صحيح مسلم
كتاب التوبة— توبہ کا بیان
باب فِي الْحَضِّ عَلَى التَّوْبَةِ وَالْفَرَحِ بِهَا: باب: توبہ کی ترغیب دینے اور توبہ کرنے پر خوش ہونے کا بیان۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، وَجَعْفَرُ بْنُ حُمَيْدٍ ، قَالَ جَعْفَرٌ : حَدَّثَنَا ، وقَالَ يَحْيَى : أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ إِيَادِ بْنِ لَقِيطٍ ، عَنْ إِيَادٍ ، عَنْ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " كَيْفَ تَقُولُونَ بِفَرَحِ رَجُلٍ انْفَلَتَتْ مِنْهُ رَاحِلَتُهُ تَجُرُّ زِمَامَهَا بِأَرْضٍ قَفْرٍ لَيْسَ بِهَا طَعَامٌ وَلَا شَرَابٌ ، ؟ وَعَلَيْهَا لَهُ طَعَامٌ وَشَرَابٌ ، فَطَلَبَهَا حَتَّى شَقَّ عَلَيْهِ ثُمَّ مَرَّتْ بِجِذْلِ شَجَرَةٍ ، فَتَعَلَّقَ زِمَامُهَا فَوَجَدَهَا مُتَعَلِّقَةً بِهِ ؟ " ، قُلْنَا : شَدِيدًا يَا رَسُولَ اللَّهِ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَمَا وَاللَّهِ لَلَّهُ أَشَدُّ فَرَحًا بِتَوْبَةِ عَبْدِهِ مِنَ الرَّجُلِ بِرَاحِلَتِهِ " ، قَالَ جَعْفَرٌ : حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ إِيَادٍ ، عَنْ أَبِيهِ .یحییٰ بن یحییٰ اور جعفر بن حمید نے ہمیں عبیداللہ بن ایاد بن لقیط سے، انہوں نے ایاد سے حدیث بیان کی، انہوں نے حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم اس شخص کی خوشی کے متعلق کیا کہتے ہو جس کی اونٹنی ایسی بے آب و گیاہ زمین میں، جہاں کھانے کی کوئی چیز ہو نہ پینے کی، اپنی نکیل کی رسی کھینچتی ہوئی (کسی طرف) نکل گئی۔ اس کا کھانا اور پانی بھی اسی پر تھا۔ اس شخص نے اسے (بہت) ڈھونڈا حتیٰ کہ تھک کر ہار گیا، پھر وہ (اونٹنی چلتے چلتے) ایک درخت کے ٹنڈ منڈ تنے کے پاس سے گزری تو اس کی نکیل کی رسی اس کے ساتھ اٹک گئی اور اس شخص نے اس (اونٹنی) کو اس (تنے) کے ساتھ لگی کھڑی پا لیا؟“ ہم نے عرض کی: اللہ کے رسول! (اس شخص کی خوشی) بے پناہ ہو گی۔ اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ اپنے بندے کی توبہ پر اس سے کہیں زیادہ خوش ہوتا ہے جتنا یہ شخص اپنی سواری کو پا کر ہوتا ہے۔“ جعفر نے کہا: ہمیں عبیداللہ بن ایاد نے اپنے والد سے حدیث بیان کی۔