صحيح مسلم
كتاب التوبة— توبہ کا بیان
باب قَبُولِ التَّوْبَةِ مِنَ الذُّنُوبِ وَإِنْ تَكَرَّرَتِ الذُّنُوبُ وَالتَّوْبَةُ: باب: گناہوں کی توبہ کا قبول ہونا خواہ گناہ اور توبہ بار بار ہوں۔
حَدَّثَنِي حَدَّثَنِي عَبْدُ الْأَعْلَى بْنُ حَمَّادٍ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي عَمْرَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيمَا يَحْكِي عَنْ رَبِّهِ عَزَّ وَجَلَّ قَالَ : " أَذْنَبَ عَبْدٌ ذَنْبًا ، فَقَالَ : اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي ذَنْبِي ، فَقَالَ تَبَارَكَ وَتَعَالَى : أَذْنَبَ عَبْدِي ذَنْبًا ، فَعَلِمَ أَنَّ لَهُ رَبًّا يَغْفِرُ الذَّنْبَ ، وَيَأْخُذُ بِالذَّنْبِ ثُمَّ عَادَ ، فَأَذْنَبَ ، فَقَالَ : أَيْ رَبِّ اغْفِرْ لِي ذَنْبِي ، فَقَالَ تَبَارَكَ وَتَعَالَى : عَبْدِي أَذْنَبَ ذَنْبًا ، فَعَلِمَ أَنَّ لَهُ رَبًّا يَغْفِرُ الذَّنْبَ وَيَأْخُذُ بِالذَّنْبِ ، ثُمَّ عَادَ ، فَأَذْنَبَ ، فَقَالَ : أَيْ رَبِّ اغْفِرْ لِي ذَنْبِي ، فَقَالَ تَبَارَكَ وَتَعَالَى : أَذْنَبَ عَبْدِي ذَنْبًا ، فَعَلِمَ أَنَّ لَهُ رَبًّا يَغْفِرُ الذَّنْبَ ، وَيَأْخُذُ بِالذَّنْبِ اعْمَلْ مَا شِئْتَ ، فَقَدْ غَفَرْتُ لَكَ ، قَالَ عَبْدُ الْأَعْلَى : لَا أَدْرِي ، أَقَالَ فِي الثَّالِثَةِ أَوِ الرَّابِعَةِ اعْمَلْ مَا شِئْتَ " ،عبدالاعلیٰ بن حماد نے مجھے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا: ہمیں حماد بن سلمہ نے اسحاق بن عبداللہ بن ابی طلحہ سے حدیث سنائی، انہوں نے عبدالرحمان بن ابی عمرہ سے، انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے رب عزوجل سے نقل کرتے ہوئے فرمایا: ”ایک بندے نے گناہ کیا، اس نے کہا: «اللہم اغفر لی ذنبی» اے اللہ! میرا گناہ بخش دے، تو (اللہ) تبارک و تعالیٰ نے فرمایا: میرے بندے نے گناہ کیا ہے، اس کو پتہ ہے کہ اس کا رب ہے جو گناہ معاف بھی کرتا ہے اور گناہ پر گرفت بھی کرتا ہے، اس بندے نے پھر گناہ کیا تو کہا: «رب اغفر لی ذنبی» میرے رب! میرا گناہ بخش دے، تو (اللہ) تبارک و تعالیٰ نے فرمایا: میرا بندہ ہے، اس نے گناہ کیا ہے تو اسے معلوم ہے کہ اس کا رب ہے جو گناہ بخش دیتا ہے اور (چاہے تو) گناہ پر پکڑتا ہے۔ اس بندے نے پھر سے وہی کیا، گناہ کیا اور کہا: «رب اغفر لی ذنبی» میرے رب! میرے لیے میرا گناہ بخش دے، تو (اللہ) تبارک و تعالیٰ نے فرمایا: میرے بندے نے گناہ کیا تو اسے معلوم ہے کہ اس کا رب ہے جو گناہ بخشتا ہے اور (چاہے تو) گناہ پر پکڑ لیتا ہے، (میرے بندے! اب تو) جو چاہے کر، میں نے تجھے بخش دیا ہے۔“ عبدالاعلیٰ نے کہا: مجھے (پوری طرح) معلوم نہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تیسری بار فرمایا یا چوتھی بار: ”جو چاہے کر۔“
قَالَ أَبُو أَحْمَدَ : حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ زَنْجُويَةَ الْقُرَشِيُّ الْقُشَيْرِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى بْنُ حَمَّادٍ النَّرْسِيُّ بِهَذَا الْإِسْنَادِ ،محمد بن زنجویہ قشیری نے کہا: ہمیں عبدالاعلیٰ بن حماد نرسی نے اسی سند کے ساتھ (یہی) حدیث بیان کی۔
