کیا کرتے تھے۔ ہم نے ان سے پوچھا تو انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مسافر کے لیے تین دن اور تین راتیں اور مقیم کے لیے ایک دن اور ایک رات (کا وقت) مقرر فرمایا۔ (عبدالرزاق نے) کہا: سفیان (ثوری) جب بھی عمرو (بن قیس ملائی) کا تذکرہ کرتے تو ان کی تعریف کرتے۔
وحَدَّثَنَا إِسْحَاق ، أَخْبَرَنَا زَكَرِيَّاءُ بْنُ عَدِيٍّ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَبِي أُنَيْسَةَ ، عَنِ الْحَكَمِ ، بِهَذَا الإِسْنَادِ مِثْلَهُ .زید بن ابی انیسہ نے حکم سے مذکورہ سند کے ساتھ اس (سابقہ حدیث) کے مانند حدیث بیان کی۔
وحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنِ الْحَكَمِ ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُخَيْمِرَةَ ، عَنْ شُرَيْحِ بْنِ هَانِئٍ ، قَالَ : سَأَلْتُ عَائِشَةَ عَنِ الْمَسْحِ عَلَى الْخُفَّيْنِ ، فَقَالَتْ : ائْتِ عَلِيًّا ، فَإِنَّهُ أَعْلَمُ بِذَلِكَ مِنِّي ، فَأَتَيْتُ عَلِيًّا فَذَكَرَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، بِمِثْلِهِ .شریح بن ہانی رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں: کہ میں نے موزوں پر مسح کا مسئلہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا: تو انہوں نے کہا: ”علی رضی اللہ عنہ کے پاس جاؤ! کیونکہ وہ یہ مسئلہ مجھ سے زیادہ جانتے ہیں“ تو میں علی رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا، تو انہوں نے مذکورہ بالا مسئلہ، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان فرمایا۔
تشریح، فوائد و مسائل
(1)
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ حضرت عائشہ ؓ حضرت علی ؓ کا نام لینے یا ان کا ذکر خیر کرنے میں کوئی انقباض محسوس نہیں کرتی تھیں، اس لیے نبی اکرم ﷺ کی مرض الموت میں جو دو آدمی آپ کو مسجد میں سہارا د ے کر لے گئے، ان میں سے ایک کا نام لینا اوردوسرے کا نام نہ لینا اس بناء پر نہیں تھا کہ آپ اس کا نام لینا پسند نہیں کرتی تھیں۔
آگے صراحتاً حضرت علی ؓ کا نام آرہا ہے۔
(2)
اس حدیث سے ثابت ہوا مدت مسح (موزوں پر)
مسافر کے لیے تین دن اور تین رات ہے، اور مقیم کے لیے ایک دن اور ایک رات ہے، ہاں غسل کی صورت میں موزے اتارنے ہوں گے۔
اس لیے امام مالک کی طرف منسوب قول: کہ مسح کے لیے کوئی مدت مقررنہیں درست نہیں ہے۔
(3)
جب کسی عالم سے کوئی مسئلہ پوچھاجائے اور اس سے بہتر بتانے والا موجود ہو تو اسے سائل کو اس سے پوچھنےکے لیے کہنا چاہیے۔
شریح بن ہانی کہتے ہیں کہ میں نے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے موزوں پر مسح کے متعلق دریافت کیا، تو انہوں نے کہا: علی رضی اللہ عنہ سے جا کر پوچھو، وہ اس بارے میں مجھ سے زیادہ جانتے ہیں، چنانچہ میں علی رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور ان سے مسح کے متعلق دریافت کیا؟ تو انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں حکم دیتے تھے کہ مقیم ایک دن ایک رات، اور مسافر تین دن اور تین راتیں مسح کرے ۱؎۔ [سنن نسائي/صفة الوضوء/حدیث: 129]
➋ مقیم سے مراد وہ شخص ہے جو اپنے گھر میں ٹھہرا ہوا ہو یا سفر کے دوران میں کسی جگہ اقامت کی نیت سے رہائش اختیار کر لے۔
➌ جس مسئلے کا علم نہ ہو، اس کے متعلق اہل علم سے پوچھ لینا چاہیے۔
شریح بن ہانی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے موزوں پر مسح کے متعلق پوچھا تو انہوں نے کہا: علی رضی اللہ عنہ کے پاس جاؤ، اور ان سے پوچھو، اس لیے کہ وہ اس مسئلہ کو مجھ سے زیادہ بہتر جانتے ہیں، چنانچہ میں علی رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور ان سے مسح کے متعلق سوال کیا تو انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہم کو حکم دیتے تھے کہ مقیم ایک دن اور ایک رات، اور مسافر تین دن تک مسح کرے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الطهارة وسننها/حدیث: 552]
اس سے معلوم ہوا کہ موزوں پر مسح کی مدت مقرر ہے اور یہ مدت مسافر کے لیے مقیم سے زیادہ ہے۔
(2)
اگر مسافر موزے نہ اتارے تو تین دن رات اور مقیم ایک دن رات تک وضو میں پاؤں دھونے کے بجائے صرف مسح پر اکتفاء کرسکتا ہے۔
موزے اتارنے کی صورت میں پاؤں دھونا ضروری ہیں۔
(3)
مسح کی ابتداء حدث کے بعد پہلے مسح شمار کی جائے گی۔
(4)
سائل کو اپنے بڑے عالم کے پاس جانے کو کہنا علم چھپانے میں شامل نہیں بلکہ حقیقت کا اظہار اور دوسرے کے علم وفضل کا اعتراف ہے جس سے تواضع کا اظہار ہوتا ہے۔
اس حدیث میں موزوں اور جرابوں پر مسح کی مدت بیان ہوئی ہے کہ مقیم کے لیے ایک دن اور ایک رات اور مسافر کے لیے تین دن اور تین راتیں ہیں، یعنی اتنی مدت مسح کیا جا سکتا ہے۔ یہ بھی معلوم ہوا کہ سائل کو اپنے سے بڑے عالم کے پاس جانے کو کہنا علم چھپانا نہیں ہے، بلکہ اہل علم کی قدر اور شریعت کے امور میں غلطی سے بچنے کا باعث ہے، اور اس سے تواضع کا اظہار ہوتا ہے۔