حدیث نمبر: 2748
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ قَيْسٍ قَاصِّ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ ، عَنْ أَبِي صِرْمَةَ ، عَنْ أَبِي أَيُّوبَ ، أَنَّهُ قَالَ : حِينَ حَضَرَتْهُ الْوَفَاةُ كُنْتُ كَتَمْتُ عَنْكُمْ شَيْئًا سَمِعْتُهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " لَوْلَا أَنَّكُمْ تُذْنِبُونَ لَخَلَقَ اللَّهُ خَلْقًا يُذْنِبُونَ يَغْفِرُ لَهُمْ " .

عمر بن عبدالعزیز کے قصہ گو محمد بن قیس نے ابوصرمہ سے، انہوں نے حضرت ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ جب ان کی وفات کا وقت آیا تو انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہوئی ایک حدیث تم سے چھپا رکھی تھی، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ”اگر تم (لوگ) گناہ نہ کرو تو (تمہاری جگہ) اللہ تعالیٰ ایسی مخلوق کو پیدا فرما دے جو گناہ کریں (پھر اللہ سے توبہ کریں اور) وہ ان کی مغفرت فرما دے۔“

حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ سَعِيدٍ الْأَيْلِيُّ ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، حَدَّثَنِي عِيَاضٌ وَهُوَ ابْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْفِهْرِيُّ ، حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ عُبَيْدِ بْنِ رِفَاعَةَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ كَعْبٍ الْقُرَظِيِّ ، عَنْ أَبِي صِرْمَةَ ، عَنْ أَبِي أَيُّوبَ الْأَنْصَارِيِّ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَنَّهُ قَالَ : " لَوْ أَنَّكُمْ لَمْ تَكُنْ لَكُمْ ذُنُوبٌ يَغْفِرُهَا اللَّهُ لَكُمْ لَجَاءَ اللَّهُ بِقَوْمٍ لَهُمْ ذُنُوبٌ يَغْفِرُهَا لَهُمْ " .

محمد بن کعب قرظی نے ابوصرمہ سے، انہوں نے حضرت ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر تم ایسے ہوتے کہ تمہارے (نامہ اعمال میں کچھ بھی) گناہ نہ ہوتے جن کی اللہ تعالیٰ تمہارے لیے بخشش فرماتا تو وہ ایسی قوم کو (اس دنیا میں) لے آتا جن کے گناہ ہوتے اور وہ ان کے لیے ان (گناہوں) کی مغفرت فرماتا۔“

حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب التوبة / حدیث: 2748
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
تخریج حدیث «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : صحيح مسلم: 2748 | سنن ترمذي: 3539

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ مولانا عبد العزیز علوی
حضرت ابو ایوب رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے مرتے وقت بتایا میں نے تم سے ایک ایسی چیز چھپائی تھی،جو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی تھی، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا،"اگر تم گناہ نہ کرتے ہوتے، اللہ ایسی مخلوق پیدا کرتا جو گناہ کرتی (اور معافی مانگتی) وہ انہیں معاف فرماتا۔" [صحيح مسلم، حديث نمبر:6963]
حدیث حاشیہ: فوائد ومسائل: اس حدیث کا مطلب یہ ہے، انسان خواہ کس قدر بھی نیکی کا اہتمام کرے اور معصیت سے کنارہ کش رہے، پھر بھی وہ نیکی کرنے اور بدی سے بچنے کا حق ادا نہیں کر سکتا، اس لیے اسے ہر وقت توبہ و استغفار کا اہتمام کرنا چاہیے، لیکن بعض لوگ اس حدیث کا مفہوم، اپنی غلط سوچ اور سوء فہمی یا بد فہمی کی بنا پر یہ لے سکتے تھے کہ گناہ کر کے معافی مانگنا، گناہ نہ کرنے سے بہتر ہے، اس لیے وہ گناہ پر دلیر ہو جائے اور اللہ کی مغفرت پر اعتماد کر لینے، حالانکہ معافی مانگنا، یا اس کی مہلت و موقع ملنا ضروری نہیں ہے، جبکہ مقصد یہ ہے کہ گناہ ہوجائے تو مایوس ہو کر توبہ و استغفار سے رکنا نہیں چاہیے، توبہ واستغفار کو ہر حالت میں اپنانا چاہیے۔
گویا مقصد تو توبہ کی ترغیب و تحریص ہے نہ کے گناہ کرنے کی ترغیب وتشویق۔
درج بالا اقتباس تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 2748 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: سنن ترمذي / حدیث: 3539 کی شرح از ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی ✍️
´توبہ و استغفار کی فضیلت اور بندوں پر اللہ کی رحمتوں کا بیان۔`
ابوایوب رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ جب ان کی موت کا وقت قریب آ گیا تو انہوں نے کہا: میں نے تم لوگوں سے ایک بات چھپا رکھی ہے، (میں اسے اس وقت ظاہر کر دینا چاہتا ہوں) میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے: اگر تم لوگ گناہ نہ کرو تو اللہ ایک ایسی مخلوق پیدا کر دے جو گناہ کرتی پھر اللہ انہیں بخشتا ۱؎۔ [سنن ترمذي/كتاب الدعوات/حدیث: 3539]
اردو حاشہ:
وضاحت:
1؎:
صحیح مسلم کی روایت میں ہے (فَیَسْتَغْفِرُوْنَ فَیَغْفِرُلَہُمْ) یعنی وہ گناہ کریں پھر توبہ واستغفار کریں تو اللہ انہیں بخش دیتا ہے، اس سے استغفار اور توبہ کی فضیلت بتانی ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 3539 سے ماخوذ ہے۔