حَدَّثَنِي عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ ، حَدَّثَنِي أَبُو الْوَلِيدِ ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ ، قَالَ : كَانَ بِالْمَدِينَةِ قَاصٌّ يُقَالُ لَهُ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي عَمْرَةَ ، قَالَ : فَسَمِعْتُهُ ، يَقُولُ : سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ ، يَقُولُ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : إِنَّ عَبْدًا أَذْنَبَ ذَنْبًا بِمَعْنَى حَدِيثِ حَمَّادِ بْنِ سَلَمَةَ ، وَذَكَرَ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ أَذْنَبَ ذَنْبًا وَفِي الثَّالِثَةِ قَدْ غَفَرْتُ لِعَبْدِي ، فَلْيَعْمَلْ مَا شَاءَ .ہمام نے کہا: ہمیں اسحاق بن عبداللہ بن ابی طلحہ نے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا: مدینہ میں ایک واعظ تھا جسے عبدالرحمان بن ابی عمرہ کہا جاتا تھا، میں نے اسے کہتے ہوئے سنا کہ میں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کو یہ کہتے ہوئے سنا، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: ”یقیناً ایک بندے نے گناہ کیا“ (آگے) حماد بن سلمہ کی حدیث کے مطابق بیان کیا اور اس نے ”گناہ کیا“ (کے الفاظ) تین بار کہے اور تیسری دفعہ کے بعد کہا: ”میں نے اپنے بندے کو بخش دیا، لہٰذا جو چاہے کرے۔“
تشریح، فوائد و مسائل
اس حدیث میں بھی اللہ کا کلام ایک گہنگار کے متعلق مذکور ہے اور یہ بتلانا بھی مقصد ہے کہ قرآن مجید اللہ کا کلام ہے مگر قرآن مجید کےعلاوہ بھی اللہ کلام کرتا ہے۔
رسول اللہ ﷺصادق المصدوق ہیں۔
آپ نے یہ کلام نقل فرمایا ہے جو لوگ اللہ کے کلام کا انکار کرتےہیں، ان کے نزدیک رسول اللہ ﷺ صادق المصدوق نہیں ہیں۔
اس حدیث سے استغفار کی بھی بڑی فضیلت ثابت ہوئی بشرطیکہ گناہوں سے تائب ہوتا جائے اور استغفار کرتا رہے تو اس کو ضررنہ ہوگا۔
استغفار کی تین شرطیں ہیں۔
گناہ سے الگ ہو جانا، نادم ہونا، آگے کے لیے یہ نیت کرنا کہ اب نہ کروں گا۔
اس نیت کے ساتھ اگر پھر گناہ ہو جائے تو پھر استغفار کرے۔
دوسری حدیث میں ہے اگر ایک دن میں ستر وہی گناہ کرے لیکن استغفار کرتا رہے تو اس نے اصرار نہیں کیا۔
اصرار کے یہ معنی ہیں کہ گناہ پر نادم نہ ہو اس کے پھر کرنے کی نیت رکھے۔
صرف زبان سےاستغفار کرتا رہے کہ ایسا استغفار خود استغفار کے قابل ہے۔
اللهم إنانستغفرك ونتوب إليك فاغفرلنا ياخيرالغافرين آمين-
1۔
مذکورہ حدیث پیش کرنے سےامام بخاری رحمۃ اللہ علیہ کا مقصد یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کا کلام کرنا مبنی برحقیقت ہے، چنانچہ اس حدیث میں اللہ تعالیٰ کا ایک گناہ گار کے متعلق گفتگو کرنا مذکور ہے، نیز یہ بتانا بھی مقصود ہے کہ قرآن مجید اللہ تعالیٰ کا کلام ہے مگر قرآن کے علاوہ بھی اللہ تعالیٰ کلام کرتا ہے جیسا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کلام الٰہی کو ذکرکیا ہے۔
جو لوگ اللہ تعالیٰ کے کلام کا انکار کرتے ہیں وہ گویا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی احادیث کے منکر ہیں۔
2۔
اس حدیث سے استغفار کی فضیلت بھی ثابت ہوتی ہے اور استغفار کی تین شرطیں ہیں: گناہ چھوڑنا، اس پر شرمسار ہونا، پھر اس کے نہ کرنے کا عزم بالجزم (پختہ ارادہ)
کرنا، اگر اس نیت کے ساتھ، پھر گناہ ہو جائے تو استغفار کرنے سے وہ گناہ ختم ہو جائے گا بشرط یہ کہ گناہ پر اصرار نہ کرے۔
اصرار کے معنی ہیں: گناہ پر نادم ہونے کی بجائے اس کے ارتکاب کی نیت رکھے۔
صرف زبانی استغفار پر اکتفا نہ کرے۔
ایسا زبانی استغفار جو دل کی گہرائی سے نہ ہو بجائے خود استغفار کے قابل ہے۔